بین الاقوامی مسافر پروازوں پر نیا یورپی ٹیکس فی الحال ملتوی
5 مارچ 2014
یورپی یونین نے اس بلاک کی رکن ریاستوں میں بین الاقوامی کمرشل پروازوں کے مسافروں سے ایسے فضائی سفر کے نتیجے میں ماحول کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کے لیے جو ٹیکس متعارف کرانے کا اراداہ کیا تھا، وہ پروگرام کے مطابق اس سال کے شروع سے نافذ العمل ہو جانا چاہیے تھا۔
لیکن فضائی سفر کی یورپی صنعت میں اس نئے ٹیکس کا متعارف کرایا جانا اس لیے مؤخر کر دیا گیا ہے کہ اس بارے میں برسلز کے ارادوں پر بین الاقوامی سطح پر سخت تنقید کی جانے لگی تھی۔
منگل چار مارچ کی شام یونین کی رکن ریاستوں، یورپی پارلیمان کے منتخب نمائندوں اور یورپی کمیشن کے اعلیٰ اہلکاروں کے ایک اجلاس میں اتفاق رائے سے کیے گئے فیصلے کے تحت اس نئے ایئر ٹریول ٹیکس کا نفاذ ملتوی کر دیا گیا۔
اجلاس میں شریک یورپی پارلیمان کے جرمنی سے تعلق رکھنے والے دو ارکان کرسچن ڈیموکریٹ پیٹر لیزے اور سوشل ڈیموکریٹ ماتھایس گروٹے نے اس سہ فریقی اجلاس کے بعد بتایا کہ نیا ماحولیاتی ٹیکس ملتوی کر دیا گیا ہے اور اب یہ غالباﹰ 2017ء سے نافذ العمل ہو سکے گا۔
کئی یورپی ماہرین کے مطابق اس نئے ٹیکس کا متعارف کرایا جانا اس لیے ملتوی کیا گیا ہے کہ یہ امیدیں کافی زیادہ ہیں کہ اسی حوالے سے ایک بین الاقوامی معاہدہ شاید 2016ء تک طے پا جائے گا۔
برسلز میں مصلحت کے تحت کیے جانے والے نئے متفقہ فیصلے پر عمل درآمد کے لیے یہ بات اہم ہے کہ اب اس التواء کی یونین کی رکن ریاستوں اور یورپی پارلیمان کو بھی اپنے اپنے طور پر توثیق کرنا ہو گی۔
یورپی پارلیمان کے ارکان پیٹر لیزے اور ماتھیاس گروٹے کے مطابق یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ التواء کے اس فیصلے کی یورپی پارلیمان کی ماحولیاتی امور کی کمیٹی اور یونین کی رکن ریاستوں کی طرف سے منظوری دے دی جائے گی۔
یورپی یونین میں اس بلاک کے اندر فضائی سفر پر ایسا ماحولیاتی ٹیکس پہلے ہی سے نافذ ہے۔ اس ٹیکس کی ادائیگی کے ساتھ فضائی کمپنیاں اپنی تجارتی پروازوں کے ذریعے یورپی فضائی حدود میں ایک خاص حد تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا باعث بن سکتی ہیں۔
یورپی یونین کی طرف سے اس ٹیکس کا دائرہ کار رکن ملکوں سے شروع ہونے والی یونین سے باہر تک کی بین الاقوامی مسافر پروازوں تک پھیلا دینے کا جو منصوبہ بنایا گیا تھا، اس کی سب سے زیادہ مخالفت امریکا اور روس نے کی تھی۔