بے نظیر بھٹو کون تھيں؟
27 دسمبر 2025
بے نظير بھٹو کی پیدائش 21 جون 1953 کو کراچی ميں ہوئی۔ وہ سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی تھیں، جو 1971 سے 1977 تک پاکستان کے حکمران رہے۔
اعلیٰ تعليم
بے نظير بھٹو نے سن 1973 ميں ہارورڈ یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی میں فلسفہ، سیاسیات اور معاشیات کی تعلیم حاصل کی اور پھر 1977ء میں وہیں سے بین الاقوامی قانون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
ابتدائی سياسی کيريئر
سن 1977 میں تعلیم مکمل کرنے کے فوراً بعد پاکستان واپسی پر ان کے والد کو جنرل محمد ضیاء الحق نے اقتدار سے معزول کر دیا اور خود کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر لیا۔ 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بے نظیر بھٹو اپنے والد کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی علامتی سربراہ بنیں اور 1979 سے 1984 تک مختلف ادوار میں نظر بند رہیں۔
سن 1984 سے 1986ء تک جلاوطنی کے دوران مارشل لا کے خاتمے کے بعد وہ وطن واپس آئیں اور ضیاء الحق کے خلاف سیاسی اپوزیشن کی نمایاں ترین آواز بن گئیں۔ اگست 1988 میں صدر ضیاء الحق طیارہ حادثے میں ہلاک ہو گئے جس کے نتیجے میں ملکی سیاست میں اقتدار کا خلا پیدا ہو گیا۔ بعد ازاں ہونے والے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری۔
وزارت عظمی کی دو مدتيں
یکم دسمبر 1988ء کو بینظیر ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بنیں اور 1977 میں ان کے والد کی حکومت کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والی پہلی سویلین حکومت کی قيادت سنبھالی۔ انہوں نے اپنے آبائی صوبے سندھ سے تعلق رکھنے والے آزاد اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ ایک کمزور اتحاد قائم کیا تاہم صوبے میں نسلی کشیدگی کے باعث اگلے ہی سال یہ اتحادی ان سے الگ ہو گئے۔ ان کی حمایت کے بغیر بے نظیر اپنی حکومت قائم نہ رکھ سکیں۔
اس دوران انہیں فوجی قیادت کے ساتھ کشیدہ تعلقات کا بھی سامنا رہا۔ اگست 1990 میں صدرِ پاکستان غلام اسحاق خان نے بدعنوانی اور دیگر الزامات کے تحت ان کی حکومت برطرف کر دی اور نئے انتخابات کا اعلان کیا۔ اکتوبر سن 1990 کے عام انتخابات میں بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد وہ اپنے حریف نواز شریف کے خلاف پارلیمانی اپوزیشن کی قیادت کرنے لگیں۔
اکتوبر 1993 میں ہونے والے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے اور اس نے بلوچستان کے سوا تمام صوبوں میں، بشمول نواز شریف کے آبائی صوبے اور سیاسی گڑھ پنجاب میں کامیابی حاصل کی۔ اپنی دوسری مدتِ حکومت میں بے نظیر بھٹو نے پاکستان کے خارجہ تعلقات کو بہتر بنانے میں پیش رفت کی، ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا اور سماجی ترقی کے متعدد پروگرام متعارف کرائے۔ اس دوران صدر فاروق لغاری کی صورت میں انہیں ایک مضبوط اتحادی بھی حاصل تھا، جو خود پیپلز پارٹی کے رکن تھے۔
اس کے باوجود پاکستان کو غیر مستحکم معیشت اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا سامنا رہا۔ اسی دوران خاندانی نوعیت کے ایک تنازعے نے انہیں ایک اسکینڈل میں الجھا دیا، جب ان کے بھائی مرتضیٰ بھٹو نے ان کے شوہر آصف علی زرداری پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے۔ بڑھتے ہوئے مسائل کے باعث عوامی اعتماد میں کمی کے پس منظر میں، صدر فاروق لغاری نے نومبر 1996 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا۔
بدعنوانی کے الزامات اور جلاوطنی
سن 1997 کے انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ کم رہا، جن میں بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کو نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ہاتھوں واضح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ کے تعاون سے نواز شریف کی حکومت نے بے نظیر کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کی پیروی جاری رکھی۔ 1999 میں لاہور کی ایک عدالت نے بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری جو 1996 سے مختلف الزامات کے تحت قید تھے، کو بدعنوانی کے جرم میں سزا سنائی۔ تاہم 2001 میں سپریم کورٹ نے حکومتی مداخلت کے شواہد کی بنیاد پر اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
1999 کی فوجی بغاوت کے نتیجے میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی بے نظیر بھٹو کسی سیاسی مفاہمت تک نہ پہنچ سکیں۔ پاکستان واپسی کی صورت میں گرفتاری کے وارنٹس کا سامنا ہونے کے باعث، بے نظیر بھٹو 1990 کی دہائی کے اواخر سے لندن اور دبئی میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے رہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے 2002 کے اس فرمان کے باعث، جس کے تحت وزرائے اعظم کو تیسری مدت کے لیے خدمات انجام دینے سے روک دیا گیا تھا، بے نظیر بھٹو کو اسی سال ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ 2000 میں منظور ہونے والی اس قانون سازی نے بھی ان کی جماعت کے لیے مشکلات پیدا کیں، جس کے تحت عدالت سے سزا یافتہ شخص کو کسی سیاسی جماعت کا عہدہ رکھنے سے نااہل قرار دیا گیا تھا۔
ان رکاوٹوں کے جواب میں پیپلز پارٹی نے نیا راستہ اختیار کیا اور ایک نئی، قانونی طور پر الگ شاخ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز (پی پی پی پی) کے نام سے رجسٹر کی گئی۔ پیپلز پارٹی سے قانونی طور پر علیحدہ اور بے نظیر بھٹو کی قیادت پر عائد پابندیوں سے آزاد اس جماعت نے 2002 کے انتخابات میں حصہ لیا اور نمایاں ووٹ حاصل کیے۔ تاہم فوجی حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے بے نظیر بھٹو کی یہ شرائط کہ ان پر اور ان کے شوہر پر قائم تمام مقدمات واپس لیے جائیں بدستور تسلیم نہ کی گئیں۔
سن 2004 میں بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری ضمانت پر رہا ہوئے اور جلاوطنی کے دوران ان کے ساتھ آ ملے۔ اکتوبر 2007 میں بینظیر بھٹو آٹھ سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد دبئی سے کراچی واپس آئیں۔ ان کی واپسی کے موقع پر ہونے والی تقریبات ایک خودکش حملے کی نذر ہو گئیں، جس میں ان کے متعدد حامی ہلاک ہوئے۔ دسمبر 2007 میں آئندہ پارلیمانی انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران ایک ایسے ہی حملے میں بے نظیر بھٹو کو ہلاک کر دیا گیا۔ ان کی ہلاکت کے بعد پارٹی کی قیادت پہلے ان کے شوہر آصف علی زرداری اور بعد ازاں ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کے سپرد کر دی گئی۔
عاصم سليم مختلف ذرائع کے ساتھ
ادارت: عاطف توقير