تارکین وطن کا جرمن پولیس پر ’غیر انسانی رویہ‘ برتنے کا الزام
6 جولائی 2018
جرمنی کے مشرقی شہر کوٹبُس میں مقیم چیچنیا سے تعلق رکھنے والے پناہ کے متلاشی افراد کا کہنا ہے کہ جرمن پولیس نے انہیں ایک جھگڑے کے بعد دوران حراست کپڑے اتارنے پر مجبور کیا۔ شہری انتظامیہ نے تاہم اس دعوے کی تردید کی ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/M. Helbig
اشتہار
جرمنی کے مشرق میں واقع قریب ایک لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی و الا کوٹبُس نامی شہر ایک مرتبہ پھر مہاجرین سے متعلق ایک تنازعے کی زد میں ہے۔ اس شہر میں مقیم چیچنیا سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کے پچیس سے زائد خاندانوں نے ایک کھلا خط تحریر کیا ہے۔ اس اجتماعی کھلے خط میں مقامی پولیس اور سیاست دانوں پر ناجائز اور نسل پرستی پر مبنی رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اس خط میں کوٹبُس میں مقیم سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے تحفظات کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں مہاجرین کے سماجی انضمام سے لے کر الگ رہائش کے حصول تک کئی طرح کے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مہاجرین کی رہائش گاہوں میں عام طو پر مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن ایک ہی جگہ رہتے ہیں اور ان کے مابین جھگڑوں کے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔
پولیس کا ’غیر انسانی رویہ‘
گزشہ ماہ کی بارہ اور تیرہ تاریخ کو کوٹبُس میں تارکین وطن کی ایک ایسی ہی رہائش گاہ میں افغانستان اور چیچنیا سے تعلق رکھنے والے پناہ کے متلاشی غیر ملکیوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے چیچنیا سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد تارکین وطن کو حراست میں لے لیا تھا۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ پولیس نے دوران حراست ان کے ساتھ غیر انسانی رویہ اختیار کیا۔
ان تارکین وطن کا دعویٰ ہے کہ حراست کے دوران پولیس نے دوا کھانے کے لیے پانی طلب کرنے والے افراد کو پانی مہیا کرنے سے انکار کر دیا اور احتجاج کرنے والوں کو سزا دی۔ اس خط کے مندرجات کے مطابق، ’’پانی مانگنے پر ایک شخص کی پتلون اتروا دی گئی اور باقی وقت اسے صرف انڈرویئر میں قید رکھا گیا۔‘‘
علاوہ ازیں پناہ کے متلاشی ان افراد نے یہ بھی کہا ہے کہ جھگڑے والے دن کے بعد اسائلم سینٹر پر مارے گئے چھاپے کے دوران پولیس نے ایک مہاجر خاتون پر اس کی بیٹی کے سامنے بندوق تان لی، جس کی وجہ سے مہاجر بچی ’صدمہ زدہ‘ ہو گئی۔
شہری انتظامیہ کا موقف
کوٹبُس شہر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ان تارکین وطن کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لیے مذاکرات کرنے کو تیار ہے، تاہم تارکین وطن میں سے کئی نے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا۔
ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کوٹبُس شہر کی انتظامیہ کے ترجمان ژان گلوسمان کا کہنا تھا، ’’آپ ہم سے بات کر سکتے ہیں، آپ کو صرف متعلقہ ادارے کے پاس جانا ہے اور یہ بات سبھی جانتے ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ الزام بھی مسترد کر دیا کہ شہر میں مہاجرین کے لیے قائم کردہ رہائش گاہوں کی صورت حال خراب ہے، گلوسمان کے مطابق، ’’یہ بالکل نارمل اپارٹمنٹ ہیں، جہاں ریٹائر ہونے کے بعد کئی جرمن بھی مقیم ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ کچھ تارکین وطن کو پھر بھی یہ ناکافی لگ رہے ہیں۔‘‘
ش ح/ م م (ربیکا اشٹاؤڈنمائر)
تارکین وطن کی سماجی قبولیت، کن ممالک میں زیادہ؟
’اپسوس پبلک افیئرز‘ نامی ادارے نے اپنے ایک تازہ انڈیکس میں ستائیس ممالک کا جائزہ لے کر بتایا ہے کہ کن ممالک میں غیر ملکیوں کو مرکزی سماجی دھارے میں قبول کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے۔
تصویر: picture-alliance/ dpa
۱۔ کینیڈا
پچپن کے مجموعی اسکور کے ساتھ تارکین وطن کو معاشرتی سطح پر ملک کا ’حقیقی‘ شہری تسلیم کرنے میں کینیڈا سب سے نمایاں ہے۔ کینیڈا میں مختلف مذاہب، جنسی رجحانات اور سیاسی نظریات کے حامل غیر ملکیوں کو مرکزی سماجی دھارے میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ ترک وطن پس منظر کے حامل ایسے افراد کو، جو کینیڈا میں پیدا ہوئے، حقیقی کینیڈین شہری کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/AP Images/N. Denette
۲۔ امریکا
انڈیکس میں امریکا دوسرے نمبر پر ہے جس کا مجموعی اسکور 54 رہا۔ امریکی پاسپورٹ حاصل کرنے والے افراد اور ترک وطن پس منظر رکھنے والوں کو حقیقی امریکی شہری کے طور پر ہی سماجی سطح پر قبول کیا جاتا ہے۔
تصویر: Picture-Alliance/AP Photo/S. Senne
۳۔ جنوبی افریقہ
تارکین وطن کی سماجی قبولیت کے انڈیکس میں 52 کے مجموعی اسکور کے ساتھ جنوبی افریقہ تیسرے نمبر پر ہے۔ مختلف مذاہب کے پیروکار غیر ملکیوں کی سماجی قبولیت کی صورت حال جنوبی افریقہ میں کافی بہتر ہے۔ تاہم 33 کے اسکور کے ساتھ معاشرتی سطح پر شہریت کے حصول کے بعد بھی غیر ملکیوں کو بطور ’حقیقی‘ شہری تسلیم کرنے کا رجحان کم ہے۔
تصویر: Getty Images/AFP/S. Khan
۴۔ فرانس
چوتھے نمبر پر فرانس ہے جہاں سماجی سطح پر غیر ملکی ہم جنس پرست تارکین وطن کی سماجی قبولیت دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ تاہم جنوبی افریقہ کی طرح فرانس میں بھی پاسپورٹ حاصل کرنے کے باوجود تارکین وطن کو سماجی طور پر حقیقی فرانسیسی شہری قبول کرنے کے حوالے سے فرانس کا اسکور 27 رہا۔
تصویر: Reuters/Platiau
۵۔ آسٹریلیا
پانچویں نمبر پر آسٹریلیا ہے جس کا مجموعی اسکور 44 ہے۔ سماجی سطح پر اس ملک میں شہریت حاصل کر لینے والے غیر ملکیوں کی بطور آسٹریلین شہری شناخت تسلیم کر لی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں غیر ملکی افراد کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو بھی معاشرہ حقیقی آسٹریلوی شہری قبول کرتا ہے۔
تصویر: Reuters
۶۔ چلی
جنوبی افریقی ملک چلی اس فہرست میں بیالیس کے اسکور کے ساتھ چھٹے نمبر پر ہے۔ ہم جنس پرست غیر ملکی تارکین وطن کی سماجی قبولیت کے حوالے سے چلی فرانس کے بعد دوسرا نمایاں ترین ملک بھی ہے۔ تاہم دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ملکی مرکزی سماجی دھارے کا حصہ سمجھنے کے حوالے سے چلی کا اسکور محض 33 رہا۔
تصویر: Reuters/R. Garrido
۷۔ ارجنٹائن
ارجنٹائن چالیس کے مجموعی اسکور کے ساتھ اس درجہ بندی میں ساتویں نمبر پر ہے۔ تارکین وطن کی دوسری نسل اور ہم جنس پرست افراد کی سماجی سطح پر قبولیت کے حوالے سے اجنٹائن کا اسکور 65 سے زائد رہا۔
تصویر: Reuters/R. Garrido
۸۔ سویڈن
سویڈن کا مجموعی اسکور 38 رہا۔ ہم جنس پرست تارکین وطن کی قبولیت کے حوالے سے سویڈن کو 69 پوائنٹس ملے جب کہ مقامی پاسپورٹ کے حصول کے بعد بھی تارکین وطن کو بطور حقیقی شہری تسلیم کرنے کے سلسلے میں سویڈن کو 26 پوائنٹس دیے گئے۔
تصویر: picture-alliance/dpa
۹۔ سپین
تارکین وطن کی سماجی قبولیت کے لحاظ سے اسپین کا مجموعی اسکور 36 رہا اور وہ اس فہرست میں نویں نمبر پر ہے۔ ہسپانوی شہریت کے حصول کے بعد بھی غیر ملکی افراد کی سماجی قبولیت کے ضمن میں اسپین کا اسکور محض 25 جب کہ تارکین وطن کی دوسری نسل کو حقیقی ہسپانوی شہری تسلیم کرنے کے حوالے سے اسکور 54 رہا۔
تصویر: picture-alliance/Eventpress
۱۰۔ برطانیہ
اس درجہ بندی میں پینتیس کے مجموعی اسکور کے ساتھ برطانیہ دسویں نمبر پر ہے۔ اسپین کی طرح برطانیہ میں بھی تارکین وطن کی دوسری نسل کو برطانوی شہری تصور کرنے کا سماجی رجحان بہتر ہے۔ تاہم برطانوی پاسپورٹ حاصل کرنے کے بعد بھی تارکین وطن کو حقیقی برطانوی شہری تسلیم کرنے کے حوالے سے برطانیہ کا اسکور تیس رہا۔
تصویر: Reuters/H. Nicholls
۱۶۔ جرمنی
جرمنی اس درجہ بندی میں سولہویں نمبر پر ہے۔ جرمنی میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی سماجی قبولیت کینیڈا اور امریکا کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ اس حوالے سے جرمنی کا اسکور محض 11 رہا۔ اسی طرح جرمن پاسپورٹ مل جانے کے بعد بھی غیر ملکیوں کو جرمن شہری تسلیم کرنے کے سماجی رجحان میں بھی جرمنی کا اسکور 20 رہا۔
تصویر: Imago/R. Peters
۲۱۔ ترکی
اکیسویں نمبر پر ترکی ہے جس کا مجموعی اسکور منفی چھ رہا۔ ترکی میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو سماجی سطح پر ترک شہری تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اس ضمن میں ترکی کو منفی بارہ پوائنٹس دیے گئے۔ جب کہ پاسپورٹ کے حصول کے بعد بھی تارکین وطن کو حقیقی ترک شہری تسلیم کرنے کے حوالے سے ترکی کا اسکور منفی بائیس رہا۔