تارکین وطن کے بچوں کے لیے تربیتی مواقع بہتر بنائیں گے، میرکل
2 دسمبر 2014
قدامت پسندوں کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین سے تعلق رکھنے والی اور سوشل ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر بنائی گئی موجودہ وسیع تر مخلوط حکومت کی سربراہ انگیلا میرکل نے پیر کے روز ملکی دارالحکومت برلن میں غیر ملکیوں کے جرمن معاشرے میں بہتر سماجی انضمام کے موضوع پر اہتمام کردہ ایک سرکاری کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تارکین وطن کے پس منظر والے نوجوانوں کے لیے تربیتی مواقع کی صورت حال بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
جرمن سربراہ حکومت کے مطابق اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ یورپی یونین کے سب سے زیادہ آبادی والے اس ملک میں تارکین وطن کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے روزگار کی قومی منڈی میں داخلے کی رفتار میں بھی اضافہ کیا جائے۔
انگیلا میرکل نے کانفرنس کے شرکاء سے اپنے خطاب میں یہ اعتراف بھی کیا کہ جرمنی میں یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ روزگار کے لیے دی گئی کئی درخواستیں محض اس وجہ سے ناکام رہتی ہیں کہ درخواست دہندہ کا نام غیر ملکی ہوتا ہے۔
جرمن سربراہ حکومت نے ملک کے تمام 16 وفاقی صوبوں کے نمائندوں، کاروباری شعبے کی نمائندہ تنظیموں کے عہدیداروں، ٹریڈ یونینوں اور تارکین وطن کے مفادات کی نمائندگی کرنے والی تنظیموں کو دعوت دی کہ وہ چانسلر آفس کے ساتھ مل کر اس بحث میں شامل ہوں کہ تارکین وطن کے بچوں کی نئی نسل کو پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی کے عمل میں درپیش مشکلات پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے۔
اس حکومتی کانفرنس میں جرمنی میں غیر ملکیوں کے بہتر سماجی انضمام کی نگران خاتون کمشنر آئیدان اوزوگُوز بھی خاص طور پر شریک ہوئیں۔ جرمن حکومت کی کوشش ہے کہ ملک میں دیگر معاشروں سے آئے ہوئے تارکین وطن اور ان کے روزگار کی عمر کے بچوں کے لیے مختلف شعبوں میں پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع میں واضح اضافہ کیا جائے۔
اسی پس منظر میں چانسلر میرکل نے کل پیر کے روز سماجی انضمام کی نگران وفاقی کمشنر آئیدان اوزوگُوز کے ساتھ مل کر برلن میں پبلک ٹرانسپورٹ کے بلدیاتی محکمے کے دورہ بھی کیا۔
برلن کی یہ پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹی بڑی سرگرمی سے اپنے ہاں ایسے درخواست دہندگان کو بھرتی کرتی ہے، جو تارکین وطن کے سماجی پس منظر کے حامل ہوتے ہیں۔ وفاقی جرمن حکومت اس ادارے کو ملک میں اس حوالے سے دیگر تمام عوامی اور نجی اداروں کے لیے رول ماڈل سمجھتی ہے۔