زمين کے کارکن يا ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچانے والا گروہ؟
29 مئی 2023
تحفظ ماحول کے ليے سرگرم کارکنان اور گروپوں ميں غصہ بڑھتا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ان کے احتجاج کے طريقوں ميں بھی شدت آتی جا رہی ہے۔ يورپی ممالک کی حکومتوں کو اب يہ طے کرنا ہے کہ ايسے کارکنان سے کيسے نمٹا جائے، ان سے مکالمت کر کے يا ان پر سختی کر کے؟
گزشتہ ہفتے تحفظ ماحول کے ليے سرگرم کارکن یورپی سطح پر شہ سرخيوں ميں رہے۔
پہلی عالمی جنگ میں بے نظیر ماحولیاتی نقصان
تحفظ ماحول کے لیے جانیں قربان کرنے والے سینکڑوں محافظین
کیا ماحولیاتی کارکن احتجاج کی قانونی حدیں پھلانگ رہے ہیں؟
ہفتے کے اختتام پر ڈچ پولیس نے تقریباً 1,500 مظاہرين کو اس وقت گرفتار کر ليا جب وہ پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب موٹر وے کے ایک حصے کو بلاک کيے ہوئے تھے۔ جرمنی میں پولیس اور استغاثہ نے متنازعہ لاسٹ جینریشن یعنی 'آخری نسل‘ گروپ کے خلاف چوبيس مئی کو ملک گیر سطح پر کریک ڈاؤن شروع کیا۔ اس گروپ پر میونخ میں 'مجرمانہ تنظیم کی تشکیل یا حمایت‘ کا الزام ہے، جس کی وجہ سے کئی کارکنوں کے گھروں کی تلاشی لی گئی اور گروپ کی ویب سائٹ بند کرا دی گئی۔ چار دن قبل اٹلی میں اسی گروپ کے کارکنوں نے روم کے معروف زمانہ ٹریوی فاؤنٹین میں ایک سیاہ مائع ڈال کر احتجاج کیا تھا۔ ان کے بینر میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ 'فوسل فيول کے لیے سبسڈی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔‘
’لاسٹ جینریشن‘ اٹلی کے رکن مشیل نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ ایک علامتی عمل تھا۔ انہوں نے کہا، ''سیاہ رنگ کاربن فوسل ایندھن کی نمائندگی کرتا ہے جس نے پانی کو آلودہ کيا۔ ہم نے سیاحوں کو چند گھنٹوں کے لیے صاف پانی سے محروم کرنے کا فیصلہ کیا تا کہ وہ سمجھ سکیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا کیا مطلب ہے۔‘‘
اٹلی میں سخت ردعمل
دارالحکومت روم کے میئر روبرٹو گلٹیری نے احتجاج کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی صفائی کے ليے تقریباً 300,000 لیٹر پانی کو تبدیل کرنا پڑے گا اور کافی مقدار میں توانائی بھی درکار ہو گی۔ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور اب انہیں سخت سزاؤں کا سامنا ہے۔ ثقافتی املاک کو نقصان پہنچانے پر پر مجرمان کو 10,000 سے 060,00 یورو کے درمیان جرمانہ ہو سکتا ہے۔
روم میں سینٹر فار یورپین پالیسی کی ڈائریکٹر آندریا ڈی پیٹریس نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''سیاستدانوں نے شروع سے ہی اس طرح کے احتجاجی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔ اب تک جارجیا میلونی کی حکومت نے اس معاملے پر کوئی سمجھ بوجھ نہیں دکھائی۔تاہم اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا آيا حاليہ ماحولیاتی تباہی کے تناظر میں معاشرے کا اس مسئلے پر کیا موقف بدلے گا۔‘‘ ایمیلیا روماگنا صوبے میں حاليہ تباہ کن بارشوں اور سیلاب کے بعد 14 اموات کے ساتھ اٹلی میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات تیزی سے نمایاں ہو رہے ہيں۔
جرمنی میں کاریں، اٹلی میں ثقافت
جرمنی میں 'لاسٹ جینریشن‘ کے احتجاج بنیادی طور پر کار کے استعمال اور ٹریفک پالیسی کے خلاف ہیں۔ دوسری جانب اٹلی میں اس گروپ کے کارکن ثقافتی اثاثوں کو نشانہ بنا رہے ہيں۔ اہداف میں فلورنس میں Palazzo Vecchio شامل ہے، جس پر نارنجی رنگ کا اسپرے کیا گیا تھا۔ روم میں ہسپانوی اسٹیپس ان کو سیاہ رنگ ميں لپيٹ کر نشانہ بنایا گیا، اور ونسنٹ وان گوخ کے ایک کام پر مٹر کا سوپ پھينکا گيا۔
اطالوی حکام موسمیاتی تحفظ کے کارکنوں کی طرف سے جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ شمالی شہر پڈووا میں دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے میں مہارت رکھنے والی ریاستی یونٹ کی مدد سے مجرمانہ تنظیم کی تشکیل کے لیے گروپ کی چھان بین کی جا رہی ہے۔
برطانیہ میں ناکہ بندی ختم
یورپ کے موسمیاتی کارکنان اپنی کوششوں کو مربوط کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ جبکہ ناقدین مزید بنیاد پرستی سے انتباہ کر رہے ہيں۔ جرمنی میں 'لاسٹ جینريشن‘ کے کارکنوں نے حال ہی میں وزیر ٹرانسپورٹ فولکر وِسنگ کے ساتھ بات چيت کی۔ لیکن اٹلی میں ایسی ملاقات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت پورے یورپ میں سیاست دانوں کو اس سوال کا سامنا ہے کہ آخری نسل جیسی تنظیموں سے کیسے نمٹا جائے۔ جرمنی میں اس موضوع پر مختلف عوامی آراء اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ کام کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ع س / ا ا (نیوز ایجنسیاں)