ترقیاتی امداد صحیح ہاتھوں تک نہیں پہنچ پا رہی
10 جنوری 2015
تنزانیہ کے سب سے بڑے شہر اور ملکی دارالحکومت دارالاسلام میں ملیریا سے بچاؤ کے لیے مچھر دانیاں تقسیم کی گئی ہیں۔ مچھر دانیوں کے اخراجات بین الاقوامی ترقیاتی فنڈ نے برداشت کیے ہیں۔ اس اقدام کے بعد تزانیہ اور سب صحارہ کے دیگر افریقی ممالک میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں ملیریا کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ صحت کے شعبے میں ہونے والی اس کامیابی کے باوجود اس مقصد کے لیے دی جانے والی امداد سے چلائے جانے والے تمام منصوبے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پا رہے۔
2013ء میں تقریباً پونے دو ارب یورو ترقیاتی امداد تنہا تنزانیہ کو دی گئی۔ سب صحارہ کے ممالک میں سب سے زیادہ امداد تنزانیہ کو دی جاتی ہے۔ اس کے باوجود اس ملک کی نصف سے زائد آبادی کو انتہائی غربت کا سامنا ہے اور ان میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔
ڈی ڈبلیو کے نامہ نگار نے دارالاسلام کی سڑکوں پر موجود افراد سے جب اس امداد کے بارے میں دریافت کیا تو ایک بچے نے بتایا، ’’یہ پیسہ مستحق افراد تک نہیں پہنچ پاتا۔ صرف چند افراد ہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں‘‘۔
ایک اور راہ گیر نے بتایا،’’ اگر اسکول تعمیر کیے جائیں تو اس کے لیے جدید عمارتوں اور اساتذہ کی بھی ضرورت ہو گی۔ یقیناً ترقیاتی امداد سے یہ سب کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ پیسہ غلط ہاتھوں میں جائے گا تو کچھ بھی نہیں ہو گا‘‘۔
اسی طرح ایک مزدور نے بتایا کہ وہ ملک کی ترقی کے لیے بہت محنت سے کام کرتا ہے اور یہ کسی بیرونی امداد پر بھروسہ کرنے سے بہتر ہے۔ کیونکہ ترقیاتی امداد سے بدعنوانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تنزانیہ کے توانائی کے شعبے میں بدعنوانی کے واقعات سامنے آنے کے بعد امداد دینے والے ممالک نے ترقیاتی فنڈ کو محدود کر دیا تھا اور تقریباً چار سو ملین کی امداد بھی منجمد کر دی تھی۔ اس کے بعد آٹھ جنوری 2015ء کو معاملے کی چھان بین کے بعد ڈونرز نے صرف 15 ملین ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا تھا۔ ان ممالک کے مطابق بدعنوانی کے معاملات کی مکمل اور شفاف چھان بین کے بعد ہی ترقیاتی امداد کو پہلے کی طرح بحال کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔