1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تجارتترکی

ترکی اور ایران نے ایک نئے ریلوے منصوبے کا علان کر دیا

رابعہ بگٹی ایجنسیاں
30 نومبر 2025

ایران اور ترکی نے 200 کلومیٹر طویل نئی ریلوے لائن کی تعمیر پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ نیا منصوبہ ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارتی نقل و حمل کے لیے ایک اہم راہداری ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ ریلوے لائن 200 کلو میٹر طویل ہو گی اور اس کی تکمیل پر ایک اعشاریہ چھ بلین ڈالر تک کی لاگت آئے گی۔
یہ ریلوے لائن 200 کلو میٹر طویل ہو گی اور اس کی تکمیل پر ایک اعشاریہ چھ بلین ڈالر تک کی لاگت آئے گی۔تصویر: Giulia Segreti/REUTERS

ایران اور ترکی نے ایک نئے مشترکہ ریلوے ٹریک کی تعمیر پر اتفاق کیا ہے۔ یہ نیا منصوبہ خطے میں تجارتی نقل و حمل کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل تصور کیا جا رہا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے آج اتوار کے روز بتایا کہ اس منصوبے سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تازہ ترین منصوبہ ریلوے ٹرانزٹ روٹ کے نام سے تعمیر کیا جائے گا۔ یہ لائن ایران سے لے کر ترکی کے سرحدی علاقے آرالک تک پہنچائی جائے گی۔   اس منصوبے کو مکمل ہونے میں تین سے چار سال لگ سکتے ہیں۔

ایران کی وزیرِ ٹرانسپورٹ فرزانہ صادق نے قبل ازیں کہا تھا کہ یہ نئی ریلوے لائن سلک روڈ کے جنوبی حصے کو جدید آل ریل کاریڈور میں تبدیل کر دے گی جس سے سامان کی ترسیل تیز، کم خرچ اور غیر ضروری رکاوٹوں کے بغیر ممکن ہو  سکے گی۔

شمال مشرقی ترکی میں رازی-کاپیکوئی سرحدی کراسنگ پر ایرانی اور ترکی کے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔تصویر: Yasin Akgul/AFP

ہفتے کو ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں عراقچی نے کہا کہ دونوں ممالک نے باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے رکاوٹیں دور کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ان کے مطابق، "اس نئے منصوبے کی علاقائی اہمیت پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور امید ظاہر کی گئی کہ تعمیر کا آغاز جلد کیا جا سکے گا۔"

سلک روٹ صدیوں تک مشرقی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کو باہم جوڑنے والا تجارتی راستہ رہا ہے۔ 2013 میں چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا آغاز کیا تھا، جسے نیو سلک روڈ کا درجہ دیا جاتا ہے۔

ایران خطے میں بنیادی ڈھانچے اور تجارت کے فروغ کے ذریعے اپنے اوپر عائد سخت پابندیوں سے متاثرہ معیشت کو تقویت دینے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ ریلوے منصوبہ انہی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ادارت: امتیاز احمد

 

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں