1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ترکی اور شام میں زلزلے سے ہلاکتیں اکیس ہزار سے تجاوز

10 فروری 2023

ترکی اور شام میں آنے والے بھیانک زلزلے کے تقریباً 100 گھنٹے بعد بھی امدادی کارکنان جمعے کے روز بھی ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں۔ خطے میں صدی کی بدترین آفات میں سے ایک میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 21000 سے زائد ہو چکی ہے۔

Erdbeben Syrien Aleppo Rettungskräfte aus Armenien
تصویر: AFP

شامی باغیوں کے قبضے والے علاقوں میں اقوام متحدہ کی جانب سے پہلی امداد جمعرات کو پہنچی۔ لیکن تین دن گذر جانے کی وجہ سے ملبے تلے دبے کسی شخص کے بچ جانے کے امکانات معدوم ہوچکے ہیں کیونکہ ماہرین زندہ بچے رہنے کے لیے اسے ایک اہم وقت سمجھتے ہیں۔

سخت سردی کی وجہ سے دونوں ملکوں میں تلاشی کی کوششوں میں کافی رخنہ پڑا ہے۔ تاہم جنوبی ترکی کے شہر انطاکیہ میں 80 گھنٹے بعد 16 سالہ میلدا ادتاس کو زندہ دیکھ کر ان کے والد کے آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل آئے۔ اس ایک اچھی خبر نے بہت سے دیگر مایوس چہروں پر بھی ہلکی سی مسکان بکھیر دی۔

زخمی نوزائیدہ بچی کا نام نہاد ’مہذب دنیا‘ سے مکالمہ

پیر کے روز 7.8 شدت کا زلزلہ ایسے وقت آیا جب لوگ سو رہے تھے۔ زلزلے سے وہ علاقہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے جہاں شام کی خانہ جنگی کی وجہ سے بہت سے لوگ پہلے ہی نقصان سے دوچار اور بے گھر ہو چکے ہیں۔

صدر رجب طیب ایردوآن نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے اور "بعض کوتاہیوں" کا اعتراف بھی کیاتصویر: Mustafa Kamaci/AA/picture alliance

پہلا امدادی قافلہ باغیوں کے قبضے والے علاقے میں پہنچ گیا

اعلیٰ امدادی اہلکار عالمی تنظیم صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس اڈانوم گیبریئسس اور اقوام متحدہ کے انسانی ہمدری کے سربراہ مارٹن گریفتھ کے ساتھ متاثرہ علاقوں کے دورے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کی صدر مرجانا اسپولجارک نے بتایا کہ وہ حلب پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا،"برسوں کی شدید لڑائی کے بعد جدوجہد کرنے والی کمیونٹیز اب زلزلے کی وجہ سے معذور ہوگئی ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ"جیسے ہی یہ المناک واقعہ ختم ہوتا ہے لوگوں کے مایوس کن حالات پر فوری توجہ دی جانی چاہئے۔"

باب الحوا کراسنگ پر ایک عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ امدادی قافلہ جمعرات کے روز ترک سرحد پار کرکے باغیوں کے قبضے والے شمال مغربی شام کے علاقے میں پہنچا۔ زلزلے  کے بعد وہاں جانے والا یہ پہلا امدادی قافلہ تھا۔

یہ واحد کراسنگ ہے جس سے ہوکر اقوام متحدہ کی مدد شامی حکومتی فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں سے گزرے بغیر عوام تک پہنچتی ہے۔

ایک دہائی سے جاری خانہ جنگی اور شامی اور روسی فضائی بمباری نے ہسپتالوں کو تباہ کر دیا ہے، معیشت تباہ ہوچکی ہے اور بجلی، ایندھن اور پانی کی زبردست قلت ہے۔

ترکی میں سن 1939 کے زلزلہ میں 33000 افراد ہلاک ہوگئے تھےتصویر: AP Photo/picture alliance

ایک نئی کراسنگ کھولنے کی اپیل

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹریش نے سلامتی کونسل سے اپیل کی کہ انسانی امداد پہنچانے کے لیے ترکی اور شام کے درمیان ایک نئی کراسنگ کھولنے کا حکم دے۔

باغیوں کے کنٹرول والے علاقوں میں 40لاکھ افراد رہتے ہیں اور وہ باب الحوا کے راستے اقوام متحدہ کی جانب سے پہنچائی جانے والی راحت پر انحصار کر رہے ہیں۔

سائنسی ترقی زلزلوں کا پیشگی پتہ چلانے میں ناکام کیوں؟

گوٹیرش نے کہا کہ، "یہ اتحاد کا وقت ہے، یہ سیاست کرنے کا وقت نہیں ہے اور نہ ہی تقسیم کرنے کا وقت ہے۔ یہ واضح ہے کہ ہمیں بڑے پیمانے پر حمایت کی ضرورت ہے۔"

شامی زلزلہ متاثرین: سیاست پہلے، امداد بعد میں؟

پیرکے روز آنے والا زلزلہ ترکی میں سن 1939 کے زلزلہ، جس میں ارزنجان میں 33000 افراد ہلاک ہوگئے تھے، کے بعد سے سب سے بھیانک زلزلہ تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ترکی میں ہلاکتوں کی تعداد 17674 سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ شام میں کم از کم 3377 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

تباہی کے بعد حالات سے مناسب انداز میں نمٹنے میں حکومت کی مبینہ ناکامی سے ترک عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ حالانکہ صدر رجب طیب ایردوآن نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے اور "بعض کوتاہیوں" کا اعتراف بھی کیا۔

ترکی کے شہر انطاکیہ میں 80 گھنٹے بعد 16 سالہ میلدا ادتاس کو زندہ دیکھ کر ان کے والد کے آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل آئےتصویر: BULENT KILIC/AFP

عالمی امداد کا سلسلہ جاری

چین، بھارت، خلیجی ممالک اور امریکہ سمیت درجنوں ملکوں نے امداد کا وعدہ کیا ہے۔

عالمی بینک نے کہا کہ وہ ترکی کو راحت اور تلاشی کی سرگرمیوں میں مدد کے لیے 1.78ارب ڈالر فراہم کرے گا۔

بینک نے بتایا کہ ترکی کو دو موجودہ پروجیکٹوں کے تحت 780ملین ڈالر کی فوری مدد دی جارہی ہے جب کہ متاثرہ افراد کے لیے ایک ارب ڈالر کی مدد کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

فچ ریٹنگ کا کہنا ہے کہ زلزلے کی وجہ سے جانی نقصان کے علاوہ ترکی کو دو ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوچکا ہے جو چار ارب ڈالر یا اس سے بھی زیادہ تک جا سکتا ہے۔

ج ا/ ص ز (اے ایف پی، اے پی، روئٹرز)

     

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں