1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ترکی اور یورپی یونین کے مابین ’’ ری ایڈمیشن‘‘ معاہدہ

ایس سوکولو / عدنان اسحاق 16 دسمبر 2013

مستقبل میں ترکی کے راستے یورپی یونین میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے والے افراد کو دوبارہ ترکی کے حوالے کر دیا جائے گا۔ جواب میں ترک شہریوں کے لیے یورپی یونین کے ویزے کی پابندی ختم کر دی جائے گی۔

تصویر: picture-alliance/dpa

یورپی یونین اور ترکی کے مابین ہونے والے یہ ری ایڈمیشن یا دوبارہ داخلے سے متعلق معاہدے پر آج پیر 16 دسمبر کو دستخط ہو رہے ہیں۔ تاہم اس معاہدے پر اتفاق رائے گزشتہ ہفتے برسلز میں ہوا تھا۔ اس معاہدے کی رو سے ترکی کے راستے یورپی یونین میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے والے افراد کو اب ترکی واپس بھیج دیا جائے گا۔ جواب میں ترک شہریوں کے لیے یورپی یونین کے ویزے کی پابندی ختم کر دی ہے۔

ماہرین کے بقول یہ اقدام اس معاہدے کے فریقین کے لیے سود مند ہے کیونکہ دونوں کو وہ مقصد حاصل ہو گیا، جس کا وہ گزشتہ کئی برسوں سے مطالبہ کر رہے تھے۔ تاہم اس پیش رفت سے سب سے زیادہ نقصان شام، افغانستان اور دیگر بحرانی خطوں کے اُن افراد کو ہو گا، جو جنگ، بھوک، غربت اور بدامنی سے تنگ آکر ترکی کے راستے یورپی یونین میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

تصویر: DW

ترکی یورپی یونین میں شامل ہونے کی خواہش رکھنے والا وہ واحد ملک ہے، جس کے شہریوں کے لیے ویزے کا حصول ضروری تھا۔ اس وجہ سے ترکی یورپی یونین کو متعدد مرتبہ تنقید کا نشانہ بھی بنا چکا ہے۔ اس سے قبل ترکی نے یہ واضح کر دیا تھا کہ یہ معاہدہ صرف اسی صورت میں پایہ تکمیل تک پہنچے گا جب اِس کے بدلے اُسے کچھ دیا جائے۔ یورپی امور کے ترک وزیر ایگےمن بائش نے ترک نجی ٹیلی وژن چینل این ٹی وی سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک مناسب مدت کے دوران ویزے کی چھوٹ پر عمل نہیں کیا جاتا تو ترکی کے پاس اس معاہدے کو ختم کرنے کا اختیار ہے۔ ان کے بقول ویزے کی پابندی ختم کرنا اور ری ایڈمیشن معاہدہ تین سالوں کے اندر اندر قابل عمل بنایا جائے گا۔

اس دوران یورپی یونین ترکی کو مالی امداد فراہم کرے گی تاکہ وہ سرحدوں پر کیمرے لگائے۔ اس کے علاوہ ایک مرکز بھی تعمیر کیا جائے گا، جہاں مختلف زبانیں بولنے والے ماہرین موجود ہوں گے۔ یہ ماہرین غیر قانونی تارکین وطن سے بات چیت کریں گے تاکہ انہیں جلد از جلد ان کے آبائی ملکوں میں واپس بھیج دیا جائے۔ ترکی میں مختلف حلقوں کا مؤقف ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کی ترکی واپسی سے انقرہ حکومت پر بوجھ بڑھ جائےگا۔ تارکین وطن پر تحقیق کرنے والے ایک ترک ادارے کے مطابق دس برس قبل ترکی میں داخل ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد تقریباً نوے ہزار تھی جو گزشتہ برسوں کے دوران چالیس ہزار رہ گئی ہے۔

تصویر: Georges Gobet/AFP/Getty Images

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس معاہدے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس تنظیم کے بقول مشکلات میں گھرے افراد اب کس ملک میں سیاسی پناہ کی درخواست دے سکیں گے؟ ایمنسٹی کے بقول مستقبل میں اب یورپی یونین سے ایسی کوشش کرنے والے زیادہ افراد کو ترکی واپس بھیجا جائے گا اور انقرہ حکومت یہاں سے انہیں بے دخل کرتے ہوئے ان کے آبائی ممالک روانہ کر دیں گے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں