1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
معاشرہجرمنی

ترکی بدری کے بعد داعش کی مبینہ رکن جرمنی میں گرفتار

27 جولائی 2020

ترکی بدر کر کے جرمنی بھیجی جانے والی ایک خاتون کو دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ سے تعلق کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

Symbolfoto Reisepass vor IS-Flagge
تصویر: picture-alliance/Eibner-Pressefoto/Wuest

ترکی سے بےدخل کی جانے والے یہ جرمن خاتون فرینکفرٹ کے ہوائی اڈے پر پہنچی تو، اسے حراست میں لے لیا گیا۔ اس خاتون کو جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی پامالی میں تعاون جیسے الزامات کا سامنا ہو گا۔

جرمنی: امریکی اڈوں پر حملوں کا پلان، داعش کے شدت پسند گرفتار

جرمنی: حملے کا منصوبہ بنانے کے جرم میں آئی ایس حامی کو دس سال جیل

پیر کے روز جرمن دفتر استغاثہ نے بتایا کہ اس جرمن خاتون پر ایک شدت پسند گروہ کی رکنیت رکھنے، جنگی جرائم میں ملوث ہونے اور دیگر مجرمانہ کارروائی سے متعلق الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

بتایاگیا ہے کہ ترکی سے ڈی پورٹ کر کے جرمنی بھیجی گئی اس خاتون کو جمعے کو فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر تفتیشی حراست میں میں لیا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق یہ خاتون سن 2015 میں اپنی چار سالہ بیٹی کے ہم راہ شام پہنچی تھی اور وہاں اس نے اسلامک اسٹیٹ میں شمولیت اخیتار کی تھی۔ وہیں اس نے جرمنی سے تعلق رکھنے والے ایک جہادی سے شادی کی جب کہ یہ شادی اس دہشت گرد گروہ کی 'میریج ایجنسی‘ کے تحت عمل میں آئی تھی۔

کہا جا رہا ہے کہ اس خاتون نے دہشت گرد گروہ کے زیرقبضے ایک علاقے میں سکونت اختیار کی جب کہ غلام بنائی گئی ایک ایزدی لڑکی کے استحصال میں مدد کی۔

بتایا گیا ہے کہ اسی وجہ سے اس خاتون پر نہ صرف غیر ملکی دہشت گرد گروہ کی رکنیت کے الزام کا سامنا ہے، بلکہ جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں معاونت جیسے الزامات کا بھی سامنا ہے۔ اس خاتون کو اپنے بچی کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ادا کرنے میں کوتاہی کے الزام کا بھی سامنا ہو گا۔

حکام کے مطابق اسلامک اسٹیٹ کی شکست کے بعد اس خاتون کو کرد فورسز نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا اور پھر اسے شام سے ترکی بھیج دیا گیا تھا۔

دوسری جانب یورپی یونین کے عدالتی تعاون کے شعبے یورو جسٹ کی حمایت یافتہ ایجنسی جینوسائڈ نیٹ ورک نے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ سے وابستہ جہادیوں کو شام یا عراق سے اپنے اپنے وطن واپس آنے پر جنگی جرائم کے مقدمات کا سامنا کرنا چاہیے۔ ایسے بہت سے مشتبہ ملزمان کو اس وقت اپنے اپنے ملک کے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمات کا سامنا ہے۔ واضح رہے کہ یورپی یونین نے یہ نیٹ ورک 2002 میں قائم کیا تھا۔ اس کے قیام کا مقصد مختلف یورپی ریاستوں میں استغاثہ اور تفتیش کے درمیان رابطہ کاری تھا۔

ع ت/  ع ا (ڈی پی اے، اے ایف پی)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں