ترکی ميں يو ٹيوب پر پابندی
28 مارچ 2014
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق يو ٹيوب پر جاری کردہ اِن آڈيو فائلز ميں ملکی انٹيليجنس چيف حکان فيدان، وزير خارجہ احمت داؤد اوگلو اور ملٹری اسٹاف کے نائب سربراہ ياسر گليئر سميت ديگر اعلی عہديداران خانہ جنگی کے شکار ملک شام ميں ممکنہ عسکری کارروائی کے موضوع پر بات چيت کر رہے ہيں۔ اگرچہ روئٹرز کے مطابق تاحال اِس آڈيو کے اصلی ہونے کی تصديق نہيں ہو پائی ہے تاہم وزير خارجہ اوگلو نے صحافیوں سے بات چيت کرتے ہوئے يہ تصديق کر دی ہے کہ ايسا اجلاس ہو چکا ہے۔ اُنہوں نے کہا، ’’ہماری قوم اور ترک ری پبلک کے خلاف سائبر اٹيک کيا گيا ہے۔ يہ واضح طور پر ہماری رياست کے خلاف اعلان جنگ ہے۔‘‘
ترک وزارت خارجہ کے مطابق يہ ريکارڈنگ شام ميں جاری مسلح تصادم سے ترکی کو لاحق خطرات کے بارے ميں ہونے والے ايک ہنگامی اجلاس کی ہے تاہم وزارت نے يہ بھی کہا کہ ريکارڈنگ کے کچھ حصوں ميں رد و بدل کی گئی ہے۔ وزارت خارجہ کے بيان کے مطابق، ’’يہ ايک بہت بُرا حملہ اور غداری ہے۔‘‘ وزارت کے بقول ايک ايسے مقام پر جہاں انتہائی حساس سلامتی سے متعلق امور پر بات چيت ہو، وہاں ہونے والی گفتگو کو ريکارڈ کرنا اور پھر عوام کے ليے جاری کرنا انتہائی سنگين جرم ہے۔‘‘
يو ٹيوب پر جمعرات ستائيس مارچ کے روز جاری ہونے والی اِن آڈيو ريکارڈنگز ميں ترکی کے اعلٰی اہلکار سابق سلطنت عثمانيہ کے سليمان شاہ کے مقبرے پر ممکنہ عسکری آپريشن اور اُس پر قبضے کے بارے ميں تبادلہ خيال کر رہے تھے۔ يہ مقبرہ شمالی شام ميں قائم ہے اور اِس کے ارد گرد کے علاقوں پر اسلام پسند جنگجو قابض ہيں۔ روئٹرز کے مطابق انقرہ حکومت سن 1921 ميں فرانس کے ساتھ طے شدہ ايک معاہدے کے تحت اِس مقبرہ کو ترک سرزمين قرار ديتی ہے اور ترک خصوصی دستے کے قريب دو درجن اہلکار ہر وقت اِس کا پہرہ ديتے ہيں۔ واضح رہے کہ معاہدے کے وقت شام کی حکمرانی فرانس کر رہا تھا۔
انقرہ حکومت کے مطابق يو ٹيوب پر متنازعہ ريکارڈنگز جاری کيے جانے کے بعد ’انتظامی اقدام‘ اٹھاتے ہوئے يو ٹيوب پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ايک ہفتے قبل ترکی ميں مائکرو بلاگنگ ويب سائٹ ٹوئٹر پر بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔
ترکی کے وزير اعظم رجب طيب ايردوآن نے اپنی سياسی مہم کے دوران گزشتہ روز ايک ريلی سے خطاب کرتے ہوئے اِس پيش رفت پر اپنی برہمی کا اظہار کيا اور کہا، ’’اُنہوں نے قومی سلامتی کے اجلاس تک کی تفصيلات جاری کر ديں، يہ بے ايمانی ہے۔‘‘
ترکی ميں وزير اعظم کے دفتر کے ذرائع کے مطابق يو ٹيوب پر پابندی احتياطی تدبير کے طور پر عائد کی گئی ہے اور اگر يو ٹيوب کی انتظاميہ متنازعہ ريکارڈنگ کو ويب سائٹ سے ہٹا دے، تو يہ پابندی اٹھائی بھی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ ترکی پہلے ہی دو ہفتے قبل ٹوئٹر پر پابندی عائد کرنے کے سبب کڑی تنقيد کی زد ميں ہے۔