ترکی میں مظاہرے، امریکا اور یورپی یونین کی تشویش
2 جون 2013
ترکی بھر میں مظاہروں کو روکنے کے لیے پولیس کو ہیلی کاپٹروں اور بکتر بند گاڑیوں کی معاونت حاصل ہے۔ مسلسل دوسرے روز دارالحکومت انقرہ اور تاریخی شہر استنبول کے مظاہرین کو پولیس کارروائی کا نشانہ بننا پڑا۔
احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور تیز دھار کے پانی کا بےدریغ استعمال کیا گیا۔ انقرہ میں بھی مشتعل مظاہرین کا پولیس سے ٹکراؤ ہوا اور پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے بجلی کے جھٹکے دینے والے ڈنڈوں کا استعمال کیا۔ ان مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل بھی برسائے گئے۔
ترکی کے وزیر داخلہ محمد گولیر کے مطابق اب تک تقریباً 939 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ طبی ذرائع کے مطابق مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں 1000 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں سے چار افراد کی بینائی زائل ہونے کا بھی بتایا گیا کیونکہ انہیں آنسو گیس کے شیل چہرے پر لگے تھے۔ ترک ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق کم از کم چار زخمی ایسے ہیں، جن کی سر کی ہڈیوں میں فریکچر ہے۔
استنبول کے مرکزی تقسیم اسکوائر کی تزیئن اور اسے وسیع کرنے کے معاملے پر شروع ہونے والے مظاہروں میں شرکاء نے وزیراعظم رجب طیب ایردوآن اور ان کی مذہب کی جانب مائل سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو نعرہ بازی میں خاص طور پر نشانہ بنایا ہے۔ مظاہرین نے پولیس ایکشن کو حکومت کا فاشسٹ رویہ قرار دیا۔ یہ مظاہرین حکومت کے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
مظاہروں میں شرکاء کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ان میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شریک ہیں اور انہوں نے اپنے چہروں پر سرجیکل ماسک بھی پہن رکھے تھے تاکہ وہ آنسو گیس کو برداشت کر سکیں۔ یہ افراد مظاہروں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس فیس بُک اور ٹوئٹر کو بھی استعمال کر رہے ہیں۔ ان ویب سائسٹس پر وہ اپنے ساتھیوں کو مختلف گلیوں میں جمع ہونے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ پولیس ایکشن کی صورت میں کسی دوسری جگہ پر مظاہرے کو منظم کیا جا سکے۔
ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے حکومت مخالف مظاہروں کے شرکاء سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلے کو فوری طور پر ختم کر دیں کیونکہ اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایردوان نے اعتراف کیا کہ مظاہرین پر آنسو گیس کے غلط اور غیر ضروری استعمال کا ارتکاب کیا گیا ہے اور اس کی باقاعدہ تفتیش کی جا رہی ہے۔
ترک وزیراعظم نے ٹیلی وژن پر اپنی تقریر میں مظاہرین کے اجتماع کی مناسبت سے کہا کہ اگر یہ سماجی تحریک ہے تو وہ ان احتجاجیوں کے مقابلے پر لاکھوں لوگ لے کر آ جائیں گے۔ ایردوآن نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی پارٹی کے ایک ملین افراد کو کسی ایک ریلی میں لا سکتے ہیں۔ ترک وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی حکومت الیکشن کے ذریعے منتخب ہوئی ہے اور اگر لوگ اس کے مخالف ہیں تو آئندہ انتخابات کا انتظار کریں اور تب اپنی رائے کا اظہار کریں۔
ترکی میں جاری مظاہروں کے دوران ہونے والی پولیس کارروائی اور اس سے زخمی ہونے والوں کی تعداد پر امریکا کی جانب سے ایک بار پھر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ یورپی یونین کے امور خارجہ کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے اس صورت حال پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی ہے۔
(ah(ab(Reuters