ترکی میں مظاہرے جاری
6 جون 2013
ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن شمالی افریقہ کا دورہ مکمل کر کے جمعرات کو واپس وطن پہنچ رہے ہیں، جہاں ان کے خلاف شدید مظاہرے جاری ہیں۔ گزشتہ ہفتے سے جاری ان مظاہروں کے دوران کم ازکم دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ چار ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ استنبول اور انقرہ سمیت ایسے شہروں کے پولیس سربراہان کو برطرف کر دیا ، جنہوں نے مظاہرین کے خلاف پر تشدد کارروائی کے احکامات جاری کیے ہیں۔
استنبول سے شروع ہونے والا احتجاج کا یہ سلسلہ ترکی کے درجنوں شہروں تک پھیل چکا ہے۔ استنبول کے ایک پارک کی تعمیر نو پر شروع ہونے والے یہ مظاہرے اسلام پسند وزیر اعظم ایردوآن کی مبینہ مطلق العنان پالیسیوں کے خلاف غیر معمولی رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ان مظاہروں کو ختم کرنے کے لیے حکومت نے طاقت کا استعمال بھی کیا ہے۔
اگرچہ وزیر اعظم ایردوآن کے مؤقف میں لچک کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں لیکن ان کے بیرون ممالک کے دورے کے دوران ان کے نائب بلند آرینچ نے مظاہرین کے ایک نمائندہ وفد سے ملاقات میں قدرے مصالحتی انداز اختیار کیا۔ انہوں نے تقسیم چوک پر پر امن مظاہرین کے خلاف پولیس کریک ڈاؤن پر معذرت کی اور کہا کہ اس حوالے سے تفتیش کی جائے گی۔
ادھر بدھ کے دن ٹریڈ یونین کی ایک فیڈریشن نے انقرہ میں ایک مظاہرے کا اہتمام کیا۔ ہزاروں افراد کی نمائندہ اس تنظیم کے کارکنوں نے حکومت مخالف نعرے لگائے اور ایردوآن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔ اسی طرح دیگر کئی شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے بتایا ہے کہ ازمیر میں پولیس نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر مظاہروں کو ہوا دینے اور پروپیگنڈے کے الزام میں 9 مزید افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ابھی تک ٹوئٹر پر ایسے ہی پیغامات لکھنے پر ترکی بھر میں مجموعی طور پر 25 افراد حراست میں لیے گئے ہیں۔
ان مظاہروں کے شروع ہونے کے چھ دن بعد استنبول کے اسی پارک میں مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے خیمے گاڑ دیے ہیں، جہاں سے ان مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ نیوز ایجنسی اے پی نے بتایا ہے کہ اس پارک میں مظاہرین کے لیے خوراک تقسیم کرنے کے لیے ایک اسٹال لگا دیا گیا ہے اور رضا کار وہاں خوراک پہنچا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ استنبول میں تقسیم اسکوائر کے قریب ہی واقع ایک پارک کو ختم کر کے وہاں ایک شاپنگ مال بنانے کے حکومتی فیصلے کے خلاف یہ احتجاج جمعے کے دن شروع ہوا تھا۔ بعد ازاں پولیس کریک ڈاؤن کی مدد سے وہاں جمع ہونے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا۔ مظاہرین حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس متنازعہ تعمیراتی منصوبے سے دستبردار ہو جائے۔
(ab/ia(AFP, AP, dpa