1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ترکی میں نوجوان طالبہ کا قتل، خواتین سراپا احتجاج

عابد حسین16 فروری 2015

ایک نوجوان طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش اوراُس کے قتل کی واردات پر ترکی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ بیس سالہ طالبہ کے قتل کے الزام میں تین افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ قتل کی واردات گزشتہ بدھ کو ہوئی تھی۔

تصویر: Adem Altan/AFP/Getty Images

ترکی میں خواتین کے حقوق کی تنظیمیں بیس سالہ طالبہ اوزگیجان اسلان کے قتل پر ہر عمر کی خواتین میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ اِس قتل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہزاروں خواتین نے ترک معاشرے میں عورتوں پر حملوں کے خلاف بھی اپنی صدائے احتجاج بھی بلند کرتے ہوئے ہفتے کے روز احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی۔ خواتین کے حقوق سے وابستہ ہزاروں خواتین نے اِسی ویک اینڈ پر ترکی کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں مظاہروں کے ساتھ ساتھ احتجاجی ریلیاں نکالی۔ دوسری جانب عدالت نے تین مشتبہ افراد کو مقدمہ شروع ہونے سے قبل کی قید میں ڈال دیا ہے۔ نوجوان طالبہ اوزگیجان اسلان کو ایک بس کے ڈرائیور نے جنسی زیادتی کی کوشش کے دوران قتل کر دیا تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ بس کا ڈرائیور مقتولہ کے والد کا دوست بتایا جاتا ہے۔

نوجوان طالبہ کو محبت کے عالمگیر دن یعنی چودہ فروری (ویلنٹائن ڈے) کو دفن کیا گیا۔ اُس کے تابوت کو خواتین نے کندھا دے کر قبرستان تک پہنچایا۔

اوزگیجان اسلان کے قتل پرخواتین نے شدید ردِ عمل ظاہر کیا ہےتصویر: Adem Altan/AFP/Getty Images

جن تین افراد کو طالبہ کے ساتھ زیادتی اور قتل کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے، ان کے نام احمد صوفی الٹن ڈوکِن، تجم التین الٹن ڈوکِن اور فاتح گوئکچے ہیں۔ قتل کی یہ واردات ترکی کے جنوبی بندرگاہی شہر میرسین کے نواحی قصبے تارسُوس میں وقوع پذیر ہوا ہے۔ میرسن کے قریب سے بہتے ایک دریا کے کنارے سے اوزگیجان اسلان کی جلی ہوئی نعش پولیس کو ملی تھی۔ سرکاری نیوز ایجنسی انطولیا کے مطابق سکیورٹی کے تحت اِن تینوں ملزمان کو میرسِن یا تارسُوس کی جیل میں نہیں رکھا گیا ہے۔ اِس قتل کے بعد ترک صدر اور وزیراعظم نے مقتولہ کے خاندان سے اظہار ہمدردی کے ساتھ ساتھ ملزمان کو کڑی سزا دینے کا وعدہ بھی دیا۔

اوزگیجان اسلان کے قتل پر طالبات بھی سراپا احتجاج ہیںتصویر: picture-alliance/ZUMAPRESS.com

بہیمانہ قتل کا یہ واقعہ گزشتہ بدھ کو پیش آیا تھا، جب مقتول طالبہ کالج سے واپس گھر جا رہی تھی۔ اُسے گھر جانے کے دوران اُس وقت اغوا کیا گیا جب وہ بس کی اکلوتی مسافر رہ گئی تھی۔ اُس نے جنسی زیادتی کرنے والے کا زوردار مقابلہ بھی کیا اور اِس دوران اُس نے حملہ آور پر مرچوں کا اسپرے بھی کیا۔ ملزم نے بعد میں اُس پر پے در پے چاقو کے وار کر کے اُسے ہلاک کر دیا۔ جنسی زیادتی کی کوشش کے دوران ملزم نے لوہے کی سلاخ سے اُس کے سر پر ضرب بھی پہنچائی۔ ڈرائیور نے اپنے والد اور ایک دوست کی مدد سے نعش کو ٹھکانے لگانے کا عمل مکمل کیا۔ ملزم اور اُس کے ساتھیوں نے موقع کی شہادتیں مٹانے کے لیے اوزگیجان اسلان کی نعش کو جلا دیا۔ جمعے کے روز مقتولہ کی جلی ہوئی لاش پولیس کو دستیاب ہوئی۔

ترکی کے یورپی یونین امور کے وزیر وولکان بوزکیر کا کہنا تھا کہ اگر ایسا میری بیٹی کے ساتھ ہوتا تو وہ یقینی طور پر بندوق اٹھا کر حملہ آوروں کو خود سے سزا دیتا۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی دو بیٹیوں سمیعہ اور اسرا نے مشترکہ طور پر مقتولہ کے خاندان کے پاس پہنچ کر تعزیت کی۔ صدر ایردوآن نے بھی ہفتے کے روز فون پر اسلان خاندان سے تعزیت کی۔ ترک وزیراعظم کی کابینہ میں شامل اکلوتی وزیر ایسینُور اسلام نے میرسن جا کر اوزگیجان اسلان کے والدین سے اظہارِ ہمدردی اور افسوس کیا۔ خاتون وزیر نے قاتلوں کو حتمی انجام تک پہنچانے کے لیے موت کی سزا پر پابندی کو نرم کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ وزیر نے کہا کہ وہ ایک وزیر کے طور پر نہیں بلکہ ایک ماں کے طور پر کہتی ہیں کہ ایسے قاتلوں کے لیے صرف موت کی سزا ہونی چاہیے۔ ترکی میں سن 2004 میں موت کی سزا ختم کر دی گئی تھی۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں