ترکی کا ’نارگلےکلچر‘ خطرے میں
6 مارچ 2013
ریسٹورینٹ، کیفے یا بارز میں شیشہ یا حقے پینے کے شوقین افراد اب اپنی پسندیدہ تفریح سے مزید لطف اندوز نہیں ہو پائیں گے، کیونکہ ترکی میں رواں برس جنوری سے ایک قانون لاگو ہو گیا ہے جس کے مطابق بند عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی ممنوع قرار دے دی گئی ہے۔ ترکی میں بالغ آبادی کا قریباﹰ ایک تہائی تمباکو نوشی کرتا ہے۔
2009ء میں ترک حکومت کی طرف سے عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی لگانے کے علاوہ تمباکو اور شراب پر ٹیکس میں اضافہ کر دیا گیا تھا۔ سگریٹ پر ٹیکس کی شرح میں 2005ء سے 2011ء کے دوران 195 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی باعث سگریٹ کی فروخت میں 15 فیصد تک کمی واقع ہوئی۔
تاہم کیفے اور ریسٹورینٹ مالکان نے اس پابندی سے بچنے کی راہ اس طرح نکالی کہ انہوں نے کھلی جگہوں کی بجائے اپنے گاہکوں کو کھڑکیوں والی عمارتوں کے اندر شیشہ یا حقہ پینے کی سہولت دینا شروع کر دی۔ اس کے علاوہ استنبول کے کیفیز نے ایک تبدیلی یہ بھی کہ تمباکو کی مقدار کو کم کرکے حقے یا شیشے کے لیے زیادہ فروٹوں کے ذائقے متعارف کرا دیے۔ اس تبدیلی سے شیشے کی مقبولیت مزید بڑھ گئی اور یہ سیاحوں کے لیے بھی ایک بڑی دلچسپی بن گیا۔
لیکن رواں برس تمباکو نوشی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کچھ زیادہ سخت ہیں اور جو ’نارگلے‘ کے شائقین کے زیادہ خوش کن نہیں ہیں۔ ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے کیزیلے میں قائم تومبیکی نامی کیفے کے ایک ویٹر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’2009ء سے پہلے ہم روزانہ 300 حقے فروخت کرتے تھے، اب یہ تعداد محض 50 تک ہے۔ اب ان نئی پابندیوں سے ہمارا کاروبار مزید کم ہو جائے گا۔‘‘
امریکا میں قائم سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کے مطابق نارگلے یا شیشے کا ایک گھنٹہ طویل سیشن 100 سے 200 تک سگریٹوں کا دھواں اپنے پھیپھڑوں میں اتارنے کے برابر ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق تمباکو کے علاوہ شیشے میں جو ذائقے استعمال ہوتے ہیں ان کے بھی زہریلے اثرات پینے والے کے پھیپھڑوں تک منتقل ہوتے ہیں اور جو صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔
حقہ یا شیشہ مشرق وسطی اور ایشیا میں مختلف ناموں کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم ترکی میں شیشہ اب نوجوانوں میں کافی مقبول ہے اور اس میں مرد و خواتین دونوں شامل ہیں۔ 2010ء میں عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے گلوبل اڈلٹ ٹوبیکو سروے (GATS) نے بتایا تھا کہ ترکی میں حقہ پینے والے افراد میں زیادہ تر تعداد 15 سے 24 برس کے نوجوانوں کی تھی۔
aba/zb (AFP)