1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ترکی کو ہوشمندی سے کام لينا ہوگا

5 اکتوبر 2012

ترکی کے سرحدی علاقے پر شامی گولہ باری اشتعال انگيزی ہے ليکن ترکی کو بہت ہوشمندی سے کام لينا ہو گا۔

Türkei Syrien Grenze Grenzposten Panzer
تصویر: dapd

ترکی کے سرحدی علاقے پر شامی گولہ باری سے پانچ ترک شہريوں کی ہلاکت کے بعد ترک پارليمنٹ نے حکومت کو ضرورت پڑنے پر شام کے خلاف فوجی اقدام کی اجازت دے دی ہے۔ ڈوئچے ويلے کے باہا گيونگيور نے اپنے تبصرے ميں لکھا ہے کہ ترکی کو اس تنازعے ميں ہوشمندی سے کام لينا ہو گا۔ وہ تحرير کرتے ہيں:

شامی صدر بشار الاسد اپنے اقتدار کے اٹل خاتمے کی طرف بڑھتے ہوئے عجيب و غريب حرکات کر رہے ہيں۔ شام سے ملحقہ ترک شہر اکچاکل پر شامی گولہ باری اور بے گناہ شہريوں کی ہلاکت اسد کی اس کوشش کے سوا کچھ نہيں کہ ايک طاقتور ہمسايہ ملک کو اشتعال دلايا جائے اور اگر وہ برسر اقتدار نہيں رہ سکتے تو علاقے ميں ايک ہولناک آگ لگاتے جائيں۔ 

ترک پارليمنٹ کا اجلاستصویر: Adem Altan/AFP/GettyImages

ترکی نے شامی فوجی ٹھکانوں پر حملے کر کے اس کا موزوں جواب ديا ہےاور شامی علاقے پر قبضہ نہيں کيا ہے۔ ترک وزير اعظم رجب طيب اردوآن کو بين الاقوامی حمايت اور ترکی کا ساتھ دينے کے اعلانات کے باوجود خود شام پر مزيد فوجی حملے کرنے پر آمادہ نہيں ہونا چاہيے۔ اُنہيں ہوشمندی سے کام لينا ہو گا۔

ترک پارليمنٹ نے شام کا نام ليے بغير اردوآن حکومت کو جارح ہمسايہ ممالک کے خلاف فوجی کارروائی کا اختيار دے ديا ہے۔ ليکن يہ نيٹو کے رکن ملک ترکی کے ليے اپنے بل پر کوئی قدم اٹھانے کی کھلی اجازت اور نيٹو اور يورپی حليفوں کو خود اپنی مرضی سے کارروائی کر کے حيران کر دينے کا پروانہ نہيں ہے۔ پارليمنٹ کے فيصلے کے بعد شام کے ساتھ جنگ کے خلاف ترک عوام کے واضح پيغامات سے يہ ظاہر ہے کہ وزير اعظم اردوآن کو محتاط رہنا ہو گا۔  

اکچاکل ميں ترک فوجیتصویر: Bulent Kilic/AFP/GettyImages

اسد کے خود حکومت چھوڑ دينے اور ممکنہ طور پر ماسکو ميں پناہ لينے کی اميد جتنی کم ہوتی جائے گی، خصوصاً ترکی کواُسی قدر زيادہ پر سکون رہنا ہو گا۔ ترکی کو اپنے تقريباً تمام ہی ہمسايوں کی طرف سے مسائل کا سامنا ہے۔ مغربی ممالک کی حمايت فی الحال صرف شام کی حد تک ہے اور بلغاريہ يا يونان کے ساتھ کسی تنازعے پر اس کا اطلاق نہيں ہوتا۔

ايران اور سپر پاور روس اب بھی اسد حکومت کی مدد کر رہے ہيں۔ روس کو يہ سوچنا ہو گا کہ کيا ايک ڈوبتے ہوئے آمر کو سہارا دينے کا کوئی فائدہ ہے۔ ايران ترکی پر سخت الفاظ کی بوچھاڑ کے سوا کسی فوجی حملے کی جرأت نہيں کر سکتا۔

ليکن روس اور ايران ترکی کو قدرتی گيس فراہم کرتے ہيں، جسے روک دينے سے ترکی کی اچھی اقتصادی ترقی کا زوال اُسے ’باسفورس کے مرد آہن‘ سے دوبارہ ’مرد بيمار‘ ميں تبديل کر سکتا ہے۔ يہ امريکہ يا نيٹو کے مفاد ميں بھی نہيں ہو سکتا۔

B.Güngör,sas/Z.Arbutina,aa    

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں