1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ترکی کی شام کے خلاف جوابی گولہ باری، نیٹو اور سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس

Imtiaz Ahmad4 اکتوبر 2012

ترک فوج نے مارٹر گولے کے حملے کے جواب میں شامی فوج کی چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے جبکہ نیٹو اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے صورتحال پر غور کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کیے گئے۔

تصویر: Reuters

ترکی نے باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے شام کی جنگ کو روکنے کے لیے ’’ضروری کارروائی‘‘ کرنے کی درخواست کی ہے۔ ترکی کی طرف سے یہ اقدام بدھ کے روز مبینہ طور پر شام کی سرحد کے اندر سے فائر کیے جانے والے ایک مارٹر گولے کے فائر کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآنتصویر: REUTERS

ترکی کی شام سے ملحق سرحد کے قریبی علاقے اکاکالے پر فائر کیے گئے ایک مارٹر گولے کی زَد میں آ کر ایک بچے سمیت چار افراد ہلاک جبکہ کم از کم 9 شدید زخمی ہو ئے تھے۔ ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق شام کی اشتعال انگیزی کا جواب دیا جائے گا۔

دریں اثناء ترک فوج نے شامی فوج کی چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب شام کے وزیر اطلاعات نے ترک باشندوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارٹر گولہ فائر کیے جانے کی تحقیقات کی جائیں گی کہ ایسا کیوں ہوا۔؟

نیٹو اتحاد کا اجلاس

دریں اثناء بدھ کو رات گئے ترکی کی مشاورت سے برسلز میں 28 رکنی نیٹو کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں آئندہ کی حکمت عملی طے کرتے ہوئے شام سے ’جارحانہ کارروائیاں‘ روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ نیٹو اتحاد کے ممبران کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اتحادی ملک کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے کہا کہ نیٹو اتحاد نئی پیشرفت کو ’’قریب اور بڑی تشویش ‘‘ سے دیکھ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے مذمت

دوسری جانب اس تازہ واقعے کے بعد نیویارک میں اقوام متحدہ کی 15 رکنی سلا متی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے ترکی اور شام کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شام سے کہا ہے کہ ہمسایہ ممالک کی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔

بان کی مونتصویر: AP

بان کی مون کا خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شام کا تنازعہ ہمسایہ ملکوں تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔ بان کی مون نے شام اور ترکی سے اس مسئلے کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے کہا ہے۔

دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ لائحہ عمل کے لیے انقرہ حکومت سے مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے صورتحال کو ’انتہائی خطرناک‘ قرار دیا ہے۔

( ia / ab (AFP, Reuters, dpa, AP

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں