ترکی کی یورپی یونین میں ممکنہ شمولیت ، میرکل اور ایردوآن کی گفتگو
1 نومبر 2012
بدھ کے دن جرمن دارالحکومت برلن میں ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن سے گفتگو کرتے ہوئے جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا کہ یورپی یونین میں ترکی کی ممکنہ شمولیت سے متعلق باضابطہ مذاکرات کی بحالی کے لیے دل سے کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اس حوالے سے منصفانہ کوشش کرے گی، ’’یورپی یونین ایک سچا مذاکراتی پارٹنر ہے۔‘‘
ستائیس ممالک کے اس یورپی بلاک کا حصہ بنے کے لیے ترکی نے اپنی باقاعدہ درخواست 2005ء میں جمع کروائی تھی۔ تاہم بالخصوص ترکی اور قبرص کا تنازعہ اس حوالے سے ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اسی لیےترکی اور یونین کے مذاکرات گزشتہ دو برس سے تعطل کا شکار ہیں۔ کئی اہم یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ جرمن چانسلر کی حکمران سیاسی جماعت سی ڈی یو میں بھی ترکی کو یونین کا مکمل رکن بنائے جانے پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔
تاہم ایردوآن کے ساتھ ملاقات میں میرکل نے کہا کہ وہ ترکی کی یونین میں رکنیت کے حوالے سے ہونے والے مذاکرتی عمل کی بحالی پرتیار ہیں۔ انگیلا میرکل نے مزید کہاکہ ان کی سیاسی جماعت ترکی کی یونین میں ممکنہ مکمل رکنیت کو ایک خاص انداز سے دیکھتی ہے ۔
جرمنی کا دورہ کرنے والے ترک وزیر اعظم ایردوآن نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اگر یورپی یونین ترکی کو اس بلاک میں شامل کرنے پر دیر کرتی ہے تو وہ ترکی کو کھو دے گی۔برلن میں ترکی کے نئے سفارتخانے کے افتتاح کے بعد بدھ کو انہوں نے ایک میٹنگ میں کہا تھا کہ ترکی کے یورپی بلاک میں شامل ہونے پر وہ مزید مضبوط ہو جائے گا۔
شامی پناہ گزینوں کا مسئلہ
اس ملاقات کے دوران ترکی وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے کہا کہ ترکی میں شامی پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی مناسب دیکھ بھال کے لیے برلن حکومت مدد کرے۔ انہوں نے ہمسایہ ملک شام کی صورتحال کو تباہ کن قرار دیا۔
جرمن چانسلر سے ملاقات کے بعد برلن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایردوآن کا کہنا تھا کہ ترکی شامی مہاجرین کی دیکھ بھال اکیلا نہیں کر سکتا۔ شام میں گزشتہ انیس ماہ سے جاری بحران کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد شامی باشندے ترکی میں داخل ہو چکے ہیں۔
اس موقع پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ترکی کو مدد کی یقین دہانی کروائی اور کہا، ’’ہم ترکی کی سلامتی کو یقینی بنانا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس مخصوص صورتحال میں ترکی کے ردعمل کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ برلن حکومت ترکی میں پناہ لینے والے شامی مہاجرین کو ’انسانی مدد‘ فراہم کرے گی۔
( ab /sks (AFP