ترکی کی یورپی یونین کی رکنیت کا مسئلہ
15 اکتوبر 2013
رواں سال یعنی 2013ء کے دوران یورپی یونین اور ترکی کے مابین تعلقات بہت اچھے نہیں رہے ہیں۔ خاص طور سے یورپی یونین کے رکن ممالک میں ترک حکومت سے ناراضگی کے جذبات اُس وقت بھڑک اُٹھے جب استنبول کے تقسیم اسکوائر کے قریب واقع گیزی پارک میں درختوں کی کٹائی کے خلاف دیا جانے والا ایک پر امن دھرنا پر تشدد رنگ اختیار کر گیا تھا جب اکتیس مئی کو پولیس نے اچانک ہی مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ اس کے ساتھ ہی انقرہ سمیت ترکی کے متعدد دیگر شہروں میں بھی لوگ حکومت کے خلاف احتجاج پر اتر آئے تھے۔
برسلز دراصل گزشتہ جون میں ہی یورپی یونین کی علاقائی پالیسی اور سیاسی ڈھانچے سے متعلق اہم آلہ کاروں کے مابین رابطہ کاری کے بارے میں مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنا چاہتا تھا۔ تب ہالینڈ اور جرمنی نے اس کی مخالفت کی اور اس کی وجہ انقرہ حکومت کے گیزی پارک کے مظاہرین کے ساتھ رویے کو ٹھرایا گیا۔
اس ضمن میں آزادیء صحافت کی انقرہ کی تشریح متنازعہ ہے۔ اس شعبے میں ماضی کی طرح اب بھی آزادی محدود ہے۔ یہ کہنا ہے موریس ریپرٹ کا جو یورپی یونین کے کمیشن برائے ترکی کے لیے وفد کی سربراہی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
انقرہ کے لیے تعریفی کلمات بھی
برسلز کی طرف سے ترک حکومت پر صرف تنقید ہی نہیں کی جاتی۔ گزشتہ ہفتے یورپی یونین نے انقرہ کے نئے جمہوری پیکیج پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اردوآن کے اصلاحات کی تعریف کی تھی۔ اس جمہوری اصلاحاتی پیکیج میں خواتین کے سر پر اسکارف باندھنے کی پابندی ہٹانے کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کو مزید حقوق دینے کی بات بھی کی گئی ہے۔
ترکی کی دلچسپی میں کمی
ترکی 2005ء سے یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کا سرکاری امیدوار ہے۔ تاہم انقرہ کی یہ خواہش روز بروز مدھم پڑتی جا رہی ہے۔ اس بارے میں ترکی میں کروائے جانے والے ایک عوامی سروے کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ اب ترکی کا ہر دوسرا باشندہ اپنے ملک کی یورپی یونین میں شمولیت کے حق میں نہیں ہے جب کہ 2004 ء میں چار میں سے تین ترک باشندے اس کے حق میں ہوا کرتے تھے۔ بلکہ اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ اس بارے میں جن ترک باشندوں کی رائے معلوم کی گئی اُن میں سے ایک تہائی نے ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی مخالفت میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔ نو سال قبل محض نوُ فیصد ترک باشندے اس کے خلاف تھے۔ اب اس موضوع پر ہونے والی سیاسی بحث بھی زیادہ امید افزا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی یونین میں ترکی کے وزیر ایگیمن باگیس کا ماننا ہے کہ ترکی ممکنہ طور پر کبھی بھی یورپی یونین کا رکن نہیں بن سکے گا۔ انہوں نے ایک ترک روزنامہ حریت کے بیان دیتے ہوئے کہا کہ اُن کا ملک ناروے کی طرح یورپی یونین کے تمام معیارات پر پورا اترنے اور یونین کے ممبر ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے کے باوجود یورپی یونین کا ممبر نہیں بنے گا۔
اس کے برعکس ترکی کے تجارتی اور اقتصادی حلقے کی طرف سے انقرہ حکومت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ یورپی یونین میں رکنیت حاصل کرنے کی کوششوں میں تیزی لائے کیونکہ ترکی میں اقتصادی ترقی، سیاسی استحکام اور جمہوریت کے فروغ کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔
ماہرین ترکی کی یورپی یونین کی رکنیت کے حق میں
اقتصادی اعتبار سے ترکی کے لیے یورپی اتحاد کا رکن بننا نہایت ضروری ہے۔ یہ کہنا ہے زیادہ تر ماہرین کا ۔ خاص طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری کے ضمن میں۔ ایک ترک ماہر سیاسیات سنم آئیدین اپنے ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لیے یورپی یونین کے کردار کو گاڑی کے انجن سے تشبیہ دیتی ہیں۔ تاہم ان کے خیال میں یورپی یونین میں رکنیت حاصل کرنے ے لیے ترکی کو پہلے قبرص کا تنازعہ حل کرنا ہوگا۔ وہ کہتی ہیں،" محض اردوان کے جمہوری اصلاحات کے پیکیج سے کام نہیں چلے گا" ۔