ترکی، ہائیکورٹ کی طرف سے بغاوت کے مقدمے کی سزائیں برقرار
9 اکتوبر 2013
تاہم انقرہ میں قائم عدالت نے 88 دیگر افراد کو سنائی گئی سزائیں یہ کہہ کر ختم کر دی ہیں کہ ان کے خلاف شواہد ناکافی ہیں یا ان پر غلط الزامات عائد کیے گئے۔ اس فیصلے سے ممکنہ طور پر ان افراد کے خلاف مقدمے کی کارروائی دوبارہ سے عمل میں لائی جائے گی۔ ایپل کورٹ نے لوئر کورٹ کی طرف سے 33 مشتبہ افراد کو رہا کرنے کا فیصلہ بھی برقرار رکھا ہے۔
فوجی افسران کو گزشتہ برس بغاوت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے 20 برس تک کی جیل کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔ اسی مقدمے کے بعد ترک فوج کا ملکی سیاست میں کردار کے خاتمے کی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم اس مبینہ طور پر قانونی کمزوریوں اور خودساختہ الزامات کی بدولت اس مقدمے پر تنقید بھی سامنے آئی۔
ناقدین اس مقدمے کو حکومت کی طرف سے اپنے مخالفین کو دبانے کی ایک کوشش قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف بعض لوگ اسے ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کا سنگ میل۔
ترکی کے TARAF نامی اخبار کی طرف سے خفیہ معلومات کی اشاعت کے بعد فوجی افسران کے خلاف یہ کیس 2010ء میں درج کیا گیا تھا۔ اخبار کے مطابق اسے حاصل ہونے والی ان خفیہ دستاویزات میں بغاوت کے منصوبے کی تفصیلات موجود تھیں۔ اس منصوبے کے مطابق نماز جمعہ کے اوقات میں مساجد میں دھماکے، بعض مذہبی اور اقلیتی رہنماؤں کو قتل کرنے کے علاوہ ترکی کے لڑاکا طیاروں کو مار گرانے اور یہ الزام یونان پر لگانے جیسے اقدامات کا ذکر موجود تھا۔ اخبار کے مطابق ان تمام اقدامات کے ذریعے ملک میں افراتفری پیدا کر کے ملٹری ٹیک اوور کی راہ ہموار کرنا تھا۔
وکیل دفاع جلال اولگین نے ترکی کے ایک پرائیویٹ ٹیلی وژن NTV سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے، ’’یہ ایک مایوس کن فیصلہ ہے۔ یہ صرف افسران کے خاندان کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے ترکی کے لیے دکھ کا باعث ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ فیصلہ غیر قانونی شہادتوں کے باوجود جاری کیا گیا۔
اوگلین کا کہنا تھا کہ وہ 237 افسران کے خلاف سزا برقرار رکھنے کے حوالے سے ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اب ترکی کی سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے یا پھر وہ یورپی عدالت برائے انسانی حقوق میں بھی جا سکتے ہیں۔
ترکی میں فوجی جنرل 1960ء کی دہائی کے بعد سے حکومت کے خلاف تین بار بغاوت کر چکے ہیں جبکہ 1997ء میں اسلام پسند حکومت کا خاتمہ بھی کر چکے ہیں۔ تاہم موجودہ وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت 2002ء کے بعد سے تین بار انتخابات میں مسلسل کامیابی کی بدولت نہ صرف جمہوریت کو مضبوط کر چکی ہے بلکہ مسلح افوج کی طاقت کو بھی محدود بنانے میں کامیاب رہی ہے۔