ترکی یورپی یونین کے استحکام میں مددگار ہو گا، ترک وزیر اعظم
31 اکتوبر 2012
ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی طرف سے یہ تازہ بیان ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی خواہش کی شدت بیان کرتا ہے۔ ترکی نے 2005ء میں یورپی بلاک کا ممبر بننے کے لیے باقاعدہ درخواست جمع کرائی تھی تاہم یونین کے اہم ممالک کے تحفظات کے علاوہ ترکی اور قبرص کے مابین تنازعہ اس ممبر شب کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
منگل کو ایردوآن نے برلن میں ترکی کے نئے سفارتخانے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے بھی وہاں موجود تھے۔ ویسٹر ویلے نے کہا کہ ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے لیے مذاکرات کا سلسلہ بحال ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ گزشتہ دو برس سے تعطل کا شکار ہے، جو اطراف کے لیے کسی صورت بھی بہتر نہیں ہے۔
بعد ازاں پیر کی شام برلن میں ایک میٹنگ کے دوران ایردوآن نے امید ظاہر کی کہ یورپی یونین ان کے ملک کو ممبر شپ دینے میں زیادہ دیر نہیں کرے گی تاہم اگر ایسا ہوا تو وہ ترکی کو کھو دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ترکی کو یورپی یونین کا رکن بنایا جاتا ہے تو وہ اس یورپی بلاک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھ ملین ترک باشندے یورپی یونین کے مختلف ممالک میں سکونت پذیر ہیں، جن میں سے تین ملین صرف جرمنی میں آباد ہیں۔
جرمن چانسلر انگیلا میرکل ترکی کو یونین کی مکمل رکنیت دینے پر تحفظات رکھتی ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ ترکی کو ترجیحی شراکت داری میں شامل کیا جا سکتا ہے جبکہ حکمران اتحاد میں شامل فری ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما اور جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے اس تناظر میں ترکی کی حمایت کرتے ہیں۔ جرمن چانسلر سے ملاقات کے دوران ترک وزیر اعظم شام کے معاملے پر تبادلہء خیال کریں گے۔
( ab /sks (AFP