1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ترک عدالت نے جج کو ہی مجرم قرار دے دیا

عابد حسین
15 جون 2017

ایک ترک عدالت نے اقوام متحدہ کی فوجداری عدالت کے سابق جج کو مجرم قرار دے کر سزا سنا دی ہے۔ عدالت میں استغاثہ نے ثابت کیا کہ سابق ترک سفارتکار اور جج ایک ’دہشت گرد‘ تنظیم کے رکن ہیں۔

Türkei Silivri Gefängnis Gelände
تصویر: Getty Images/AFP/M.Ozer

سزا پانے والے جج کا نام آیدین صفا آکائی ہے۔ انہیں اس الزام کا سامنا تھا کہ وہ ترکی کے جلاوطن مبلغ فتح اللہ گولن کی تنظیم کے رکن ہیں۔ ترک مبلغ گولن کی تنظیم کو انقرہ حکومت نے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ اس تنظیم کی رکنیت ہی اُن کا جرم بن گئی اور یہ الزام ترک دفتر استغاثہ نے دارالحکومت انقرہ کی اُس عدالت میں ثابت کر دیا، جہاں آکائی کے مقدمے کی سماعت جاری تھی۔

سڑسٹھ سالہ آیدین صفا آکائی کو اس’خوفناک‘ جرم کی پاداش میں ساڑھے سات برس کی سزا سنائی گئی ہے۔ سابق سفارت آکائی ترک وزارت خارجہ کے لیگل قونصلر کے منصب پر بھی فائز رہے تھے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور یونیسیف میں ترکی کے نمائندے طور پر بھی فرائض انجام دیے جبکہ آیدین صفا آکائی اقوام متحدہ کے انٹرنینشل فوجداری عدالت (MICT) کے لیے طریقہٴ کار وضع کرنے کے جج بھی رہ چکے ہیں۔

گزشتہ برس جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترک حکومت نے انتہائی بڑے کریک ڈاؤن کا سلسلہ شروع کر رکھا ہےتصویر: picture alliance/abaca/Depo Photos

آیدین صفا آکائی کو گزشتہ برس ستمبر میں فتح اللہ گولن کی تنظیم کا رکن ہونے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ گزشتہ برس جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترک حکومت نے ستمبر سے ہی انتہائی بڑے کریک ڈاؤن کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ناکام بغاوت کا الزام گولن پر رکھتے ہوئے اُن کی تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے اور اُس کے ہزاروں حامیوں کی وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ہیگ میں قائم اقوام متحدہ کی عدالت MICT  کے صدر تھیوڈور میرون نے اپنے سابق جج کو سنائی گئی اس سزا کو انتہائی قابلِ افسوس عمل قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ میرون پہلے ہی رواں برس مارچ میں اس معاملے کو اقوام متحدہ کے ادارے سکیورٹی کونسل کو رپورٹ کیا تھا ہے کہ ترک حکومت نے آکائی کی رہائی کے لیے دی گئی مہلت کو نظرانداز کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنے سابق جج کی رہائی کے  لیے چودہ فروری کی ڈیڈ لائن مقرر کر رکھی تھی۔

 

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں