1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

تعلیم حاصل کرنے کے لیے پر عزم افغان خاتون

10 اپریل 2018

یونیورسٹی کا امتحان دیتے ہوئے اپنے بچے کو گود میں اٹھائے ایک افغان خاتون کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔ جس کے بعد اس خاتون کو مزید اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لیے بین الاقوامی مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔

Afghanistan Frau stillt Baby bei Examen
تصویر: picture-alliance/AP Photo/K. Ahmadi

جہاں تاب احمدی افغان شہر نیلی کی نصیر خسرو یونیوسٹی میں داخلے کا امتحان دے رہی تھی، جب اس یونیورسٹی کے ایک اہلکار نے ان کی یہ تصویر لی اور سوشل میڈیا پر شائع کر دی۔ اس تصویر میں احمدی ایک اور طالبہ کی کرسی کے سائے میں بیٹھی اپنے بچے کو دودھ پلانے کے ساتھ ساتھ امتحانی پرچہ حل کر رہی ہیں۔ اس تصویر نے برطانیہ میں قائم افغان نوجوانوں کی  تنظیم، ’ افغان یوتھ ایسو سی ایشن‘ کو بھی متاثر کیا اور اس کے اراکین نے اس طالبہ کی مدد کا ارادہ کر لیا۔ اس تنظیم نے ’گو فنڈ می‘ مہم کے ذریعے اس طالبہ کے لیے اب تک گیارہ ہزار پاؤنڈز جمع کر لیے ہیں۔ یہ تنظیم اس رقم کو احمدی کو فراہم کرے گی جسے کابل یونیورسٹی میں داخلہ مل چکا ہے۔

افغان یوتھ ایسو سی ایشن کے سیکرٹری جنرل شکریہ محمدی نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا، ’’مجھے یقین ہے کہ احمدی کی تصویر اور اس کی مدد کرنے کی ہماری کاوش دنیا بھر میں لڑکیوں کو متاثر کرے گی اور انہیں یہ یقین دلائےگی کہ اگر آپ چاہیں تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔‘‘ کئی دہائیوں سے جنگ سے نبرد آزما ملک افغانستان میں عورتوں اور لڑکیوں کی تعلیم اور ان کے گھر سے نکلنے پر بہت زیادہ سختی کی جاتی ہے۔

ایک تہائی افغان بچے تعلیم سے محروم: سیو دی چلڈرن

آکسفورڈ یونیورسٹی سے کابل، افغان فرشتہ

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق گزشتہ برس اسکول نہ جانے والے 3.5 ملین افغان بچوں میں 85 فیصد لڑکیاں تھیں۔ محمدی کے مطابق وہ احمدی کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ احمدی کے تین بچے ہیں جن میں دو ماہ کی وہ بیٹی بھی شامل ہے جو اس تصویر میں موجود ہے۔ احمدی کا شوہر  پڑھا لکھا نہیں ہے اور اسی باعث اس کی بھی سوشل میڈیا پر اپنی بیوی کو پڑھنے کی اجازت دینے پر بہت زیادہ تعریف کی جارہی ہے۔ افغان سیاست دان فرخندہ زہرہ نے بھی احمدی کی مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ زہرہ نے تھامسن روئٹرز فاؤندیشن کو بتایا کہ انہوں نے احمدی کی چار سال کی فیس یکمشت ادا کر دی ہے۔

ب ج/ ا ا، تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن

تعلیم کی لگن، روزانہ افغانستان سے پاکستان آنے والے بچے

01:21

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں