1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تاريخعالمی

تمباکو کی تاریخ

30 نومبر 2025

انسانی معاشرے میں ہر دور اور عہد میں استعمال کے لیے نئی اشیاء بنائی جاتی رہی ہیں۔ اور ان میں سے کچھ اشیاء افراد کی عادات اور ان کے رویے پر بھی اثر انداز ہوئی بھی ہیں۔

جلتا ہوا سگریٹ
ترکوں نے پہلی مرتبہ تمباکو کو نیوز پیپر کے کاغذ میں لپیٹ کر سگریٹ کی شکل دی تو اس کا استعمال بڑھ گیا تصویر: AP

جدید مورخ اب اشیا کی تاریخ لکھ رہے ہیں۔ ان کی ایجاد کیسے ہوئی اور کس وجہ سے یہ معاشرے میں مقبول ہوئیں۔ ان ہی اشیاء میں سے ایک تمباکو  بھی ہے۔ اس کی دریافت اس وقت ہوئی جب یورپ کے لوگ امریکہ پہنچے اور وہاں انہیں تمباکو کے بڑے بڑے کھیت ملے۔ مقامی لوگ تمباکو کا استعمال یا تو مٹی کے پائپ کے ذریعے کرتے تھے یا چبا کر کھاتے تھے، جس کے بعد انہیں ہلکا سا نشا ہو جاتا تھا۔

امریکہ کی دوسری پیداوار کے ساتھ ساتھ تمباکو کو بھی یورپ میں روشناس کرایا گیا۔ جب اس کے استعمال کی تشہیر کی گئی تو تمباکو کی کمپنیوں کو بے حد فائدہ ہوا۔ یورپ میں اسے کئی طرح سے استعمال کیا جاتا تھا۔ مثلاً پائپ کے ذریعے یا سگار کے ذریعے۔ جب تاور سگریٹ عام لوگوں میں مقبول ہو گیا۔

ہندوستان میں تمباکو لانے والے پرتگالی تاجر تھے جو اسے دکن میں لے کر آئے تھے۔ یہاں ایک مغل افسر جس کا نام اسد بیگ تھا وہ مغل بادشاہ اکبر کے قریبی مشیر ابو الفضل کے ساتھ دکن آیا تھا۔ واپسی پر وہ بطور تحفہ کچھ تمباکو لے کر اکبر کے دربار میں گیا۔ اس کا ذکر اس نے اپنی کتاب حالات اسد بیگ میں کیا ہے۔ اکبر کے دربار میں تمباکو کے موضوع پر بحث ہوئی۔ کچھ نے اسے ممنوع قرار دیا اور کچھ نے اس کے استعمال پر کوئی تنقید نہیں کی۔ لیکن اکبر کے دور میں اس کا استعمال مقبول نہیں ہوا۔

ہندوستان میں تمباکو لانے والے پرتگالی تاجر تھے جو اسے دکن میں لے کر آئے تھے۔تصویر: DW

جب بھارت میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت آئی تو اس نے صوبے بہار میں تمباکو کی کاشت شروع کی اور اس کے استعمال کے لیے لوگوں میں دلچسپی پیدا کی۔ ہندوستان میں اس کا استعمال سب سے پہلے پان میں ہوا۔ ہندوستان میں پان کھانے کی روایت بہت پرانی ہے۔ قدیم زمانے میں جب کوئی حکمراں جنگ کی تیاری کرتا تھا، تو پان کے بیڑے تیار کر کے رکھے جاتے تھے۔ جو جنرل اٹھ کر بیڑا کھا لیتا تھا، فوچ کی سرداری اسی کو دے دی جاتی تھی۔ یہ دستور بھی تھا کہ جب کوئی مہمان آتا تھا تو اس کے استقبال کے وقت اسے پان پیش کیا جاتا تھا۔ ہر گھر میں پان دان ہوا کرتا تھا۔ لیکن پان میں تمباکو کا استعمال ہر شخص نہیں کرتا تھا۔

ہندوستان میں تمباکو اس وقت زیادہ مشہور ہوا جب حقے کی ایجاد ہوئی۔ حقے میں استعمال ہونے والا تمباکو مختلف خوشبو جات کے ساتھ تیار کیا جاتا تھا۔ دو قسم کے حقے ہوا کرتے تھے۔ ایک امرا کے حقے جو برابر کے کمرے میں رکھے جاتے تھے اور  وہاں سے ان کے پائپ پینے والے کے پاس لائے جاتے تھے۔ یہ روایت تھی کہ کسی کے ساتھ حقہ پینے سے دوستی مضبوط ہوتی ہے۔

دوسری جانب عام لوگوں میں بھی حقہ مقبول ہو گیا۔ خاص طور سے گاؤں، دیہاتوں میں جب لوگ ایک ساتھ بیٹھتے تھے تو حقہ ایک کے بعد دوسرے کے پاس جاتا تھا۔ اس کا مطلب دوستی اور ہم آہنگی ہوتا تھا۔ اگر کوئی مخالف ہوتا تھا تو اس کا حقہ پانی بند کر دیا جاتا تھا۔

چونکہ عام لوگوں میں سگریٹ کا استعمال اس لیے کم تھا کیونکہ وہ مہنگا ہوتا تھا۔ اس کی جگہ عام لوگ بیڑی کا استعمال کرتے تھے، جو سستی بھی ہوتی تھی اور نشہ بھی پورا کرتی تھی۔

سگریٹ کے ٹکڑوں کا ماحول دوست استعمال

01:16

This browser does not support the video element.

تمباکو کا استعمال عرب ملکوں میں بہت زیادہ مقبول تھا۔ اس کا اندازہ ہمیں Richard Burton کے سفر نامے سے ہوتا ہے، جو بمبئی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم تھے اور عربی، فارسی اور اردو زبان میں مہارت رکھتے تھے۔ یہ ایک مترجم کی حیثیت سے بھی مشہور تھے۔ انہی نے الف لیلی کا پہلا انگریزی ترجمہ بھی کیا تھا۔ سندھ کے بارے میں اس کی کتاب "Unhappy Valley of Sindh" جو انگریزوں کی فتح سندھ کے واقعات اور معلومات فراہم کرتی ہے۔ 1853 میں یہ ایک افغان باشندے کے روپ میں حج پر بھی گئے اور مکہ مدینہ میں قیام بھی کیا اور حج بھی کیا۔ کسی کو بھی ان پر انگریز ہونے کا شبہ بھی نہیں ہوا۔ کیونکہ وہ افغانوں کی طرح فارسی بولتے تھے۔ انہوں نے اپنے سفر نامے میں لکھا ہے کہ عربوں کو کافی اور تمباکو بہت پسند تھا۔ یہ بھی ان کے ساتھ مل کر کافی پیتے تھے اور تمباکو چباتے تھے۔ واپسی پر انہوں نے دو جلدوں میں عریبیہ کی سیاحت کا حال لکھا ہے۔ اس وقت عریبیہ ترکوں کی خلافت کا حصہ تھا۔

تمباکو کے سلسلے میں ایک اور واقعے کی اہمیت ہے کہ جب شاہ ایران نے تمباکو کا ٹھیکہ ایک انگریز کمپنی کو 1890 میں دیا  تو جمال الدین افغانی نے ایک فتوے کے ذریعے تمباکو کے ہر قسم کے استعمال کو حرام قرار دیا۔ ایک صبح جب شاہ ایران نے ایک ملازم سے حقہ لانے کو کہا تم ملازم نے صاف انکار کر دیا کہ وہ تمباکو کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ تمباکو کے خلاف اس ہڑتال کی وجہ سے شاہ ایران نے تمباکو کا ٹھیکہ ختم کر دیا۔

ایک خاتون سگریٹ نوشی کرتے ہوئے۔تصویر: imago images/Pond5 Images

ایک وقت تھا کہ لوگ تمباکو کو ہر طرح سے استعمال کرتے تھے۔ لیکن اب جب اس کے نقصانات سامنے آئے ہیں تو اس کے استعمال میں کمی واقع ہو گئی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب تک کسی شے کے بارے میں پوری معلومات نہ ہو انسان غلطی کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن جب حقیقت سامنے آتی ہے تو اس سے پرہیز کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

 

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں