توہین عدالت کا نوٹس خارج
28 اگست 2013
عدالت کی طرف سے یہ فیصلہ بدھ کو سماعت کے دوران ملکی اٹارنی جنرل منیر اے ملک کے اس بیان پر دیا گیا کہ انتخابات سے متعلق عدالتی کردار پر عمران خان کا بیان نہ ہی تضحیک آمیز ہے اور نہ ہی عدالت کی نا فرمانی کے زمرے میں آتا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے گزشتہ ماہ تحریکِ انصاف کے سربراہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ وہ عدالت میں پیش ہو کر یہ بات واضح کریں کہ انہوں نے عام انتخابات میں عدلیہ کی مبینہ ناقص کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے لیے ’’شرمناک‘‘ کا لفظ کیوں استعمال کیا تھا۔
آج ہونے والی اس سماعت کے دوران عمران خان نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مذکورہ الفاظ انتخابات کی نگرانی کرنے والے عدالتی افسران یعنی ریٹرننگ افسران کے کردار کے لیے استعمال کیا تھا۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر عمران خان کا کہنا تھا ، ’’ہم سپریم کورٹ سے انصاف نہ مانگیں تو کس سے مانگیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ چار حلقوں میں ہونے والی دھاندلی کی تفصیلی تحقیقات کروائی جائیں۔‘‘ یہ وہ حلقے ہیں، جہاں اب تک الیکشن ٹربیونلز تحقیقات نہیں کر سکے۔
عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے اس نوٹس کی سماعت سپریم کورٹ کے ایک سہ رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ایسی ویسی بات نہیں کی تو لفظ ’شرمناک‘ پر اظہار افسوس کرنے میں حرج ہی کیا ہے۔
جسٹس انور ظہیر نے اس دوران کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ عدالت نے صدارتی انتخابات قبل از وقت کرانے کا فیصلہ اختیار سے تجاوز کر کے دیا ہے۔ جسٹس خلجی عارف نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عمران خان سے قوم اور نوجوانوں نے توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔
سماعت کے دوران پاکستان کے اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت میں بیان دیا کہ اعلیٰ عدالتوں پر خواہ کوئی بھی الزام عائد کرے، عوام اس پر یقین نہیں کریں گے، عدالت کی عظمت اور وقار عوام کی نظر میں ہے اور ہمیشہ رہے گی۔
فریقین کو سننے کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس خارج کر دیا۔