تھائی لینڈ نے ڈیجیٹل پیشوں سے وابستہ امیر غیر ملکیوں کے لیے گولڈن ویزہ اسکیم شروع کر دی ہے۔ اس میں شرط فقط بینک میں پیسے دکھانے کی ہو گی۔
تصویر: Fokke Baarssen/Zoonar/picture alliance
اشتہار
تھائی لینڈ کی نئیویزہ اسکیم میں غیر ملکی پروفیشنلز کو تھائی لینڈ سے کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس ویزہ اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے تاہم کسی شخص کو بینک اکاؤنٹ میں اچھا خاصا سرمایہ دکھانے کی ضرورت ہو گی۔
تھائی لینڈ کی اسکیم کے مطابق امیر غیر ملکیوں کو دس سال کا 'گولڈن ویزہ‘ جاری کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پر یہ ویزہ بقول تھائی گورنمنٹ 'ورک فرام تھائی لینڈ‘ کے نام سے ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل شعبوں سے وابستہ افراد کو دیے جائیں گے۔ حکومتی منصوبے کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے اگلے دس برسوں میں مقامی اقتصادیات کو 26 ارب یورو کے برابر فائدہ پہنچے گا۔
ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے تھائی لینڈ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سیکرٹری جنرل ناریت تھیرڈسٹیراسُکڈی نے کہا کہ ان کے اندازے کے مطابق اس ویزہ اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے کم ازکم پچاس فیصد افراد کا تعلق یورپ سے ہو گا، ''ہمیں یقین ہے کہ یہ طویل المدتی ویزہ اسکیم یورپ میں ہمارے ٹارگٹ گروپ کو بڑی حد تک متوجہ کرے گی۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا، ''تھائی لینڈ پہلے ہی یورپی شہریوں کی ایک پسندیدہ منزل ہے۔ اس مہم کے آغاز سے پہلے ہی جس انداز کی دلچسپی ہمیں یورپی افراد کی جانب سے دکھائی دے رہے ہے، وہ بتاتی ہے کہ لانچ کے بعد یہ مزید افراد کے لیے ایک معروف اسکیم بن جائے گی۔‘‘
یورپی یونین کی رکن ریاستیں تھائی لینڈ میں سرمایہ کاری کے اعتبار سے جاپان کے بعد سب سے آگے ہیں۔ دو ہزار بیس کے اختتام تک یورپی ممالک کی جانب سے تھائی لینڈ میں آؤٹ ورڈز حصص انیس اعشاریہ آٹھ ارب تھے۔ واضح رہے کہ آؤٹ ورڈز اسٹاک اشاریے بہ راہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری FDI کی نشاندہی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
اس ویزہ اسکیم سے فائدہ کون اٹھا سکتا ہے؟
اس نئی طویل ویزہ اسکیم کے تحت چار مختلف کیٹیگریز میں غیر ملکیوں کو یکم ستمبر سے ورک ویزے دیے جا رہے ہیں۔ اس کے لیےکسی شخص کو ایک ملین ڈالر کے اثاثے اور سالانہ تنخواہ اسی ہزار ڈالر دکھانا ہو گی۔ گو کہ مختلف گروپس میں ان ضوابط میں معمولی فرق بھی ہے تاہم تھائی حکومت ملک کے لیے ضروری شعبوں میں درکار 'انتہائی ہنریافتہ پیشہ ور افراد'‘ کے لیے یہ راہ کھول رہی ہے۔
پاکستانی پاسپورٹ عالمی درجہ بندی میں دنیا کا چوتھا کمزور ترین پاسپورٹ ہے، جس کے ذریعے ان تیس سے کم ممالک کا بغیر ویزہ سفر ممکن ہے۔
تصویر: picture alliance / blickwinkel/M
ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک: 1۔ قطر
قطر نے گزشتہ برس پاکستان سمیت اسی سے زائد ممالک کے شہریوں کو پیشگی ویزا حاصل کیے بغیر تیس دن تک کی مدت کے لیے ’آمد پر ویزا‘ جاری کرنا شروع کیا ہے۔
تصویر: imago/imagebroker
2۔ کمبوڈیا
سیاحت کی غرض سے جنوب مشرقی ایشیائی ملک کمبوڈیا کا سفر کرنے کے لیے پاکستانی شہری آن لائن ای ویزا حاصل کر سکتے ہیں یا پھر وہ کمبوڈیا پہنچ کر ویزا بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/AP
3۔ مالدیپ
ہوٹل کی بکنگ، یومیہ اخراجات کے لیے درکار پیسے اور پاسپورٹ موجود ہو تو مالدیپ کی سیاحت کے لیے بھی پاکستانی شہری ’آمد پر ویزا‘ حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: AP
4۔ نیپال
پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے نیپال کا 30 دن کا ویزا مفت ہے۔ لیکن اگر آپ اس سے زیادہ وقت وہاں قیام کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو فیس دے کر ویزا کا دورانیہ بڑھوانا پڑے گا۔
تصویر: picture-alliance/SOPA Images via ZUMA Wire/S. Pradhan
5۔ مشرقی تیمور
مشرقی تیمور انڈونیشا کا پڑوسی ملک ہے اور پاکستانی شہری یہاں پہنچ کر ایئرپورٹ پر ہی تیس روز کے لیے ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: Jewel Samad/AFP/Getty Images
کیریبین ممالک: 1۔ ڈومینیکن ریپبلک
کیریبین جزائر میں واقع اس چھوٹے سے جزیرہ نما ملک کے سفر کے لیے پاکستانی شہریوں کو ویزا حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستانی سیاح اور تجارت کی غرض سے جمہوریہ ڈومینیکا کا رخ کرنے والے ویزے کے بغیر وہاں چھ ماہ تک قیام کر سکتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/Photoshot/R. Guzman
2۔ ہیٹی
ہیٹی کیریبین جزائر میں واقع ہے اور تین ماہ تک قیام کے لیے پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کو ویزا حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔
تصویر: AP
3۔ سینٹ وینسینٹ و گریناڈائنز
کیریبین جزائر میں واقع ایک اور چھوٹے سے ملک سینٹ وینسینٹ و گریناڈائنز کے لیے بھی پاکستانی شہریوں کو ایک ماہ قیام کے لیے ویزا حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔
تصویر: KUS-Projekt
4۔ ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو
بحیرہ کیریبین ہی میں واقع یہ ملک جنوبی امریکی ملک وینیزویلا سے محض گیارہ کلومیٹر دور ہے۔ یہاں سیاحت یا کاروبار کی غرض سے آنے والے پاکستانیوں کو نوے دن تک کے قیام کے لیے ویزا حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/EPA/A. De Silva
5۔ مونٹسیراٹ
کیریبئن کایہ جزیرہ ویسٹ انڈیز کا حصہ ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کو یہاں 180 دن تک کے قیام کے لیے ویزا کی ضرورت نہیں ہے۔
تصویر: Montserrat Development Corporation
جنوبی بحرا الکاہل کے جزائر اور ممالک: 1۔ مائکرونیشیا
بحر الکاہل میں یہ جزائر پر مبنی ریاست مائکرونیشیا انڈونیشیا کے قریب واقع ہے۔ پاکستانی شہریوں کے پاس اگر مناسب رقم موجود ہو تو وہ ویزا حاصل کیے بغیر تیس دن تک کے لیے مائکرونیشیا جا سکتے ہیں۔
تصویر: Imago/imagebroker
2۔ جزائر کک
جنوبی بحر الکاہل میں واقع خود مختار ملک اور جزیرے کا کُل رقبہ نوے مربع میل بنتا ہے۔ جزائر کک میں بھی ’آمد پر ویزا‘ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/robertharding/M. Runkel
3۔ نیووے
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق جنوب مغربی بحر الکاہل میں جزیرہ ملک نیووے کا سفر بھی پاکستانی شہری بغیرہ پیشگی ویزا حاصل کیے کر سکتے ہیں۔
تصویر: Imago/imagebroker
4۔ جمہوریہ پلاؤ
بحر الکاہل کے اس چھوٹے سے جزیرہ ملک کا رقبہ ساڑھے چار سو مربع کلومیٹر ہے اور تیس دن تک قیام کے لیے پاکستانی شہریوں کو یہاں بھی پیشگی ویزے کی ضرورت نہیں۔
تصویر: Imago/blickwinkel
5۔ سامووا
جنوبی بحرالکاہل ہی میں واقع جزائر پر مشتمل ملک سامووا کی سیاحت کے لیے بھی ساٹھ روز تک قیام کے لیے ویزا وہاں پہنچ کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔
تصویر: AP
6۔ تووالو
بحر الکاہل میں آسٹریلیا سے کچھ دور اور فیجی کے قریب واقع جزیرہ تووالو دنیا کا چوتھا سب سے چھوٹا ملک ہے۔ یہاں بھی پاکستانی شہری ’آمد پر ویزا‘ حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/robertharding
7۔ وانواتو
جمہوریہ وانواتو بھی جزائر پر مبنی ملک ہے اور یہ آسٹریلیا کے شمال میں واقع ہے۔ یہاں بھی تیس دن تک کے قیام کے لیے پاکستانی پاسپورٹ کے حامل افراد کو ویزا حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔
افریقی ممالک: 1۔ کیپ ویردی
کیپ ویردی بھی مغربی افریقہ ہی میں واقع ہے اور یہاں بھی پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد ’ویزا آن ارائیول‘ یعنی وہاں پہنچ کر ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/R.Harding
2۔ یونین آف دی کوموروز
افریقہ کے شمالی ساحل پر واقع جزیرہ نما اس ملک کو ’جزر القمر‘ بھی کہا جاتا ہے اور یہاں آمد کے بعد پاکستانی شہری ویزا لے سکتے ہیں۔
3۔ گنی بساؤ
مغربی افریقی ملک گنی بساؤ میں بھی پاکستانی شہری آمد کے بعد نوے دن تک کا ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: DW/F. Tchuma
4۔ کینیا
پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کو افریقی ملک کینیا میں آن ارائیول ویزا دینے کی سہولت موجود ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/A. Gebert
5۔ مڈگاسکر
مڈگاسکر بحر ہند میں افریقہ کے مشرق میں واقع جزائر پر مبنی ملک ہے۔ پاکستانی دنیا کے اس چوتھے سب سے بڑے جزیرہ نما ملک مڈگاسکر پہنچ کر نوے دن تک کے لیے ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: DW/J.Pasotti
6۔ موریطانیہ
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق افریقہ کے شمال مغرب میں واقع مسلم اکثریتی ملک موریطانیہ میں بھی پاکستانی شہری ’آمد پر ویزا‘ حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa
7۔ موزمبیق
جنوب مشرقی افریقی ملک موزمبیق میں بھی پاکستانی شہری ایئرپورٹ پر پہنچ کر تیس روز تک کے لیے ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: Ismael Miquidade
8۔ روانڈا
روانڈا کی طرف سے پاکستانی شہریوں کو ایئرپورٹ پر آمد پر ویزا دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سفر سے قبل ای ویزا بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: Imago/photothek/T. Imo
9۔ سینیگال
پاکستانی شہری افریقی ملک سینیگال جانے کے لیے آن لائن اور ایئرپورٹ پہنچ کر ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: Imago Images
10۔ سیشلس
بحر ہند میں ڈیڑھ سو سے زائد چھوٹے چھوٹے جزائر پر مشتمل ملک سیشلس کا سفر پاکستانی شہری ویزا حاصل کیے بغیر کر سکتے ہیں۔
تصویر: picture alliance / blickwinkel/M
11۔ سیرالیون
سیرالیون کی طرف سے پاکستانی شہریوں کو ایئرپورٹ پہنچنے پر ویزا فراہم کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔
تصویر: Getty Images/AFP/M. Longari
12۔ صومالیہ
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد افریقی ملک صومالیہ میں موغادیشو، بوصاصو اور گالکایو کے ہوائی اڈوں پر ’آمد کے بعد ویزا‘ حاصل کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں صومالین سفارت خانے کی ویب سائٹ سے تاہم ان معلومات کی تصدیق نہیں ہوتی۔
تصویر: Reuters
13۔ تنزانیہ
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق موزمبیق کے پڑوسی ملک تنزانیہ میں بھی پاکستانی شہری ’آمد پر ویزا‘ حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: DW/A.Rönsberg
14۔ ٹوگو
افریقہ کے مغرب میں واقع پینسٹھ لاکھ نفوس پر مشتمل ملک ٹوگو میں بھی پاکستانی شہری ایئرپورٹ آمد کے بعد ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: Getty Images/AFP/I. Sanogo
15۔ یوگنڈا
وسطی افریقی ملک یوگنڈا میں بھی پاکستانی پاسپورٹ کے حامل افراد ’آمد پر ویزا‘ حاصل کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں انٹرنیٹ پر پیشگی ’الیکٹرانک ویزا‘ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
تصویر: DW/K. Adams
32 تصاویر1 | 32
'ورک فراہم تھائی لینڈ پروفینشلز‘ کیٹیگری میں درخواست گزار کو ٹیکنالوجی سیکٹر کی کسی ایسی کمپنی کی ملازمت دکھانا ہو گی، جس نے پچھلے تین برسوں میں کم از کم ایک سو پچاس ملین ڈالر کا کاروبار کیا ہو۔
'امیر عالمی شہری‘ کیٹیگری میں شامل افراد کو درخواست دینے کے لیے تھائی معیشت میں کم از کم پانچ لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہو گی، جو وہ بانڈز یا جائیداد خریدنے کی صورت میں کر سکتے ہیں۔
'ہائیلی اسکِلڈ پروفیشنلز‘ کیٹیگری میں درخواست دینے والوں کے لیے17 فیصد ٹیکس کی خصوصی شرح رکھی گئی ہے، جب اس وقت ایک لاکھ چالیس ہزار ڈالر یا زائد سالانہ تنخواہ لینے والوں پر یہ ٹیکس 35 فیصد ہے۔ یہ ویزہ دس سال کے لیے ہو گا اور اس کی تجدید بھی ممکن ہو گی، جب کے اس کے حامل افراد کو تھائی لینڈ میں کام کی اجازت ہو گی۔