1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

تھائی لینڈ کی گولڈن ویزہ اسکیم

19 اگست 2022

تھائی لینڈ نے ڈیجیٹل پیشوں سے وابستہ امیر غیر ملکیوں کے لیے گولڈن ویزہ اسکیم شروع کر دی ہے۔ اس میں شرط فقط بینک میں پیسے دکھانے کی ہو گی۔

Symbolbild I Remote Online Working
تصویر: Fokke Baarssen/Zoonar/picture alliance

تھائی لینڈ کی نئیویزہ اسکیم میں غیر ملکی پروفیشنلز کو تھائی لینڈ سے کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس ویزہ اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے تاہم کسی شخص کو بینک اکاؤنٹ میں اچھا خاصا سرمایہ دکھانے کی ضرورت ہو گی۔

جرمن ویزہ: طلبہ کو مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے، رپورٹ

سری لنکا نے اپنے ہاں ویزا فری انٹری شروع کر دی

تھائی لینڈ کی اسکیم کے مطابق امیر غیر ملکیوں کو دس سال کا 'گولڈن ویزہ‘ جاری کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پر یہ ویزہ بقول تھائی گورنمنٹ 'ورک فرام تھائی لینڈ‘ کے نام سے ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل شعبوں سے وابستہ افراد کو دیے جائیں گے۔ حکومتی منصوبے کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے اگلے دس برسوں میں مقامی اقتصادیات کو 26 ارب یورو کے برابر فائدہ پہنچے گا۔

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے تھائی لینڈ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سیکرٹری جنرل ناریت تھیرڈسٹیراسُکڈی نے کہا کہ ان کے اندازے کے مطابق اس ویزہ اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے کم ازکم پچاس فیصد افراد کا تعلق یورپ سے ہو گا، ''ہمیں یقین ہے کہ یہ طویل المدتی ویزہ اسکیم یورپ میں ہمارے ٹارگٹ گروپ کو بڑی حد تک متوجہ کرے گی۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ''تھائی لینڈ پہلے ہی یورپی شہریوں کی ایک پسندیدہ منزل ہے۔ اس مہم کے آغاز سے پہلے ہی جس انداز کی دلچسپی ہمیں یورپی افراد کی جانب سے دکھائی دے رہے ہے، وہ بتاتی ہے کہ لانچ کے بعد یہ مزید افراد کے لیے ایک معروف اسکیم بن جائے گی۔‘‘

یورپی یونین کی رکن ریاستیں تھائی لینڈ میں سرمایہ کاری کے اعتبار سے جاپان کے بعد سب سے آگے ہیں۔ دو ہزار بیس کے اختتام تک یورپی ممالک کی جانب سے تھائی لینڈ میں آؤٹ ورڈز حصص انیس اعشاریہ آٹھ ارب تھے۔ واضح رہے کہ آؤٹ ورڈز اسٹاک اشاریے بہ راہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری FDI کی نشاندہی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

اس ویزہ اسکیم سے فائدہ کون اٹھا سکتا ہے؟

اس نئی طویل ویزہ اسکیم کے تحت چار مختلف کیٹیگریز میں غیر ملکیوں کو یکم ستمبر سے ورک ویزے دیے جا رہے ہیں۔ اس کے لیےکسی شخص کو ایک ملین ڈالر کے اثاثے اور سالانہ تنخواہ اسی ہزار ڈالر دکھانا ہو گی۔ گو کہ مختلف گروپس میں ان ضوابط میں معمولی فرق بھی ہے تاہم تھائی حکومت ملک کے لیے ضروری شعبوں میں درکار 'انتہائی ہنریافتہ پیشہ ور افراد'‘ کے لیے یہ راہ کھول رہی ہے۔

'ورک فراہم تھائی لینڈ پروفینشلز‘ کیٹیگری میں درخواست گزار کو ٹیکنالوجی سیکٹر کی کسی ایسی کمپنی کی ملازمت دکھانا ہو گی، جس نے پچھلے تین برسوں میں کم از کم ایک سو پچاس ملین ڈالر کا کاروبار کیا ہو۔

'امیر عالمی شہری‘ کیٹیگری میں شامل افراد کو درخواست دینے کے لیے تھائی معیشت میں کم از کم پانچ لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہو گی، جو وہ بانڈز یا جائیداد خریدنے کی صورت میں کر سکتے ہیں۔

'ہائیلی اسکِلڈ پروفیشنلز‘ کیٹیگری میں درخواست دینے والوں کے لیے17 فیصد ٹیکس کی خصوصی شرح رکھی گئی ہے، جب اس وقت ایک لاکھ چالیس ہزار ڈالر یا زائد سالانہ تنخواہ لینے والوں پر یہ ٹیکس 35 فیصد ہے۔ یہ ویزہ دس سال کے لیے ہو گا اور اس کی تجدید بھی ممکن ہو گی، جب کے اس کے حامل افراد کو تھائی لینڈ میں کام کی اجازت ہو گی۔

ڈیوڈ ہٹ (ع ت، ع ا)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں