1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

تیل کی بڑی کمپنیوں پر یورپی یونین کے چھاپے

15 مئی 2013

یورپی کمیشن نے پرائس فکسنگ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شبے میں تیل کی چند بڑی کمپنیوں کا غیر متوقع معائنہ کروایا ہے کیونکہ یہ اقدام یونین کے قوانین کی خلاف ورزی اور اعتبار کو ٹھیس پہنچانے کے زمرے میں آتا ہے۔

تصویر: picture-alliance/dpa

پرائس فکسنگ دراصل مارکیٹ میں موجود فریقوں کے درمیان طے پانے والا ایک معاہدہ ہوتا ہے، جس کے ذریعے اشیاء اور مصنوعات کی خرید و فروخت کی قیمتیں مقرر کر دی جاتی ہیں اور اشیاء کی فراہمی اور ان کی طلب پر کنٹرول رکھتے ہوئے طے شدہ قیمتوں کو برقرار رکھا جاتا ہے۔

یورپی کمیشن کی طرف سے منگل کو چوٹی کی چند تیل کمپنیوں پر چھاپے مارے گئے۔ تاہم اب تک اس کارروائی کی زد میں آنے والی کمپنیوں کے نام باقاعدہ طور پر منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔ دریں اثناء برطانیہ کی مشہور زمانہ تیل کمپنی ’بی پی‘ اور ’شیل‘ اور ناروے کی ’اسٹاٹ آئل‘ کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ معائنہ کاروں نے اُن کی کمپنیوں کا دورہ کیا ہے۔

یورپی کمیشن کی طرف سے دیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تیل کی منڈیوں میں پیدا ہونے والی کسی چھوٹی موٹی بگاڑ سے بھی خام تیل، ریفائنڈ تیل سے تیار کردہ مصنوعات اور بائیو ایندھن کی خرید و فروخت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور یہ آخر کار صارفین کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی۔

ناروے قدرتی ذخائر سے مالا مال ہےتصویر: Harald Pettersen / StatoilHydro

اُدھر برطانوی تیل کمپنی ’بی پی‘ نے اپنے ایک بیان میں یورپی کمیشن کی طرف سے معائنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُس کی انتظامیہ معائنہ کاروں کی ٹیم کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہی ہے تاہم اس بارے میں وہ ابھی مزید تفصیلات نہیں بتا سکتی۔

تیل کمپنی ’شیل‘ کے ایک ترجمان نے کہا، ہم اس امر کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ شیل کمپنیاں یورپی کمیشن کی معائنہ کار ٹیم کی حالیہ تفتیشی کارروائی میں مدد کر رہی ہیں۔

ناروے کی آئل کمپنی اسٹاٹ آئل کے ساتھ ساتھ پلاٹس نے بھی، جو تیل کی قیمتوں کے حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی رپورٹنگ ایجنسی ہے، اپنے اپنے ہاں یورپی کمیشن کی چھان بین کی تصدیق کی ہے۔

اس ضمن میں مبینہ قانونی خلاف ورزیوں کا تعلق ’پلاٹس‘ کی رپورٹوں سے ہے، جو خاص طور سے خام تیل، تیل سے تیار کردہ مصنوعات اور بائیو ایندھن کی مارکیٹ آن کلوز ’ایم او سی‘ قیمت کے جائزے پر مشتمل رپورٹ تیار کرتی آئی ہے۔ یہ سلسلہ غالباً 2002ء سے جاری تھا۔ یہ کہنا ہے ’اسٹاٹ آئل‘ کا، جس کے 67 فیصد سرمایے کی مالک ناروے کی حکومت ہے۔

بی پی کے گیس اسٹیشنز ہر جگہ پائے جاتے ہیںتصویر: Getty Images

دریں اثناء یورپی کمیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ چھان بین یورپی یونین کے دو رکن ممالک میں عمل میں لائی گئی ہے۔ ان میں سے ایک کا تعلق ’یورپین اِکنامک ایریا‘ EEA سے ہے۔ اس اتحاد میں یورپی یونین کے ممبر ممالک کے علاوہ آئس لینڈ، لیشٹن اشٹائن اور ناروے شامل ہیں۔ یہ 1994ء میں ’یورپین فری ٹریڈ ایسوسی ایشن‘ اور EFTA اور بعد میں یورپی یونین بن جانے والی یورپی کمیونٹی کے مابین ایک معاہدے کے تحت وجود میں آیا تھا۔ اس معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ EFTA اور EEA کے ممبر ممالک یورپی یونین کی رکنیت کے بغیر بھی یونین کی اندرونی منڈی میں سرگرم ہو سکتے ہیں۔

یورپی کمیشن نے اپنے بیان میں اس امر پر تشویش کا بھی اظہار کیا ہے کہ ممکنہ طور پر ان کمپنیوں نے تیل اور بائیو ایندھن کی متعدد مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں بھی سازش اور جوڑ توڑ سے کام لیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کمپنیوں نے قیمتوں کا جائزہ لگانے کے عمل میں دیگر کمپنیوں کو حصہ لینے سے روکے رکھا ہو، تاکہ وہ خود تیل کی اشاعتی قیمتوں کا تعین کریں اور آپس میں ہی فیصلہ کر لیں کہ تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہونا چاہیے۔ یہ اقدام صارفین کے لیے نقصان کا باعث ہے جو تیل کی ضرورت کے تحت اسے بڑھی ہوئی قیمت پر بھی خریدنے کے لیے مجبور ہوتے ہیں۔

آٹوموبائل ایسوسی ایشن نے پیش گوئی کی ہے کہ یہ راز کسی بھی وقت ایک بڑے دھماکے کے ساتھ فاش ہونے والا ہے اور تیل اور ایندھن کی مارکیٹ میں ہونے والی مشکوک سرگرمیوں سے متعلق انتباہ 2005 ء سے ہی کیا جاتا رہا ہے۔

km/aa (AFP)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں