مہاجرین کے بحران میں گِھری جرمن حکومت نے ايک ايسی نئی ويب سائٹ لانچ کی ہے، جس میں اُن پناہ گزينوں کی رہنمائی کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جو رضا کارانہ طور پر اپنے اپنے وطن واپس جانا چاہتے ہیں۔
تصویر: Getty Images/AFP/D. Souleiman
اشتہار
سوال: جرمن حکومت کو آخر اس ویب سائٹ کو شروع کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟
گزشتہ کچھ عرصے سے جرمنی میں موجود پناہ کے متلاشی ایسے افراد کی اُن کے آبائی ممالک واپسی کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی ہے، جن کی پناہ کی درخواستوں کو مسترد کیا جا چکا ہے۔ اب جرمن حکومت اس کوشش میں ہے کہ ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں مناسب معلومات فراہم کی جائیں تاکہ وہ کسی مشکل میں پڑے بغیر آسانی سے اپنے اپنے ممالک واپس چلے جائیں۔ اسی مقصد کی خاطر یہ ویب سائٹ بنائی گئی ہے۔www.returningfromgermany.de کے نام سے بنائی گئی اس ويب سائٹ پر رضاکارانہ ملک بدری کے ليے مشاورت کے مراکز، وطن واپسی کے امکانات اور ممکنہ مالی امداد کے بارے مفصل معلومات دستياب ہيں۔
یہ امر اہم ہے کہ ایسے افراد جن کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں، وہ جلد یا بدیر جرمنی سے ملک بدر کر دیے جائیں گے، اس لیے بہتر ہے کہ یہ لوگ جرمن حکومت سے تعاون کرتے ہوئے ممکنہ مالی امداد حاصل کریں اور رضا کارانہ طور پر واپس چلے جائیں۔
سوال: جرمنی سے رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے غیر ملکیوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔ اس کی شرح کیا ہے اور کیا اس میں پاکستانی بھی شامل ہیں؟
جواب: اگر اعداد و شمار سے پرکھا جائے تو عالمی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق سن دو ہزار سولہ یعنی گزشتہ برس کے دوران تقریبا چوّن ہزار تارکین وطن رضا کارانہ طور پر جرمنی سے چلے گئے تھے۔ تاہم رواں برس اپریل کے اختتام تک یہ تعداد تقریبا گیارہ ہزار بنتی ہے۔
یوں ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس کے پہلے چار ماہ میں رضاکارانہ طور پر اپنی ملک بدری قبول کرنے والے مہاجرین کی شرح میں چالیس فیصد کمی ہوئی ہے۔ جرمن حکومت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت بھی جرمنی میں کم از کم تیس ہزار ایسے تارکین وطن اور مہاجرین موجود ہیں، جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ واضح کر چکی ہے کہ ان افراد کو فوری طور پر جرمنی چھوڑ کر چلے جانا چاہیے۔ اچھا، ان تارکین وطن میں پاکستانی بھی شامل ہیں، لیکن ان میں زیادہ تعداد بلقان کی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کی ہے، جو اقتصادی مقاصد کے تحت نقل مکانی کرتے ہوئے جرمنی پہنچے تھے۔ اس کے علاوہ ان میں افغان باشندوں کے ساتھ ساتھ کچھ افریقی ممالک کے شہری بھی شامل ہیں۔
یورپ میں مہاجرین کا بحران کیسے شروع ہوا؟
مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے کئی ممالک میں بڑھتی ہوئی شورش مہاجرت کے عالمی بحران کا سبب بنی ہے۔ اس تناظر میں یورپ بھی متاثر ہوا ہے۔ آئیے تصویری شکل میں دیکھتے ہیں کہ اس بحران سے نمٹنے کی خاطر یورپ نے کیا پالیسی اختیار کی۔
تصویر: picture-alliance/PIXSELL
جنگ اور غربت سے فرار
سن دو ہزار چودہ میں شامی بحران کے چوتھے سال میں داخل ہوتے ہی جہاں اس عرب ملک میں تباہی عروج پر پہنچی وہاں دوسری طرف انتہا پسند گروہ داعش نے ملک کے شمالی علاقوں پر اپنا قبضہ جما لیا۔ یوں شام سے مہاجرت کا سلسلہ تیز تر ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی دیگر کئی ممالک اور خطوں میں بھی تنازعات اور غربت نے لوگوں کو ہجرت پر مجبور کر دیا۔ ان ممالک میں عراق، افغانستان، ارتریا، صومالیہ، نائجر اور کوسووو نمایاں رہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa
پناہ کی تلاش
شامی باشندوں کی ایک بڑی تعداد سن دو ہزار گیارہ سے ہی جنگ و جدل سے چھٹکارہ پانے کی خاطر ہمسائے ممالک ترکی، لبنان اور اردن کا رخ کرنے لگی تھی۔ لیکن سن دو ہزار پندرہ میں یہ بحران زیادہ شدید ہو گیا۔ ان ممالک میں شامی مہاجرین اپنے لیے روزگار اور بچوں کے لیے تعلیم کے کم مواقع کی وجہ سے آگے دیگر ممالک کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ تب مہاجرین نے یورپ کا رخ کرنا بھی شروع کر دیا۔
تصویر: picture-alliance/dpa
طویل مسافت لیکن پیدل ہی
سن دو ہزار پندرہ میں 1.5 ملین شامی مہاجرین نے بلقان کے مختلف رستوں سے پیدل ہی یونان سے مغربی یورپ کی طرف سفر کیا۔ مہاجرین کی کوشش تھی کہ وہ یورپ کے مالدار ممالک پہنچ جائیں۔ بڑے پیمانے پر مہاجرین کی آمد کے سبب یورپی یونین میں بغیر ویزے کے سفر کرنے والا شینگن معاہدہ بھی وجہ بحث بن گیا۔ کئی ممالک نے اپنی قومی سرحدوں کی نگرانی بھی شروع کر دی تاکہ غیر قانونی مہاجرین کو ملک میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔
تصویر: Getty Images/M. Cardy
سمندرعبور کرنے کی کوشش
افریقی ممالک سے یورپ پہنچنے کے خواہمشند پناہ کے متلاشی نے بحیرہ روم کو عبور کرکے اٹلی پہنچنے کی کوشش بھی جاری رکھی۔ اس دوران گنجائش سے زیادہ افراد کو لیے کئی کشتیاں حادثات کا شکار بھی ہوئیں۔ اپریل سن 2015 میں کشتی کے ایک خونریز ترین حادثے میں آٹھ سو افراد ہلاک گئے۔ یہ کشتی لیبیا سے اٹلی کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ رواں برس اس سمندری راستے کو عبور کرنے کی کوشش میں تقریبا چار ہزار مہاجرین غرق سمندر ہوئے۔
تصویر: Reuters/D. Zammit Lupi
یورپی ممالک پر دباؤ
مہاجرین کی آمد کے سلسلے کو روکنے کی خاطر یورپی یونین رکن ممالک کے ہمسایہ ممالک پر دباؤ بڑھتا گیا۔ اس مقصد کے لیے ہنگری، سلووینیہ، مقدونیہ اور آسٹریا نے اپنی قومی سرحدوں پر باڑیں نصب کر دیں۔ پناہ کے حصول کے قوانین میں سختی پیدا کر دی گئی جبکہ شینگن زون کے رکن ممالک نے قومی بارڈرز پر عارضی طور پر چیکنگ کا نظام متعارف کرا دیا۔
تصویر: picture-alliance/epa/B. Mohai
کھلا دروازہ بند ہوتا ہوا
جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے مہاجرین کی یورپ آمد کے لیے فراخدلانہ پالیسی اپنائی۔ تاہم ان کے سیاسی مخالفین کا دعویٰ ہے کہ میرکل کی اسی پالیسی کے باعث مہاجرین کا بحران زیادہ شدید ہوا، کیونکہ یوں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو تحریک ملی کہ وہ یورپ کا رخ کریں۔ ستمبر سن دو ہزار سولہ میں بالاخر جرمنی نے بھی آسٹریا کی سرحد پر عارضی طور پر سکیورٹی چیکنگ شروع کر دی۔
تصویر: Reuters/F. Bensch
ترکی کے ساتھ ڈیل
سن دو ہزار سولہ کے اوائل میں یورپی یونین اور ترکی کے مابین ایک ڈیل طے پائی، جس کا مقصد ترکی میں موجود شامی مہاجرین کی یورپ آمد کو روکنا تھا۔ اس ڈیل میں یہ بھی طے پایا کہ یونان پہنچنے والے مہاجرین کو واپس ترکی روانہ کیا جائے گا۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس ڈیل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ کہا جاتا ہے کہ اس ڈیل کی وجہ سے یورپ آنے والے مہاجرین کی تعداد میں واضح کمی ہوئی ہے۔
تصویر: Getty Images/AFP/A. Altan
مہاجرین کا نہ ختم ہونے والا بحران
مہاجرین کے بحران کی وجہ سے یورپ میں مہاجرت مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ یورپی ممالک ابھی تک اس بحران کے حل کی خاطر کسی لائحہ عمل پر متفق نہیں ہو سکے ہیں۔ رکن ممالک میں مہاجرین کی منصفانہ تقسیم کا کوٹہ سسٹم بھی عملی طور پرغیرمؤثر ہو چکا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور دیگر کئی ممالک میں بدامنی کا خاتمہ ابھی تک ختم ہوتا نظر نہیں آتا جبکہ مہاجرت کا سفر اختیار کرنے والے افراد کی اموات بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔
تصویر: Getty Images/AFP/S. Mitrolidis
8 تصاویر1 | 8
سوال: جرمن حکومت اسی سلسلے میں پہلے بھی اقدامات کر چکی ہے۔ کیا اب اس ویب سائٹ کے متعارف کرانے سے صورتحال بہتر ہو سکے گی؟
جواب: برلن حکومت اس بحران کے تناظر میں کئی اقدامات کر چکی ہے اور ایسے افراد کی واپسی کی کوشش بھی کررہی ہے، جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔ دراصل مسئلہ یہ ہے کہ جرمنی آنے والے ایسے افراد کے پاس مناسب معلومات کی بہتات نہیں اور وہ اکثر غلط معلومات کی وجہ سے مشکلات کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جرمنی سے ناکام درخواست دہندگان کی ملک بدری نہ صرف پيچيدہ بلکہ کافی مہنگا عمل بھی ہے۔
تاہم پھر بھی کوشش جاری ہے کہ ایسے غیر ملکیوں کو زیادہ سے زیادہ درست معلومات فراہم کی جائیں۔ فی الحال یہ ویب سائٹ صرف انگریزی اور جرمن زبان میں ہے لیکن جلد ہی عربی سمیت دیگر زبانوں میں بھی اس ویب سائٹ پر معلومات دستیاب ہوں گی۔
ايک مطالعے کے مطابق پچھلے سال کی پہلی سہ ماہی ميں لگ بھگ چودہ ہزار مہاجرين نے رضاکارانہ بنيادوں پر جرمنی سے اپنے اپنے آبائی ممالک کا رخ کيا تھا۔ رواں سال اسی عرصے کے دوران يہ تعداد ساڑھے آٹھ ہزار کے قريب رہی۔ تو بات پھر وہی ہے کہ مہاجرین اور تارکین وطن کو معلومات تک رسائی ہونا چاہیے۔ اس مقصد کی خاطر ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے تاکہ بعد میں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اسے تو معلوم ہی نہ تھا کہ کیا کیا جانا چاہیے؟