1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جان کیری کے ایما پر برسلز میں پاک افغان مذاکرات کا انعقاد

Kishwar Mustafa24 اپریل 2013

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے امید ظاہر کی ہے کہ آج افغانستان کے صدر حامد کرزئی اور پاکستان کے اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔

تصویر: picture-alliance/AP Images

آج بُدھ کو برسلز میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری، افغان صدر حامد کرزئی اور پاکستانی فوج کے چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی ملاقات کر رہے ہیں، جس میں پاکستان کے سیکرٹری خارجہ جلیل جیلانی اور افغانستان کے وزیر دفاع بسم اللہ خان محمدی کی شرکت بھی متوقع ہے۔ یہ مذاکرات افغانستان، پاکستان اور امریکا کے مابین سہ فریقی مذاکرات کی ایک کڑی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

یہ سہ فریقی بات چیت ایک ایسے وقت میں عمل میں آ رہی ہے، جب مغربی دفاعی اتحاد نیٹو افغانستان سے آئندہ برس 2014 ء میں اپنے فوجیوں کی انخلاء کی تیاریاں کر رہا ہے۔ جان کیری نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے گزشتہ روز یعنی منگل کو برسلز پہنچے تھے، جہاں ایک روزہ اجلاس میں شام کے خونریز تنازعے کو مرکزی اہمیت حاصل رہی۔ جان کیری نے بذات خود پاکستان اورافغانستان کے چوٹی کے نمائندوں کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات طے کیے تھے اور اُن کے برسلز کے اس بار کے دورے کا ایک اہم مقصد بھی یہی بتایا جا رہا ہے۔ بند کمرے میں شروع ہونے والی بات چیت سے پہلے امریکی وزیر خارجہ نے ایک بیان دیتے ہوئی امید ظاہر کی کہ ان مذاکرات میں پاکستان اور افغانستان کے مابین بڑھتے ہوئے سرحدی تنازعات، اور جمود کے شکار امن مذاکرت کو بحال کرنے کے بارے میں بات چیت ہو گی۔

جنرل پرویز کیانیتصویر: Abdul Sabooh

بلجیم کے دارالحکومت برسلز کے ایک مضافاتی علاقے میں امریکی سفیر کی رہائش گاہ میں ہونے والی ملاقات کے آغاز پر کیری نے رپورٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان تبدیلیوں کے کٹھن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ کیری نے کہا کہ انہیں بہت خوشی ہے کہ افغان صدر ، پاکستانی فوج کے سربراہ اور اسٹیٹ سیکرٹری ان مذاکرت میں حصہ لینے کے لیے برسلز پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا،’ ہم بہت پُر امید ہیں کہ اس بات چیت کے دوران بہت سے مثبت پہلوؤں پر تبادلہ خیال ہو سکے گا‘۔

اُدھر افغان صدر حامد کرزئی نے اس میٹنگ کو نہایت ضروری قرار دیتے ہوئے کیانی اور جیلانی کی برسلز آمد کا خیر مقدم کیا ہے۔ کرزئی نے بھی رپورٹرز کو بیان دیتے ہوئے تعمیری اور مثبت مذاکرات کی امید ظاہر کی۔ آج کی اس سہ فریقی بات چیت سے قبل نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ لازمی طور پر ان عسکریت پسندوں کے خلاف نتیجہ خیز کارروائی کرے، جو افغانستان میں حملوں کے لیے پاکستانی علاقوں کو اپنی پناہ گاہوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ راسموسن نے یہ بات منگل کی شام برسلز میں نیٹو وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی تھی۔ راسموسن کا کہنا تھا، 'یہ ایک اہم مسئلہ ہے کہ دہشت گرد سرحد پار کر کے افغان علاقوں میں کارروائیاں کر سکتے ہیں اور پھر پاکستان میں اپنے لیے محفوظ پناہ گاہیں ڈھونڈ لیتے ہیں‘۔

km/ab (Reuters)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں