امریکی شہر نیویارک میں رواں برس ٹینس کے آخری گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ میں ویمنزچیمپئن شپ جاپان کی ناؤمی اوساکا نے جیت لی ہے۔ ہفتے کو کھیلے گئے چیمپئن شپ کے فائنل میچ میں سیرینا ولیمز کو شکست ہوئی۔
اشتہار
ٹینس کھیل کے یُو ایس اوپن ٹورنامنٹ میں ویمنز سنگلز چیمپئن شپ جاپانی کھلاڑی ناؤمی اوساکا نے جیت لی ہے۔ فائنل میچ میں اوساکا نے امریکی ٹینس اسٹار سیرینا ولیمز کو لگاتار دو سیٹس میں ہرایا۔ انہوں نے چیمپئن شپ میں چھ دو اور چھ چار سے کامیابی حاصل کی۔ بیس سالہ ناؤمی اوساکا پہلی جاپانی خاتون ہیں جنہوں نے ٹینس کا کوئی گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتا ہے۔
سیرینا ولیمز چوبیسواں گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ جیتنے کی کوشش میں تھیں۔ انہیں مسلسل دوسرے گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ میں شکست ہوئی ہے۔ اگر انہیں کامیابی حاصل ہوتی تو وہ سب سے زیادہ گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ جیتنے والی مارگریٹ کورٹ کے ہم پلہ ہو جاتیں۔ دو ماہ قبل وہ لندن میں کھیلے جانے والے ومبلڈن ٹینس ٹورنامنٹ کے فائنل میں جرمن کھلاڑی اینجلیک کیربر سے ہار گئی تھیں۔
یُو ایس اوپن کے فائنل میچ کے دوران سیرینا ولیمز کی ریفری کے ساتھ بدمزگی بھی ہوئی۔ میچ ریفری کارلوس راموس نے امریکی کھلاڑی کو متنبہ کیا کہ وہ باہر بیٹھے اپنے کوچ سے کھیل کی ہدایات مت لیں کیونکہ یہ قواعد کے منافی ہے۔ اسی طرح ایک پوائنٹ ہارنے پر امریکی کھلاڑی نے اپنا ریکٹ زمین پر مارا اور ریفری نے اسے کھیل کے ضابطہٴ اخلاق کے منافی قرار دیا۔
ریفری کی دوسری وارننگ پر سیرینا ولیمز نے چیختے ہوئے ریفری کو جھوٹا اور چور تک کے القابات سے نواز ڈالا۔ اس چیخنے پر ریفری نے سیرینا کو ایک اور یعنی تیسری وارننگ دیتے ہوئے اُن کے پوائنٹس میں کٹوتی بھی کر دی۔ اس کٹوتی پر وہ پہلی گیم ہار گئیں۔
میچ میں بدمزگی کے بعد نیویارک کے ٹینس کمپلیکس میں امریکی شائقین کی جانب سے جاپانی کھلاڑی کو ٹرافی دینے پر قدرے ناپسندیگی کا اظہار کیا گیا۔ اس پر سیرینا ولیمز نے آرتھر ایش اسٹیڈیم کے شائقین سے کہا کہ وہ نوجوان چیمپئن کا احترام کریں۔ امریکی لیجنڈ کا درجہ رکھنے والی سیرینا ولیمز نے اوساکا کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
یہ امر اہم ہے کہ جاپانی کھلاڑی اپنی امریکی حریف سے سولہ برس چھوٹی ہیں۔ ٹرافی حاصل کرنے کے بعد ناؤمی اوساکا نے کہا کہ سیرینا ولیمز کے ساتھ میچ کھیلنا ایک بہت بڑے اعزاز کے مساوی ہے۔
ومبلڈن اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کی چیمپئین خواتین کھلاڑی
ومبلڈن اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے رواں برس کے فائنل میچ میں امریکی ٹینس اسٹار وینس ولیمز کو اسپین کی ابھرتی ہوئی نوجوان کھلاڑی گاربینے مُوگوروسا کا سامنا تھا۔ مُوگوروسا نے آسانی کے ساتھ یہ فائنل میچ جیت لیا۔
تصویر: Reuters/M. Childs
گاربینے مُوگوروسا
اسپین کی گاربینے موگوروسا نے آج پندرہ جون سن 2017 کو اپنا دوسرا گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ جیتا ہے۔ وہ سن 2015 میں ومبلڈن کا فائنل میچ سیرینا ولیمز سے ہار گئی تھیں۔ سن 2016 میں اُنہوں نے فرنچ اوپن کے فائنل میں سیرینا ولیمز کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔ وہ دوسری ہسپانوی خاتون کھلاڑی ہیں جنہوں نے ومبلڈن جیتا ہے۔
تصویر: Reuters/M. Childs
وینس ولیمز
ٹینس کی عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی وینس ولیمز آج نویں بار ومبلڈن فائنل کھیلنے کے لیے کورٹ میں اتریں لیکن وہ جیت نہیں سکیں۔ وینس نے ومبلڈن میں پہلی جیت سن 2000 میں حاصل کی تھی۔ وہ پانچ مرتبہ یہ ٹورنامنٹ جیت چکی ہیں۔
تصویر: Reuters/T. O'Brien
سیرینا ولیمز
سن 2016 میں سیرینا ولیمز 35 سال کی تھیں جب اُنہوں نے سب سے زیادہ عمر میں ومبلڈن ٹرافی جیتنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ وہ ٹینس کے اوپن دور میں سب سے زیادہ چوبیس گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ جیت چکی ہیں۔ رواں برس وہ اپنے پہلے بچے کی ولادت کی منتظر ہیں، اس باعث ٹینس سے کنارہ کش ہیں۔ سیرینا، آج کا فائنل میچ کھیلنے والی وینس ولیمز کی چھوٹی بہن ہیں۔
تصویر: Reuters/A. Couldridge
اسٹیفی گراف
تاریخ ساز جرمن کھلاڑی اسٹیفی گراف نے سن 1988 میں پہلی مرتبہ ومبلڈن چیمپئن شپ جیتی۔ وہ سات مرتبہ لندن میں کھیلے جانے اس ٹورنامنٹ میں فتح مند رہی تھیں۔ اپنے کیریر میں وہ بائیس گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ جیتنے کا ریکارڈ رکھتی تھیں، جسے سیرینا ولیمز توڑ چکی ہیں۔ گراف نے سن 1988 کی اولمپک گیمز میں بھی سونے کا تمغہ حاصل کیا۔
تصویر: picture alliance/Photoshot
ماریا شاراپووا
روس سے تعلق رکھنے والی ماریا شارا پووا نے ومبلڈن کی ٹرافی سن 2004 میں جیتی تھی۔ سن 2005 میں وہ اٹھارہ برس کی عمر میں عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھیں۔ شارا پووا پانچ گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ جیتنے کا اعزاز رکھتی ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/V. Donev
پیٹرا کوویٹووا
چیک ری پبلک کی پٹرا کویٹووا اپنے بائیں ہاتھ سے کھیلے جانے والے اسٹروک کے لیے مشہور ہیں۔ کویٹووا دو بار سن 2011 اور سن 2014 میں ومبلڈن کی چیمپئن شپ جیتنے میں کامیاب رہی تھیں۔ گزشتہ برس انہیں چاقو کے ایک حملے میں زخمی کر دیا گیا تھا۔
تصویر: REUTERS
برطانوی ٹینس اسٹار جوہانا کونٹا
سن 2017 میں ہونے والی عالمی رینکنگ کے مطابق جوہانا کونٹا چھٹے نمبر پر ہیں۔ جوہانا کونٹا وہ پہلی خاتون برطانوی ٹینس کھلاڑی ہیں جنہوں نے 39 سال بعد پہلی بار ومبلڈن کے سیمی فائنل کےلئے کوالیفائی کیا تھا۔