عالمی مہنگائی سے ماند پڑتی جاپان کی چیری بلوسم بہار
24 مارچ 2026
جاپان میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں پر نظر رکھنے والے نجی تھنک ٹینک ڈائی ایچی لائف ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے منگل 24 مئی کو کہا ہے کہ اس سال جاپان کی مشہور "ہانامی" چیری بلاسَم پکنکس پر عالمی افراطِ زر کے گہرے اثرات نمایاں ہیں۔ ایک انڈیکس کے مطابق 2020 سے اب تک کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات جاپان کے اس منفرد تہوار پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ہر سال مارچ کے آخر سے اپریل کے اوائل تک جاپانی شہری پارکوں اور دریا کے کناروں پر نیلے ترپال بچھا کر لنچ باکس، اسنیکس اور مشروبات کے ساتھ جمع ہوتے ہیں تاکہ کھِلتے ہوئے چیری کے درختوں کے نیچے اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ پکنک منا سکیں۔
یہ روایت ہانامی کہلاتی ہے۔ یہ تہوار، جو بہت سے جاپانیوں کے لیے ایک لازمی سالانہ سرگرمی ہے، بھی بنیادی خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا۔ خام مال مہنگا ہونے کے باعث کمپنیوں نے مختلف اقسام کی خوراک اور مشروبات کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔
اس بوجھ کی شدت جانچنے کے لیے ڈائی ایچی لائف ریسرچ کے چیف اکنامسٹ ہیڈیو کومانو نے اُس انڈیکس کو اپ ڈیٹ کیا جو انہوں نے 2020 میں تیار کیا تھا۔ تازہ ترین اعداد و شمار کی مدد سے انہوں نے 14 مقبول ہانامی آئٹمز—جیسے رائس بالز، بینتو باکسز، فرائیڈ چکن، پوٹیٹو چپس اور بیئر کی اوسط وزنی قیمت کا نیا تخمینہ لگایا۔
انڈیکس کے مطابق جاپانی میٹھے بن کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو سال 2000 کے مقابلے میں 46.1 فیصد بڑھ چکے ہیں۔ اس کے بعد کاربونیٹڈ ڈرنکس میں 45.7 فیصد اور رائس بالز میں 45.0 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
کومانو نے کہا، "کمزور ین اور عالمی خام مال کی بڑھتی قیمتیں جاپان میں کاسٹ پُش افراطِ زر کا باعث بن رہی ہیں۔ ہانامی واضح طور پر عالمی مہنگائی کے رجحان کے منفی اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔"
دہائیوں تک ڈیفلیشن میں جکڑے رہنے کے بعد یوکرین جنگ کے آغاز سے جاپان میں مہنگائی بتدریج بڑھ رہی ہے، کیونکہ خام مال کی عالمی قیمتوں میں اضافہ درآمدی لاگت کو مزید بڑھا رہا ہے۔
جاپان میں بنیادی صارف مہنگائی تقریباً چار برس تک بینک آف جاپان کے 2 فیصد ہدف سے بلند رہی، تاہم فروری میں یہ ایک اعشاریہ چھ فیصد پر آ گئی۔ اس کمی کی بڑی وجہ ٹوکیو حکومت کی فیول سبسڈیز تھیں۔
ٹوکیو: چیری بلاسم دیکھنے کے لیے دنیا بھر کے شائقین کا ہجوم
ادارت: رابعہ بگٹی