1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
معاشرہجاپان

عالمی مہنگائی سے ماند پڑتی جاپان کی چیری بلوسم بہار

کشور مصطفیٰ روئٹرز کے ساتھ
24 مارچ 2026

جاپان کی دلکش ’’ہانامی‘‘ چیری بلاسَم پکنکس بھی عالمی مہنگائی کے دباؤ سے محفوظ نہیں رہ سکیں۔ ایک انڈیکس کے مطابق کھانے اور مشروبات کی قیمتیں 2020 کے بعد اس سال 25 فیصد بڑھ گئی ہیں۔

ٹوکیو کے ایک پارک میں رنگ برنگی کشتیوں پر سوار شائقین چیری بلاسم سے لطف اندوز ہوتے نظر آ رہے ہیں
اس سال جاپان میں ’’ہانامی‘‘ چیری بلاسَم پکنکس کی رونقیں عالمی مہنگائی کے سائے میں خاصی حد تک ماند پڑ گئیںتصویر: Rodrigo Reyes Marin/ZUMA/picture alliance

جاپان میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں پر نظر رکھنے والے نجی تھنک ٹینک ڈائی ایچی لائف ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے منگل 24 مئی کو کہا ہے کہ اس سال جاپان کی مشہور "ہانامی" چیری بلاسَم پکنکس پر عالمی افراطِ زر کے گہرے اثرات نمایاں ہیں۔ ایک انڈیکس کے مطابق 2020 سے اب تک کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات جاپان کے اس منفرد تہوار پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

ہر سال مارچ کے آخر سے اپریل کے اوائل تک جاپانی شہری پارکوں اور دریا کے کناروں پر نیلے ترپال بچھا کر لنچ باکس، اسنیکس اور مشروبات کے ساتھ جمع ہوتے ہیں تاکہ کھِلتے ہوئے چیری کے درختوں کے نیچے اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ پکنک منا سکیں۔

2020 سے اب تک کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں فیصد اضافہ ہوا ہےتصویر: Kyodo/picture alliance

یہ روایت ہانامی کہلاتی ہے۔ یہ تہوار، جو بہت سے جاپانیوں کے لیے ایک لازمی سالانہ سرگرمی ہے، بھی بنیادی خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا۔ خام مال مہنگا ہونے کے باعث کمپنیوں نے مختلف اقسام کی خوراک اور مشروبات کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔

اس بوجھ کی شدت جانچنے کے لیے ڈائی ایچی لائف ریسرچ کے چیف اکنامسٹ ہیڈیو کومانو نے اُس انڈیکس کو اپ ڈیٹ کیا جو انہوں نے 2020 میں تیار کیا تھا۔ تازہ ترین اعداد و شمار کی مدد سے انہوں نے 14 مقبول ہانامی آئٹمز—جیسے رائس بالز، بینتو باکسز، فرائیڈ چکن، پوٹیٹو چپس اور بیئر کی اوسط وزنی قیمت کا نیا تخمینہ لگایا۔

یہ تہوار، جو بہت سے جاپانیوں کے لیے ایک لازمی سالانہ سرگرمی ہے، بھی بنیادی خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے محفوظ نہیں رہاتصویر: Zhang Xiaoyu/Xinhua/IMAGO

انڈیکس کے مطابق جاپانی میٹھے بن کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو سال 2000 کے مقابلے میں 46.1 فیصد بڑھ چکے ہیں۔ اس کے بعد کاربونیٹڈ ڈرنکس میں 45.7 فیصد اور رائس بالز میں 45.0 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

کومانو نے کہا، "کمزور ین اور عالمی خام مال کی بڑھتی قیمتیں جاپان میں کاسٹ پُش افراطِ زر کا باعث بن رہی ہیں۔ ہانامی واضح طور پر عالمی مہنگائی کے رجحان کے منفی اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔"

دہائیوں تک ڈیفلیشن میں جکڑے رہنے کے بعد یوکرین جنگ کے آغاز سے جاپان میں مہنگائی بتدریج بڑھ رہی ہے، کیونکہ خام مال کی عالمی قیمتوں میں اضافہ درآمدی لاگت کو مزید بڑھا رہا ہے۔

ہر سال مارچ کے آخر سے اپریل کے اوائل تک جاپانی شہری پارکوں اور دریا کے کناروں پر چیری بلاسم کی بہار سے لطف اندوز ہوتے ہیںتصویر: KIM KYUNG-HOON/REUTERS

جاپان میں بنیادی صارف مہنگائی تقریباً چار برس تک بینک آف جاپان کے 2 فیصد ہدف سے بلند رہی، تاہم فروری میں یہ  ایک اعشاریہ چھ فیصد پر آ گئی۔ اس کمی کی بڑی وجہ ٹوکیو حکومت کی فیول سبسڈیز تھیں۔

ٹوکیو: چیری بلاسم دیکھنے کے لیے دنیا بھر کے شائقین کا ہجوم

ادارت: رابعہ بگٹی

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں