جرمنی میں زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی زندگیوں میں مذہب کا کوئی کردار نہیں۔ آٹھ میں سے صرف ایک کا کہنا ہے کہ عیقدہ اس دنیا کو منصفانہ بنا سکتا ہے۔ اس سروے میں جرمنی بھر سے دو ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا۔
تصویر: Christoph Schmidt/dpa/picture alliance
اشتہار
ایک تازہ سروے کے مطابق جرمنی ميں لوگوں کی بھاری اکثریت کا خیال ہے کہ روز مرہ کی زندگی میں مذہب کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اس سروے میں شامل شرکاء میں سے صرف تینتیس فیصد نے کہا کہ مذہبی تعلیم ان کے لیے اہم ہے۔ مذہب کی اہمیت کے حق میں بولنے والوں میں سے نوجوان شرکاء کی تعداد زیادہ نوٹ کی گئی ہے۔
اس سروے کے نتائج کے مطابق بارہ فیصد شرکاء نے کہا کہ مذہب کی بدولت دنیا منصفانہ ہو سکتی ہے۔ ان میں سے ایک تہائی مذہب کی سیاسی اہمیت پر بھی متفق ہوئے۔ اس سروے میں جرمنی بھر سے دو ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا۔
جرمنی یورپ میں ایک بڑا مسیحی ملک قرار دیا جاتا ہے تاہم ہر سال اس ملک میں مذہب سے دوری اختیار کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جرمنی میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ مسیحیوں کی روایات معاشرے میں رچی بسی ہیں اور روز مرہ زندگی کے معاملات میں ان کی جھلک نمایاں ہے۔
جرمنی میں کرسمس کی روایات
کرسمس کے موقع پر مذہبی سروس، شام ڈھلے تحائف کا تبادلہ اور پھر دوست احباب کے ساتھ کسی پَب میں جا کر پینا پلانا اور گپ شپ لگانا کرسمس کی شام جرمن روایات کا لازمی حصہ ہوتا ہے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ روایات بدل بھی رہی ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa
چمکتی دمکتی اَشیاء سے سجا کرسمس ٹری
ایک زمانے میں کرسمس ٹری چھت سے لٹکا ہوتا تھا جبکہ آج کل اسے کمرے کے ایک کونے میں رکھا جاتا ہے۔ کرسمس ٹری کو اس تہوار کی سجاوٹ میں مرکزی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
تصویر: Fotolia/megakunstfoto
سادہ کھانا
چوبیس دسمبر کو صبح کے وقت لوگ باقی ماندہ تحائف خریدنے کے لیے بازار کا رخ کرتے ہیں، دوپہر کو کرسمس ٹری کو سجاتے ہیں اور سہ پہر کو مذہبی سروس میں شرکت کے لیے چرچ جاتے ہیں۔ چونکہ زیادہ تر کنبوں کے لیے یہ دن مصروفیات سے پُر ہوتا ہے، اس لیے شام کا کھانا سادہ ہی ہوتا ہے، یعنی آلو کا سلاد اور قیمہ بھری آنت۔ بطخ کے گوشت کا مرغن کھانا کرسمس کے باقی دنوں کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
تصویر: imago
کرسمس بازاروں کی رونق
دیکھا جائے تو کرسمس بازار کرسمس کا لازمی حصہ نہیں ہوتے اور بہت سے مقامات پر چوبیس دسمبر سے پہلے ہی یہ بازار بند ہو جاتے ہیں تاہم بہت سے مقامی باشندوں کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے آنے والے ہزاروں سیاح بھی آخر وقت تک نیورمبرگ اور ڈریسڈن جیسے شہروں کے مشہور کرسمس بازاروں کو ضرور دیکھنے کے لیے جاتے ہیں۔
تصویر: DW/S. Broll
کرسمس کی داستان، مجسموں کی شکل میں
کرسمس کے دنوں میں بہت سے جرمن شہری اپنے گھروں کو حضرتِ عیسیٰ اور اُن کی والدہ حضرت مریم کے لکڑی کے بنے مجسموں سے سجاتے ہیں۔ یہ روایت صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔ ایک دور میں اس طرح کے مجسمے اُن عقیدت مندوں کے لیے بنائے جاتے تھے، جو پڑھے لکھے نہ ہونے کی وجہ سے مسیحیت کے ابتدائی دنوں کی داستان پڑھنے سے قاصر ہوا کرتے تھے۔
تصویر: picture-alliance/dpa
شمالی جرمن ثقافتی روایات
ایک زمانے میں کرسمس سے پہلے کے ہفتوں میں روزے رکھنے کا رواج تھا اور خاص طور پر بچوں کو یہ بتانے کے لیے کہ روزے ختم ہونے میں ابھی کتنے ہفتے باقی ہیں، اُنیس ویں صدی میں شمالی جرمنی میں چار بڑی موم بتیوں کی روایت شروع کی گئی۔ ہر نئے ہفتے کے آغاز پر ایک نئی موم بتی جلائی جاتی ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa
تحائف کا تبادلہ چوبیس دسمبر کو ہی
جرمنی میں تحائف کے منتظر بے صبرے افراد کو کرسمس کے دن تک کے لیے انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ روایت یہ ہے کہ کرسمس سے ایک شام قبل ہی یہ تحائف تقسیم کر دیے جاتے ہیں۔ یہ تحائف عموماً بہت زیادہ مہنگے نہیں ہوتے بلکہ ایک سروے کے مطابق تو تقریباً ایک تہائی جرمن شہریوں کے لیے اپنے قریبی عزیزوں اور دوستوں کے ساتھ مل کر گزارا گیا وقت مثلاً سیر و تفریح ہی کافی ہوتا ہے اور ان کے لیے بہت زیادہ خوشی کا باعث بنتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa
دستکاری کے خصوصی نمونے
جرمن صوبے سیکسنی کے علاقے اَیرس ماؤنٹینز کی لکڑی کو تراش کر بنائی گئی دستکاری مصنوعات جرمنی ہی نہیں پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ لوگ دسمبر کے اوائل ہی سے انہیں گھروں کی زینت بنانا شروع کر دیتے ہیں تاہم بہت سے جرمن گھرانوں میں امریکا سے آئی ہوئی مصنوعات مثلاً پلاسٹک کے سانتا کلاز یا پھر برقی قمقموں کے استعمال کا بھی رجحان بڑھ رہا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa
کرسمس کی خصوصی مٹھائیاں
اس مسیحی تہوار کے موقع پر دیگر مٹھائیوں کے ساتھ ساتھ یہ خصوصی کیک بھی شوق سے کھایا جاتا ہے۔ اس میں بادام اور کشمش وغیرہ ڈالے جاتے ہیں۔ جرمن شہر ڈریسڈن کے کرسمس کیک خاص طور پر مشہور ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa
کرسمس سے ایک روز پہلے کی لمبی شام
جب چوبیس دسمبر کو تحائف کا تبادلہ مکمل ہو جاتا ہے اور رات کا کھانا بھی کھا لیا جاتا ہے تو بہت سے نوجوان لڑکے لڑکیاں شہر میں سیر و تفریح کے لیے نکل جاتے ہیں۔ تب کیفے ہاؤسز اور ریستورانوں میں اسکول کے دور کے پرانے دوستوں سے ملاقاتیں کی جاتی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ہر چھٹا جرمن شہری چوبیس دسمبر کی شام ایسے ہی گزارتا ہے۔
تصویر: DW/M. Mohseni
سوئٹزرلینڈ سے درآمدہ نئی روایت
بطخ کا بھنا ہوا گوشت، اُبلے ہوئے آلو یا آٹے کے پیڑے جنہیں بھاپ میں پکایا جاتا ہے اور سرخ رنگ کی بند گوبھی، کرسمس کی شام کا یہ کھانا بہت سے جرمنوں میں بچپن کی یادیں تازہ کر دیتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے سوئٹزرلینڈ سے آئی ہوئی اور پنیر سے بنی ہوئی ایک روایتی ڈِش جرمن باورچی خانوں میں پہنچ چکی ہے اور کرسمس کے موقع پر شوق سے کھائی جاتی ہے۔
تصویر: Fotolia/thongsee
10 تصاویر1 | 10
مشرقی علاقوں میں مذہبی لوگوں کی کم تعداد
اس سروے کے تیس فیصد شرکا نے کہا کہ وہ 'متقی‘ یا بہت زیادہ 'متقی‘ ہیں جبکہ پینتیس فیصد نے کہا کہ وہ 'بالکل متقی نہیں‘۔ جرمنی کے مشرقی علاقوں میں بسنے والے ایسے افراد کی تعداد زیادہ ہے، جنہوں نے کہا کہ وہ بالکل مذہبی نہیں ہیں۔
اس سروے کے مطابق جنوبی جرمن صوبوں باویریا، باڈن ورٹمبرگ اور مغربی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے جرمن خود کو زیادہ 'متقی و پرہیزگار‘ قرار دیتے ہیں۔ مشرقی ریاستوں میں سے صرف اکیس فیصد شرکاء نے خود کو مذہبی قرار دیا ہے۔
مجموعی طور پر اکسٹھ فیصد جرمنوں نے کہا کہ ان کی زندگیوں میں مذہب کی کوئی اہمیت نہیں یا بالکل ہی کوئی جگہ نہیں ہے۔
نوجوان زیادہ مثبت
اس سروے میں شریک نوجوانوں نے روز مرہ کی زندگی میں مذہب کے کردار کے حوالے سے کوئی فیصلہ کن رائے دینے سے گریز کیا۔ اٹھارہ تا انتیس برس کی عمر کے درمیان افراد کے پندرہ فیصد نے یا تو کوئی جواب نہیں دیا یا کہا کہ انہیں اس بارے میں علم ہی نہیں ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ نوجوان طبقہ زندگی میں مذہبی تعلیمات کے حوالے سے آگاہی حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔ ان میں سے سولہ فیصد نوجوانوں نے کہا کہ 'مذاہب اس دنیا کو منصفانہ بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں‘۔
کووڈ اور ماحولیاتی تبدیلی
پچھتر فیصد شرکا نے کہا کہ کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے ان کے عقیدوں پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ نوجوان شرکا میں سے بارہ فیصد نے البتہ کہا کہ اس عالمی وبا کی وجہ سے ان کا عقیدہ مضبوط ہوا ہے۔ یہ شرح زیادہ عمر کے لوگوں کے تناسب سے دوگنا زیادہ بنتی ہے۔
اس سروے میں شریک صرف چودہ فیصد شرکاء کا خیال ہے کہ تحفظ ماحولیات میں مذہب مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان میں سے تیس سے کم عمر افراد کی تعداد زیادہ نوٹ کی گئی ہے۔
اس سروے کے نتائج ایک ایسے وقت میں جاری کیے گئے، جب جنوبی جرمن شہر لنڈاؤ میں 'امن کے لیے مذاہب‘ نامی ایک بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر کے مذہبی رہنما عالمی سطح پر سکیورٹی، امن، تحفظ ماحولیات اور انسانی بنیادی پر ہونے والے امدادی منصوبہ جات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔