1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمنی آنے والی تمام فلائٹس کے مسافروں کا کورونا ٹیسٹ لازمی

26 مارچ 2021

جرمن حکومت نے بذریعہ ہوائی جہاز جرمنی پہنچنے والے تمام مسافروں کے لیے کورونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ پیش کرنے کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ اب تک صرف ریڈ زون سےآنے والے مسافروں کو جرمنی میں ٹیسٹ کی منفی رپورٹ پیش کرنا پڑتی تھی۔

Deutschland Covid gratis Bürgertest im Corona Testzentrum Grugahalle, Essen
تصویر: Rupert Oberhäuser/picture alliance

کورونا کی تیسری لہر کے خطرات سے دوچار وسطی یورپی ملک جرمنی نے یہاں آنے والے تمام مسافروں کے لیے بلا تخصیص کورونا ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا ہے۔

ان ضوابط پر آئندہ اتوار یعنی 28  مارچ سے ہی عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔ اب تک کورونا وبا سے بہت زیادہ متاثرہ علاقوں اور کورونا بحران کا گڑھ سمجھے جانے والے 'ریڈ زون‘ سے سفر کر کے جرمنی آنے والے مسافروں کو کووڈ انیس منفی ٹیسٹ رپورٹ پیش کرنا پڑتی تھی۔ تاہم اب ہر شخص جو بذریعہ ہوائی جہاز جرمنی پہنچے گا اُسے کورونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ پیش کرنا ہو گی۔لاک ڈاؤن میں ممکنہ توسیع پر جرمنی میں بے چینی

لاک ڈاؤن کی صورتحال 

کورونا ٹیسٹ کو جرمنی آنے والے مسافروں کے لیے ایک ایسے وقت میں لازمی قرار دیا گیا ہے، جب جرمنی کو کورونا وبا کی تیسری لہر کا سامنا ہے۔

برلن میں جرمن وزارت صحت نے اس بارے میں جمعرات کو ایک اعلان میں کہا کہ کورونا لازمی ٹیسٹ کے احکامات پر آئندہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب سے عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔

مسافروں کو روانگی سے قبل کووڈ ٹیسٹ کروانا ہو گا۔تصویر: Hayden Smith/@speedbird5280/REUTERS

 نئے ضوابط

مسافروں کو روانگی سے قبل  کووڈ ٹیسٹ کروانا ہو گا،  اس سے قطع نظر کہ  ان کے اپنے اصل ملک میں کورونا وائرس کے خطرات کس سطح پر ہیں۔

ایئر لائنز کو صرف ایسے مسافروں کو سوار ہونے کی اجازت دینا ہو گی جو منفی کووڈ ٹیسٹ کے ثبوت کے ساتھ جہاز پر سوار ہو رہے ہوں۔ مسافروں کو کورونا ٹیسٹ کی فیس خود ادا کرنا ہو گی۔ پی سی آر ٹیسٹ اور منظور شدہ 'تیز رفتار ٹیسٹ‘ کی رپورٹ کو تسلیم  کیا جائے گا۔ ایئر لائنز کے عملے کو ٹیسٹ کی چھوٹ دی گئی ہے۔

سخت ایسٹر لاک ڈاؤن: فیصلہ واپس، تنقید کے بعد میرکل کی تعریف

اگر کسی شخص کی کورونا  ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت ہوئی تو اُسے اپنی قیمت پر مقامی قوانین کے مطابق قرنطینہ کرنا ہو گا۔ کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ پیش کرنے سے متعلق مسافروں پر لاگو ضوابط کے  مئی کے وسط تک لاگو رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

پرانے قوائد و ضوابط کے تحت کورونا وبا سے بہت زیادہ متاثرہ اور بہت زیادہ خطرات سے دوچار علاقوں سے آنے والے مسافروں کو ٹیسٹ کی منفی رپورٹ پیش کرنا پڑتی تھی۔ اب یہ ہر کسی پر یہاں تک کہ تعطیلاتی جزیرے مایورکا جسے اب بہت کم کورونا کیسز والے علاقے میں شامل کیا جانے لگا ہے، وہاں سے آنے والوں کو بھی کورونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ پیش کرنا ہوگی۔

ایئر لائنز اضافی پروازوں کا بندوبست کریں گی۔تصویر: Jörg Halisch/imago images

سخت تر ضوابط کی تیاری

جرمنی کی طرف سے کورونا کے روک تھام کے لیے سخت تر ضوابط کو دراصل جمعے کے روز سے نافذ کیا جانا تھا تاہم طبی حکام نے اسے اتوار کی شب سے نافدالعمل کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ ایئر لائنز اور مسافروں کو تیاریوں کا موقع مل جائے۔

ایئر لائنز نے کہا ہے کہ وہ ان ضوابط کو آسانی سے نافذ العمل بنانے اور مسافروں کی طلب میں اضافے سے نمٹنے کے لیے اضافی پروازوں کا بندوبست کریں گی۔ یاد رہے کہ جرمن وفاقی حکومت کی طرف سے ایسٹر کے تہوار پر لاک ڈاؤن میں واضح سختی کا اعلان عوام، برنس کمیونٹی اور چند سایسی حلقوں کی طرف سے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنا۔

یہاں تک کہ خود میرکل کی سیاسی جماعت کرسچین ڈیمو کریٹک یونین سی ڈی یو کے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن میں سختی سے متعلق 'بلیو پرنٹ‘ ناقابل عمل ہے۔  اس تناظر میں حکومت پر دباؤ بڑھنے کے سبب چانسلر میرکل نے لاک ڈاؤن پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کیا۔ اس اقدام کو چانسلر میرکل کا 'غیر معمولی یو ٹرن‘ قرار دیا گیا۔

ک م/ ا ا (اے پی ، اے ایف پی)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں