1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمنی: تارکين وطن اور مہاجر کيمپوں پر ہر روز اوسطاً دس حملے

عاصم سلیم
26 فروری 2017

جرمنی ميں پناہ گزينوں اور ان کی رہائش گاہوں پر سن 2016 ميں اوسطاً دس حملے روزانہ کيے گئے۔ ملکی حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ دائيں بازو کے جرائم روکنے کے ليے حکومتی اقدامات ناکافی ہيں۔

Deutschland Handys von Flüchtlingen im Visier
تصویر: picture alliance/dpa/P. Schulze

 

يورپ  کی سب سے مستحکم معيشت کے حامل ملک جرمنی ميں پناہ گزينوں اور مہاجر کيمپوں پر مجموعی طور پر سن 2016 کے دوران 3,533 حملے ريکارڈ کيے گئے۔ يہ انکشاف فُنکے ميڈيا گروپ کی جانب سے اتوار کو کيا گيا۔ ان حملوں ميں کُل 560 افراد زخمی ہوئے جن ميں تينتاليس بچے بھی شامل تھے۔

تقريباً ايک تہائی حملوں ميں تارکين وطن کو ان کی عارضی رہائش گاہوں سے باہر نشانہ بنايا گيا جبکہ 988 حملے مہاجر کيمپوں، ہاسٹلوں وغيرہ ميں کيے گئے۔ مہاجرين کو براہ راست نشانہ بنائے جانے کے علاوہ 217 ايسی غير سرکاری تنظيموں، اداروں اور رضاکاروں کو بھی ہدف بنايا گيا، جو پناہ گزينوں کے ليے سرگرم عمل تھے۔

فُنکے ميڈيا گروپ کی جانب سے جاری کردہ يہ اعداد و شمار ابتدائی ہيں اور ان ميں معمولی رد و بدل کی گنجائش موجود ہے۔ يہ اعداد و شمار ايسے وقت جاری کيے گئے ہيں جب متعلقہ حکام اور اداروں کو ايک بہت بڑی تعداد ميں سياسی پناہ کی درخواستوں پر کارروائی کے سلسلے ميں تاخير کا سامنا ہے۔

 اسی دوران يورپ ميں کئی دہشت گردانہ حملوں کے تناظر ميں سلامتی کی صورت حال بھی خاصی خراب خیال کی جاتی ہے۔ حالات سے نمٹنے کے ليے حکومت نے سياسی پناہ کے حصول کے قواعد و ضوابط کو انتہائی سخت کر دیا ہے۔ سلامتی کے حوالے سے بھی متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہيں۔ جرمنی ميں رواں برس ستمبر ميں عام انتخابات ہونے والے ہيں اور ان ميں مہاجرين اور ہجرت اہم موضوعات ہيں۔

دوسری جانب ايک اہم معاملہ جو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے، وہ دائيں بازو کی قوتوں کی جانب سے مہاجرين کے خلاف کيے جانے والے حملوں کا ہے۔ اپوزيشن ليفٹ پارٹی کی ترجمان اُولا يلپکے کے بقول سن 2016 کے دوران 3,533 حملوں کا مطلب ہے کہ ہر دن تقريباً  دس حملے۔ وہ سوال اٹھاتی ہيں، ’’کيا دائيں بازو کی جرائم کو داخلی سلامتی کا مسئلہ قرار ديے جانے اور اس کا حل تلاش کيے جانے کو پاليسی ايجنڈے ميں شامل کيے جانے کے ليے کسی کا ہلاک ہونا ہی ضروری ہے؟‘‘ انہوں نے مطالبہ کيا ہے کہ حکومت پناہ کے قوانين ميں سختی متعارف کرا کر ایسا تاثر مت دے کہ پناہ گزين ’خطرہ‘ ہيں۔ ان کے بقول اس کے برعکس انتہائی دائیں بازو کے سرگرم کارکن مہاجرين کو ڈرا دھمکا رہے ہيں اور یہی لوگ جمہوريت کے ليے خطرہ ہيں۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں