’جرمنی مزید پانچ ہزار شامی مہاجرین قبول کرنے پر تیار‘
6 دسمبر 2013
برلن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق یہ بات جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے جمعرات کو رات گئے بتائی۔ اس خبر ایجنسی کے مطابق مزید پانچ ہزار شامی پناہ گزینوں کو جرمنی آنے کی اجازت دینے کا فیصلہ ملک کے 16 وفاقی صوبوں کے وزرائے داخلہ نے اپنے ایک اجلاس میں کیا۔
اس سے قبل اس سال مارچ میں بھی برلن حکومت نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ جرمنی پانچ ہزار کے قریب ایسے شامی مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دے گا، جنہیں ’خصوصی تحفظ‘ کی ضرورت ہے۔ تب ایسے شامی پناہ گزینوں کو شروع میں دو سال تک جرمنی میں قیام کی اجازت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا اور انہیں تمام 16 وفاقی صوبوں میں آباد کیا جانا تھا۔
ڈی پی اے نے بتایا ہے کہ اب اضافی طور پر مزید پانچ ہزار شامی پناہ گزینوں کو اپنے ہاں محدود مدت کے لیے رہائش کی اجازت دینے پر اتفاق کے ساتھ جرمنی مجموعی طور پر 10 ہزار شامی مہاجرین کو قبول کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ ڈی پی اے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ کی صدارت میں ہونے والے صوبائی وزرائے داخلہ کے اجلاس میں کیے گئے اس فیصلے کے بعد اجلاس میں شریک ایک وزیر نے اس بارے میں جرمن جریدے ’دی ویلٹ‘ کی ایک رپورٹ کی بھی تصدیق کر دی ہے۔
جریدے ’دی ویلٹ‘ کے مطابق ’وزرائے داخلہ کی کانفرنس‘ کہلانے والے اس حالیہ اجلاس میں بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے سوشل ڈیموکریٹس کا مطالبہ تھا کہ جرمنی کو اپنے ہاں مجموعی طور پر 20 ہزار شامی مہاجرین کو پناہ دینا چاہیے۔ اس کے برعکس وفاقی چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین اور اس کی ہم خیال پارٹی کرسچین سوشل یونین سے تعلق رکھنے والے وزراء اس بات پر آمادہ نہیں تھے کہ جرمنی کو اتنی بڑی تعداد میں شامی مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دینا چاہیے۔
اس تناظر میں مجموعی طور پر 10 ہزار شامی پناہ گزینوں کو جرمنی آنے کی اجازت دینے کا فیصلہ اجلاس کے شرکاء کی طرف سے نکالا جانے والا ایک مصالحتی حل ہے۔ جرمنی نے مارچ میں جن شامی پناہ گزینوں کو اپنے ہاں پناہ دینے کا اعلان کیا تھا، ان کا اولین گروپ ستمبر میں جرمنی لایا گیا تھا۔
وفاقی جرمن حکومت کے ترجمان شٹیفن زائبرٹ کے مطابق 2011ء میں شام کا خونریز تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کسی نہ کسی طرح جرمنی پہنچنے والے جن شامی مہاجرین نے جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دی ہیں، ان میں سے 18 ہزار کے قریب شامی شہریوں کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے انہیں پناہ دی جا چکی ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق شام میں 33 مہینے قبل شروع ہونے والے خونریز تنازعے میں اب تک ایک لاکھ 26 ہزار سے زائد انسان مارے جا چکے ہیں جبکہ لاکھوں کی تعداد میں شامی باشندے اندرون ملک اور بیرون ملک مہاجرت پر بھی مجبور ہو چکے ہیں۔