جرمنی میں آتشیں ہتھیار: مرکزی ڈیٹا رجسٹر کا منصوبہ
20 نومبر 2012
یہ فیصلہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران جرمن ہائی اسکولوں میں رونما ہونے والے خونریز واقعات میں اضافے کے سبب کیا گیا ہے۔ جرمنی میں یہ پروجیکٹ جنوری 2013ء سے شروع ہو گا، اس ضمن میں یورپی یونین کی طرف سے مقرر کردہ ڈیڈ لائن سے ٹھیک دو برس پہلے۔ اس منصوبے کے تحت جمع کیے جانے والے کوائف تک سکیورٹی ایجنسیز کی رسائی ہو گی۔ فی الحال 551 مختلف ایجنسیز کے پاس یہ ڈیٹا موجود ہے، جن میں سے کچھ اب بھی اسے کاغذی شکل میں فائلوں میں محفوظ کیے ہوئے ہیں۔
وفاقی جرمن وزیر داخلہ ہنس پیٹر فریڈرش نے اس بارے میں کہا کہ وہ اس ڈیٹا بیس کی مدد سے سلامتی و حفاظت کے اقدامات میں حقیقی بہتری کی توقع کر رہے ہیں۔ اس پروجیکٹ کو تیز تر بنانے کے پیچھے جرمنی میں ہونے والے متعدد قتل عام کے واقعات کا ہاتھ ہے جنہوں نے جرمن قوم کو سکتے اور صدمے سے دو چار کیا ہے۔
2009 ء میں جرمن شہر اشٹُٹ گارٹ کے نزدیک وننڈن کے علاقے میں ایک 17 سالہ نوجوان نے اپنے سابقہ اسکول میں 15 افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد اُس نے خود اپنی جان بھی لے لی تھی۔ اُس نے اس خونریزی اور متعدد قتل کے لیے اپنے والد کی بندوق استعمال کی تھی جو اُس نے اُن کے بیڈ روم سے حاصل کر لی تھی۔ اُس کے والد مشغلے اور اسپورٹس کے طور پر شوٹنگ کیا کرتے تھے۔
اس سے پہلے 2002ء میں شہر ائرفورٹ میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ ایک 19 سالہ نوجوان نے اُس اسکول میں جاکر بلا امتیاز فائرنگ شروع کر دی تھی جہاں سے اُسے نامناسب رویے کے سبب نکال دیا گیا تھا۔ اس واقعے میں 16 جانیں ضائع ہوئی تھیں جن میں سے زیادہ تر اسکول کے ساتذہ کی تھیں۔ ان افراد کی جان لینے کے بعد قاتل نے خود اپنی جان بھی لے لی تھی۔
نئے منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں اس مرکزی رجسٹر میں قانونی طور پر حاصل کردہ تمام ہتھیاروں کا اندراج کیا جائے گا۔ بعد میں ہتھیار سازوں، اس کی تجارت کرنے والوں، درآمدات کرنے والوں اور انفرادی سطح پر ہتھیاروں کو اپنی ملکیت میں رکھنے والوں کے کوائف اکھٹے کیے جائیں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نیا نظام نشانہ بازوں، شوٹنگ کلبز، ہتھیار اکھٹا کرنے والوں، انہیں جمع کرنے والوں سمیت تیار کرنے والوں اور اس کی تجارت میں ملوث افراد کو قانونی تحفظ دینے کا سبب بنے گا۔
جرمن پولیس یونین کے چیئرمین ’برنہارڈ وٹہاؤٹ‘ کے بقول ہتھیاروں سے متعلق کوائف کے اس مرکزی رجسٹر کا منصوبہ دراصل پولیس اہلکاروں کی ضرورت کے عین مطابق ہے۔ اس فیصلے میں ایک طویل وقت لگ گیا تاہم یہ امر واضح ہے کہ اس کے لیے جو تکنیکی ضروریات تھیں انہیں پورا کرنا ایک چیلنج سے کم نہیں تھا‘۔
تاہم جرمن پولیس کو اس امر کی فکر لاحق ہے کہ یورپی یونین کے ممبر ممالک کے مابین سرحدوں پر چیکنگ اور کسٹم کنٹرول کا سلسلہ ختم ہونے کی وجہ سے اب اس ملک میں غیر قانونی ہتھیاروں کی فراہمی بہت آسان ہو گئی ہے۔
Km/ai AFP