جرمنی میں اتحاد ایئرویز کے خلاف دو ارب یورو ہرجانے کا مقدمہ
14 دسمبر 2018
جرمنی میں متحدہ عرب امارات کی معروف فضائی کمپنی اتحاد ایئرویز پر دو ارب یورو ہرجانے کا ایک مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ جرمنی کی دوسری سب سے بڑی فضائی کمپنی ایئر برلن کے دیوالیہ پن کے سلسلے میں دائر کیا گیا ہے۔
تصویر: Fotolia
اشتہار
جرمنی کے مالیاتی مرکز فرینکفرٹ سے جمعہ چودہ دسمبر کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق وفاقی جرمن دارالحکومت برلن کی ایک علاقائی عدالت نے تصدیق کر دی ہے کہ اتحاد ایئرویز کے خلاف دو ارب یورو تک کے زر تلافی کی ادائیگی کا ایک مقدمہ اس عدالت میں زیر سماعت ہے۔
یہ مقدمہ ایئر برلن کے دیوالیہ پن کے نگران عہدیدار کی طرف سے اس لیے دائر کیا گیا ہے کہ اتحاد ایئرویز جرمنی کی اس کالعدم فضائی کمپنی کے حصص کی مالک ایک بڑی کمپنی تھی۔
عدالت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ایئر برلن کے دیوالیہ پن سے متعلقہ امور کے مالیاتی نگران عہدیدار لوکاس فلوئتھر نے برلن کی اس عدالت سے درخواست کی ہے کہ پہلے تو کالعدم ایئر برلن کو اتحاد ایئرویز سے 500 ملین یورو دلوائے جائیں اور پھر ساتھ ہی یہ حکم بھی سنایا جائے کہ اتحاد ایئرویز کو مجموعی طور پر قریب دو ارب یورو (تقریباﹰ سوا دو ارب امریکی ڈالر) کے برابر زر تلافی ادا کرنا چاہیے۔
تصویر: picture alliance/dpa/B. Settnik
عدالتی بیان کے مطابق اتحاد ایئرویز کے خلاف یہ مقدمہ اس الزام کے تحت دائر کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی اس ایئرلائن نے مبینہ طور پر ایئر برلن کے ساتھ مالی تعاون کے اپنے اس معاہدے پر ڈیڑھ برس تک عمل نہیں کیا تھا، جو گزشتہ برس اپریل میں طے پایا تھا۔
اس دوران اماراتی فضائی کمپنی اتحاد ایئرویز نے گزشتہ برس اگست میں ایئر برلن کی مالی مدد سے بھی ہاتھ کھینچ لیا تھا، جس کے بعد جرمنی کی یہ دوسری سب سے بڑی فضائی کمپنی دیوالیہ ہو گئی تھی۔ اتحاد ایئرویز 2011ء سے ایئر برلن کے دیوالیہ ہو جانے تک اس کمپنی کے 29.2 فیصد حصص کی مالک تھی۔
ایئر برلن کے دیوالیہ ہو جانے سے قبل اتحاد ایئرویز نے کئی برسوں تک اس جرمن فضائی کمپنی کو متعدد مرتبہ ہنگامی بنیادوں پر وسیع تر رقوم بھی مہیا کی تھیں۔ یہ رقوم اگست 2017ء سے قبل اس عرصے میں مہیا کی گئی تھیں، جب ایئر برلن کو اپنی سب سے بڑی حریف ایئرلائن اور جرمنی کی سب سے بڑی فضائی کمپنی لفتھانسا کے ساتھ سخت مقابلے کے باعث بقا کا مسئلہ درپیش تھا۔
م م / ع ب / اے ایف پی
دنیا کے مصروف ترین فضائی روٹ
ہوائی جہازوں کی نقل و حرکت کے بارے میں اعداد و شمار جمع کرنے والے ادارے او اے جی کے مطابق دنیا کے بیس مصروف ترین فضائی راستوں میں سے چودہ ایشیا میں ہیں۔ دنیا کے مصروف ترین فضائی راستوں پر ایک نظر
تصویر: imago/R. Wölk
۱۔ کوالالمپور تا سنگاپور
مارچ 2017 سے لے کر اس برس فروری کے اواخر تک اس کوالالمپور اور سنگاپور کے مابین 30537 پروازیں چلائی گئیں۔ ان پروازوں میں چار ملین سے زیادہ لوگوں نے سفر کیا۔
تصویر: AFP/Getty Images/F. Mohd
۲۔ ہانگ کانگ تا تائپے
دوسرے نمبر پر ہانگ کانگ سے تائیوانی دارالحکومت تائپے تک کا فضائی راستہ رہا۔ اس روٹ پر مذکورہ بارہ ماہ کے دوران 28887 مسافر ہوائی جہازوں نے سفر مکمل کیا۔ ان پروازوں میں ساڑھے چھ ملین مسافروں نے سفر کیا اور سفر کا اوسط دورانیہ ایک گھنٹہ سینتالیس منٹ رہا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/R. B. Tongo
۳۔ جکارتہ تا سنگاپور
انڈونیشیا کے دارالحکومت اور سنگاپور کے مابین فضائی راستہ دنیا کا تیسرا مصروف ترین روٹ قرار پایا جس پر ایک برس کے دوران 27304 پروازیں چلائی گئیں۔ سفر کا اوسط دورانیہ ایک گھنٹہ اڑتالیس منٹ رہا جب کہ مسافروں کی تعداد 4.6 ملین رہی۔
تصویر: Reuters/Beawiharta
۴۔ ہانگ کانگ تا شنگھائی
دنیا کے سب سے گنجان آباد چینی شہر شنگھائی کے پڈونگ ایئرپورٹ اور ہانگ کانگ کے مابین 21888 پروازیں چلائی گئیں۔ دنیا کے اس چوتھے مصروف ترین روٹ پر 3.8 ملین افراد نے سفر کیا اور پروازوں کا اوسط دورانیہ ڈھائی گھنٹے رہا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/BARBARA WALTON
۵۔ جکارتہ تا کوالالمپور
ایک برس کے دوران جکارتہ اور کوالالمپور کے مابین روٹ پر 19849 مسافر پروازیں چلائی گئیں جن میں 2.7 ملین افراد نے سفر کیا۔ پروازوں کا اوسط دورانیہ دو گھنٹے سے کچھ زائد رہا۔
تصویر: Getty Images/AFP/M. Rasfan
۶۔ سیول تا اوساکا
جاپانی شہر اوساکا اور جنوبی کوریائی کے سب سے بڑے بین الاقوامی ایئرپورٹ سیول انشیون کے مابین مذکورہ عرصے کے دوران قریب ساڑھے سترہ ہزار پروازیں چلائی گئیں۔ 2.8 ملین مسافروں نے اوسطا ایک گھنٹہ چھیالیس منٹ ہوائی سفر کیا۔
تصویر: picture alliance/D. Kalker
۷۔ ہانگ کانگ تا سیول
ساتویں نمبر پر سیول کے انشیون ایئرپورٹ اور ہانگ کانگ کے مابین روٹ قرار پایا۔ اس فضائی راستے پر 17075 مسافر پروازوں نے سفر مکمل کیا جن میں 4.4 ملین افراد نے سفر کیا۔ اس روٹ پر پروازوں کا اوسط دورانیہ ساڑھے تین گھنٹے سے کچھ زائد رہا۔
تصویر: picture-alliance/maxppp/R. Lendrum
۸۔ نیویارک تا ٹورنٹو
نیویارک کے لاگوارڈیا ہوائی اڈے اور کینیڈین شہر ٹورنٹو کے مابین اس عرصے کے دوران 16956 پروازیں چلائی گئیں۔ ایک گھنٹہ چالیس منٹ اوسط دورانیے کے اس ہوائی سفر سے 1.6 ملین مسافر مستفید ہوئے۔
تصویر: Getty Images/AFP/R. Beck
۱۰۔ ہانگ کانگ سے سنگاپور
ہانگ کانگ اور سنگاپور کے ہوائی اڈوں کے مابین مسافر پروازوں کی تعداد 15029 رہی جن میں 3.2 ملین افراد نے سفر کیا۔ دونوں شہروں کے مابین پروازوں کا اوسط دورانیہ تین گھنٹے اور اٹھاون منٹ رہا۔
تصویر: AFP/Getty Images/F. Mohd
۹۔ دبئی تا کویت
دبئی اور کویت کے مابین بارہ ماہ کے دوران 15332 پروازوں کے ساتھ یہ مشرق وسطیٰ کا مصروف ترین روٹ رہا۔ دونوں ہوائی اڈوں کے مابین 2.8 ملین افراد نے سفر کیا اور پروازوں کا اوسط دورانیہ ایک گھنٹہ باون منٹ رہا۔
تصویر: picture-alliance/ dpa
۱۴۔ ڈبلن سے لندن، یورپ کا مصروف ترین روٹ
یورپی ہوائی اڈوں میں سے کوئی بھی ٹاپ ٹین میں جگہ نہیں بنا پایا۔ یورپ میں سب سے مصروف ہوائی راستہ ڈبلن اور لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ کے مابین رہا جہاں ایک سال کے دوران 14390 پروازیں بھری گئیں۔ مستفید ہونے والے مسافروں کی تعداد 1.9 ملین اور پروازوں کا اوسط دورانیہ ایک گھنٹہ اٹھائیس منٹ رہا۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/V. Ghirda
۱۶۔ نیویارک تا لندن – طویل ترین اور مصروف روٹ
بین البراعظمی ہوائی راستوں میں سب سے زیادہ مصروف روٹ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ اور نیویارک کے جے ایف کینیڈی ایئرپورٹ کے مابین رہا۔ اس روٹ پر 13888 پروازیں چلائی گئیں جن میں تین ملین سے زائد افراد نے سفر کیا۔ ان پروازوں کا اوسط دورانیہ سات گھنٹے رہا۔