جرمنی میں امتیازی رویے، ایک وسیع تر سماجی مسئلہ
14 مارچ 2026
کسی سپر مارکیٹ میں شاپنگ کی جا رہی ہو، رہنے کے لیے کرائے کی کسی فلیٹ کی تلاش ہو، یا پھر کام کاج کی جگہ پر، جرمنی میں روزمرہ زندگی میں کئی ملین انسانوں کو امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایک نئے مطالعاتی جائزے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ یورپی یونین کے اس سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں امتیازی سوچ یا امتیازی رویوں کا مسئلہ کتنا شدید اور پھیلا ہوا ہے۔
جرمنی میں رہنے والوں میں سے ہر آٹھویں انسان کو سال 2022ء میں کم از کم ایک مرتبہ اپنے ساتھ امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ حیران کن نتیجہ ایک ایسے نئے تحقیقی مطالعے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے نتائج حال ہی میں وفاقی جرمن دارالحکومت برلن میں جاری کیے گئے۔
جرمنی میں نسل پرستی سرکاری اداروں کے بنیادی ڈھانچے میں رچی بسی، نئی تحقیق
اس اسٹڈی کو دیا گیا عنوان تھا: ''امتیازی برتاؤ کا سامنا کرنے والا جرمنی۔‘‘ اس مطالعے کے نتائج برلن میں فردا اٹامان نے جاری کیے، جو وفاقی حکومت کی مقرر کردہ لیکن امتیازی رویوں کے خلاف غیر جانبدار کمشنر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس مطالعے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جرمنی میں، جس کا شمار دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں ہوتا ہے، تقریباﹰ نو ملین انسانوں کو محض اس بنیاد پر کس کس طرح کے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وہ دیکھنے میں کیسے ہیں۔
ایک افریقی نژاد خاتون کی مثال
سماجی رویوں کا مطالعہ کیا جائے تو کبھی کبھی محض اعداد و شمار سے زیادہ پرتاثیر کہانیاں متاثرہ افراد کے ان تجربات پر مبنی ہوتی ہیں، جن سے وہ جذباتی طور پر گزرتے ہیں۔ اس اسٹڈی کے نتائج پیش کرتے ہوئے فردا اٹامان نے ایک ایسی افریقی نژاد خاتون کی کہانی بھی تفصیل سے سنائی، جس کا نام سارہ ہے اور جس نے اپنے ساتھ امتیازی سلوک کے بعد بطور وفاقی کمشنر اٹامان کے دفتر سے احتجاجاﹰ رابطہ کیا تھا۔
یورپ میں سیاہ فام تارکین وطن کی شناخت اور حقوق کی جنگ
فردا اٹامان نے بتایا، ''سارہ ایک سپر مارکیٹ میں شاپنگ کر رہی تھی اور اس کے ساتھ اس کا بچوں کی ایک بگی میں بیٹھا ہوا بچہ بھی تھا۔ اچانک سپر مارکیٹ کی ایک ورکر اس کے پاس آئی، اور اس نے سارہ کے بچے کی بگی کی تلاشی لینا شروع کر دی۔ اس نے اس کے لیے سارہ سے کوئی اجازت بھی طلب نہیں کی تھی اور نہ ہی یہ دھیان رکھا کہ اس وقت اس بگی میں ایک بچہ بھی بیٹھا ہوا تھا۔ بظاہر سپر مارکیٹ کی خاتون کارکن کے لیے بگی کی تلاشی لینے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ پھر جب سارہ نے اس سے پوچھا کہ وہ تلاشی کیوں لے رہی تھی، تو اس کا جواب صرف یہ تھا: سوری، لیکن حال ہی میں آپ ہی کی طرح دکھائی دینے والی ایک خاتون نے یہاں چوری کی تھی۔‘‘
ایک تہائی جرمن پولیس اہلکاروں نے دوران ڈیوٹی نسل پسندانہ کلمات سنے، سروے نتائج
اسٹڈی سے متعلق حقائق
یہ اسٹڈی جرمنی کے ترک وطن اور سماجی انضمام سے متعلق تحقیقی مرکز کے ایما پر مکمل کی گئی ہے اور اس میں سارہ جیسے بہت سے انسانوں کو پیش آنے والے کئی واقعات کی تفصیلات درج ہیں۔
اس ریسرچ کے لیے جو ڈیٹا استعمال کیا گیا، وہ 2022ء میں لیے گئے ایک جامع سماجی اقتصادی تحقیقی جائزے کے نتائج سے حاصل ہوا تھا۔ اس جائزے میں بہت سے متنوع موضوعات کا احاطہ کیا گیا تھا اور اس میں قریب 30 ہزار شرکاء نے حصہ لیا تھا۔
جرمنی میں نسل پرستی، استثنا نہیں معمول
اس تحقیقی مطالعے کے آنکھیں کھول دینے والے نتائج کے مطابق جن کئی ملین انسانوں کو جرمنی میں امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان میں سے نصف سے زائد اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کرتے۔
فردا اٹامان نے کہا، ''اس مطالعے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ جرمنی میں امتیازی سلوک کوئی اکا دکا واقعات کی صورت میں ہی دیکھنے میں نہیں آتا، بلکہ یہ پورے معاشرے میں بہت گہرائی تک اور وسیع تر بنیادوں پر پھیلا ہوا مسئلہ ہے۔ ایسا کام کاج کی جگہوں پر، اسکولوں میں، رہائش کے لیے کرائے کے گھروں کی تلاش میں حتیٰ کہ روزمرہ زندگی میں خریداری کے دوران بھی ہوتا ہے۔‘‘
جرمنی میں امتیازی سلوک کے خلاف نافذ قانون
جرمنی میں عمومی مساوی برتاؤ کے بارے میں ایک وفاقی قانون گزشتہ20 برسوں سے نافذ ہے۔ اس قانون کے تحت کسی بھی طرح کے امتیازی رویوں کی ممانعت ہے۔ لیکن اس قانون سے ایسے متاثرین کو عملاﹰ کوئی مدد نہیں ملتی، جو امتیازی رویوں کا نشانہ بنتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق امتیازی برتاؤ کا سامنا کرنے والے نصف سے زائد متاثرین نے اس عمل کے خلاف اپنی طرف سے کوئی قانونی کارروائی نہ کی۔ قریب 30 فیصد واقعات میں متاثرہ افراد نے اس شخص کا براہ راست اور کھل کر سامنا کرنے کی کوشش کی، جو ان کے ساتھ امتیازی برتاؤ کا مرتکب ہو رہا تھا۔
نسل پرستی اور غربت میں باہمی تعلق ہے، جرمن مطالعے کے نتائج
حیران کن بات تو یہ ہے کہ ان کئی ملین متاثرین میں سے صرف تین فیصد نے ایسے غیر منصفانہ اور غیر قانونی رویوں کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی کا راستہ اپنایا۔
حمیرا وسیم کی مثال
جرمنی میں جن افراد نے اپنے خلاف امتیازی رویوں کو کھل کر اور قانونی سطح پر مقابلہ کیا، ان میں مسلمان خاتون حمیرا وسیم بھی شامل ہیں۔ وہ جرمنی ہی میں پید اہوئی تھیں، اور ایک ٹیچر ہیں اور دو بچوں کی ماں بھی۔ انہوں نے ایک پراپرٹی ڈیلر کو اپنے لیے کرائے کا ایک گھر تلاش کرنے کی درخواست کی جو مسترد کر دی گئی تھی۔
مصنوعی ذہانت امتیازی سلوک کا سبب بن سکتی ہے، رپورٹ
پھر انہوں نے اپنا نام ایسا ظاہر کیا کہ وہ سننے میں ایک عام جرمن نام جیسا تھا۔ اس کے بعد انہیں پراپرٹی ڈیلر کی طرف سے اس مقصد کے تحت وقت مل گیا کہ وہ فلاں دن کرائے کے گھر کے طور پر ایک پراپرٹی دیکھنے آ سکتی ہیں۔ اس پر حمیرا وسیم نے متعلقہ پراپرٹی ڈیلر کے خلاف کیس کر دیا اور وہ یہ مقدمہ بالآخر جیت بھی گئیں۔
جرمنی میں نسل پرستی اور تارکین وطن سے متعلق بحث پر ایک نظر
جب یہ معاملہ جرمنی میں اعلیٰ ترین عدالتی سطح پر پہنچا، تو شہر کارلسروہے میں وفاقی عدالت انصاف نے اپنا فیصلے میں حکم سنایا کہ عمومی مساوی برتاؤ کے ملکی قانون کے منافی اور حمیرا وسیم کے ساتھ روا رکھے گئے امتیازی سلوک کی مالی تلافی کے لیے انہیں تین ہزار یورو (قریب 3,494 ڈالر کے برابر) ادا کیے جانا چاہییں۔
اس جائزے سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ کئی ملین متاثرین میں سے زیادہ تر کی رائے میں انہیں اپنے خلاف امتیازی سلوک کا سامنا نسلی تعصب، قومی پس منظر، جلد کی رنگت یا مختلف ثقافتی پہچان جیسے عوامل کے باعث کرنا پڑا۔
ادارت: جاوید اختر