1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمنی میں بہت چھوٹے قد کے باعث معذوری کے شکار افراد کی صورت حال

Malik, Maqbool7 مئی 2008

دنیا کے سبھی معاشروں میں نسلی، لسانی اور ثقافتی حوالوں سےاکثریتی اور اقلیتی آبادیاں پائی جاتی ہیں جو بالکل عام سی بات ہے۔ لیکن اکثریت اور اقلیت کے مابین یہی تفریق عام شہریوں کی جسمانی حالت کی بنیاد پر بھی کی جا سکتی ہے۔

صوبے ہیسے کا رہنے والا Steve تیرہ برس کی عمر میں ایک ٹیلی فون بوتھ میں، اب 22 برس کی عمر میں اس کے پاس اپنا موبائل فون ہےتصویر: dpa/picture-alliance

کوتاہ قامت کہلانے والے ایسے شہری پاکستان اور بھارت میں بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔ پاکستان میں تو ایسے افراد کی پیشہ وارانہ کامیابی کی سب سے بڑی مثال ڈاکٹر نسیم حسن شاہ کی ہے جو ملکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ لیکن بات اگر یورپ کی کی جائے تو یورپی یونین کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک جرمنی میں ایسے افراد کی تعداد اور صورت حال کیا ہے؟

شمالی جرمن شہر بریمن میں ستمبر 2007 سےایک ایسا ادارہ قائم ہے جوجرمنی میں اپنی نوعیت کا واحد ادارہ ہے اور جس کا نام کوتاہ قد افراد سے متعلقہ امور کا جرمن مرکز ہے۔ جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے یہ ادارہ ایسے افراد کی نمائندگی اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہے جن کی جسمانی نشو ونما معمول کے مطابق نہیں ہو تی اور جو بہت چھوٹے قد کے ہوتے ہیں۔

اردو میں روز مرہ کی زبان میں ایسے افراد کے لئے ‌ٹھگنے کا لفظ استعمال کیا جاتا ہےمگر معاشرتی حوالے سے یہ لفظ انسانی احترام کی بجائے تحقیر کے زمرے میں آتا ہےاور اسی لئے غلط بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شائستہ زبان میں ایسے افراد کے لئے کوتاہ قامت یا چھوٹے قد والے انسانوں کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ کسی بچے کا قد اگر اس کی عمر کے مطابق نہ بڑھے تو اس کی مختلف طبی اور جینیاتی وجوہات ہوتی ہیں۔

فلپائین کے دارلحکومت منیلا میں بہت چھوٹے قد کے کھلاڑیوں پر مشتمل دوٹیموں کے مابین ایک باسکٹ بال میچ کا منظرتصویر: picture alliance/dpa

کوتاہ قامت ہونے کی طبی تعریف

بریمن میں کوتاہ قامت شہریوں کےجرمن مرکز کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ ایسےشہریوں، خاص کر چھوٹے قد والے مردوں اورخواتین کی معاشرتی اور ذاتی زندگی کے حالات کو بہتر بنایا جائے۔

جرمنی میں ایسے شہریوں کی ایک وفاقی تنظیم بھی قائم ہےجس کا نام چھوٹے قد والے افراد اور ان کے اہل خانہ کی وفاقی فیڈریشن ہے۔ اس تنظیم کی اپنی ایک ویب سائٹ بھی ہے جس کا پتہ ہے bkmf.de ہے۔ اس تنظیم کی سربراہ Doris Michel ہیں جو کہتی ہیں کہ جرمنی میں ایسے افراد کی تعداد قریب ایک لاکھ ہے جن کا قد 1.5 میٹر یا قریب ساڑھے چار فٹ سے زیادہ نہیں ہے اور جنہیں طبی حوالے سے کوتاہ قامت قرار دیا جاسکتا ہے۔

اس جرمن فیڈریشن کی سرپرستی میں بریمن کا مرکزتقریبا 1.5ملین یوروکی لاگت سےتعمیر کیا گیا تھا، ایک ایسی عمارت میں جو ماضی میں عیسائی راہباؤں کی رہائش گاہ تھی۔ کوتاہ قد شہریوں سے متعلق یہ جرمن مرکزنہ صرف ایسے افراد کو تھیراپی سمیت ان کے علاج معالجے کے مختلف امکانات سے آگاہ کرتا ہے بلکہ ماہرین کی طرف سے یہ وضاحت بھی کی جاتی ہے کہ اگر کسی شہری کا قد غیر معمولی حد تک چھوٹا رہ گیا ہوتو اس کے اسباب کیا ہو سکتے ہیں۔

کوتاہ قامتی کی سینکڑوں قسمیں

اس مرکز کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کی نشوونما معمول کے مطابق نہ ہونے کی قریب 450 مختلف قسمیں ہوتی ہیں جن میں سے اکثر کا عام ڈاکٹروں کو علم ہی نہیں ہوتا۔ اسی لئے ناقص تشخیص اور غلط تھیراپی سے فائدے کی بجائے نقصان کے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں۔

بریمن کا یہ مرکز دو حوالوں سے انتہائی منفرد ہے۔ ایک تو وہاں ایک ایسا آزمائشی گھر بنایا گیا ہے جہاں جدید طرز کے تکنیکی سازوسامان کی مدد سے چھوٹے قد کے افراد یہ تعین کرسکتے ہیں کہ وہ اپنی روزمرہ کی زندگی کے مسائل پرکس طرح قابو پاسکتے ہیں۔ دوسری خاص بات تھیراپی کے ماہرین، اسپیشلسٹ ‌ڈاکٹروں اور ماہرین قانون پر مشتمل وہ مشاورتی ٹیم ہے جو کوتاہ قامت افراد کو اس بارے میں مشورے دیتی ہے کہ کسی بھی احساس محرومی کے بغیر ہر طرح کے حالات میں وہ خود اپنی مدد آپ کیسے کرسکتے ہیں۔

بہت چھوٹے قد کےباوجود شہرت اور کامیابی حاصل کرنے والے اداکار اور مصنف مائین ہارڈ رابے کی89 برس کی عمر میں نیویارک کے ایک ہوٹل میں لی گئی تصویرتصویر: AP

جرمنی میں بہت چھوٹے قد کے مجموعی طور پر قریب ایک لاکھ افراد میں سے کتنے شہریوں نے خود کو BKMF نامی تنظیم کے تحت بہت منظم کررکھا ہے۔ ایسے افراد کو روزمرہ کی زندگی میں کس طرح کے مسائل کا سامنا رہتا ہے؟ اس بارے میں ماضی میں اس تنظیم کی مرکزی قیادت میں شامل رہ چکنے والی خاتون ماہر اور فزیوتھیراپسٹ Gisela Riedel کہتی ہیں:

"جرمنی میں کوتاہ قامت افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان میں سے تین ہزار کے قریب افراد BKMF نامی تنظیم کے رکن ہیں۔ مگرچھوٹے قد کے ایسے شہریوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو کسی تنظیمی دائرہ کار کے تحت منظم نہیں ہیں۔کسی شخص کا کوتاہ قد ہونا ایک ایسی حالت ہے جس کی 450 کے قریب مختلف قسمیں ہو تی ہیں۔

"ہمیں اپنے اردگرد کے معاشرے میں آج بھی ایسی بہت سی رکاوٹیں نظر آتی ہیں جو متاثرہ افراد کی زندگی کو مشکل بنا دیتی ہیں۔ مثلا پبلک مقامات پر لگی لفٹوں کے بٹن کافی اونچے ہوتے ہیں۔ پہلے تو پبلک ٹیلی فون بھی عام انسانوں کے اوسط جسمانی قد کے مطابق نصب کئے جاتے تھے۔ اب وہ قدرے نیچے لگے ہوتے ہیں۔ پھر موبائل ٹیلی فونوں کی وجہ سے پبلک ٹیلی فونوں پر انحصار بھی بہت کم ہوگیا ہے۔ لیکن چھوٹے قد کے افراد کے لئے کسی ریل گاڑی میں سوار ہونا یا اترنا کئی ریلوے اسٹیشنوں پرآج بھی ایک مسئلہ ثابت ہوتا ہے۔ یہ ہے ایسے افراد کی سماجی صورت حال۔

"لیکن ایک دوسرا پہلو ایسے شہریوں کے ساتھ معاشرتی روئیے کا بھی ہے۔ عام لوگ لاعلمی میں ان کے ساتھ چھوٹے بچوں کا سا برتاؤ کرتے ہیں جس کی بناء پر ایسے انسان اس احترام سے محروم رہتے ہیں جو بالغ ہونے کی وجہ سے ان کا حق ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹے قد والے افراد کو روزمرہ کی زندگی میں جسمانی اور طبی شکایات کا سامنا بھی رہتا ہے۔"

دو کوتاہ قامت جوڑوں کی ایک ہی روز شادی کے موقع پر 1864 میں لی گئی تصویرتصویر: picture alliance/akg-images

کیاجرمنی میں بہت چھوٹے قد والے انسان قانونی طورپراپاہج تصور کئے جاتے ہیں؟ بچپن میں ان کا روئیہ کیسا ہوتا ہے؟

"چھوٹے قد والے انسان، جب وہ ابھی بچے ہی ہوتے ہیں، انتہائی دوستانہ روئیوں کےحامل ہوتے ہیں۔ ایسے بچوں کو دراصل ان کے اسی رویئے کی بنیاد پر واضح طور پر پہچانا جاسکتا ہے۔

"جرمنی میں قانونی طور پراور ایسے افراد کوسماجی اور معیشی سطح پر دی جانے والی رعائتوں کے پیش نظرکوئی انسان اگر بہت چھوٹے قد کا ہو تواس کی یہ جسمانی حالت اپاہج پن کے زمرے میں آتی ہے۔ مثال کے طور پراگر ایسے شہری اپنی گاڑی خود چلانا چاہیں تو لازمی ہوتا ہے کہ ان کے لئے گاڑی میں خاص طور پر تبدیلیاں کی گئی ہوں۔"

معاشرتی روئیوں میں ارتقاء کا عمل

اکثر معاشروں میں ایسا ہوتا ہے کہ جو شہری دیکھنے میں عام انسانوں سے مختلف ہوں، ان کا مزاق بھی اڑایا جاتا ہے۔ جرمنی میں چھوٹے قد والے انسانوں کے ساتھ عام شہریوں کا اوسط روئیہ کیسا ہوتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں فزیوتھیراپسٹ Gisela Riedel کہتی ہیں:

" اٹھائیس برس قبل جب میرا ایسے افراد کے ساتھ پیشہ وارانہ رابطہ شروع ہوا توحالات بہت مختلف تھے۔ لیکن تب سے آج تک معذورانسانوں کے بارے میں عمومی سماجی رویئے بہت بدل چکے ہیں۔ یقینا آج بھی عام لوگوں میں سے چند ایک ایسے ہوتے ہیں جو معذور افراد کے بارے میں غیر سنجیدگی سے بات کرتے ہیں یا انہیں اپنے لطیفوں کا موضوع بناتے ہیں۔ لیکن عین اسی حوالے سے سماجی شعور کی بیداری سے ایسے طنزیہ رویئے بہت کم ہو ئے ہیں۔"

کوتاہ قامت افراد کے لئے مثالی گھر کے منصوبے کے تحت خاص طور پر تیار کردہ صوفہ اور اسے استعمال کرنے والا جوڑاتصویر: AP

شادی کے فیصلے میں جسمانی قد کا عمل دخل

ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کوتاہ قامت افراد جرمن معاشرے میں کیا مقام حاصل کرپاتے ہیں اور کیا وہ شادیاں بھی صرف آپس ہی میں کرتے ہیں یا پھر ان کے شریک حیات عام شہری بھی ہوتے ہیں؟ گیزیلا ریڈل کے بقول جرمنی میں کوتاہ قامت باشندے معمول کے قد کاٹھ والے عام شہریوں سے بھی شادیاں کرتے ہیں اور اپنے جیسے معذور افراد سے بھی۔

"وہ بچے جن کی پندرہ بیس سال پہلے جسمانی نشو ونما معمول کے مطابق نہیں ہوئی تھی، وہ آج بھی چھوٹے قد کے ہیں مگر بالغ اور پیشہ ور افراد کے طور پر معاشرے میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ ایسے شہری آپس میں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ میل جول میں کھلے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اسی لئے ان کے شریک حیات ان جیسے افراد بھی ہوتے ہیں اوروہ اپنے سے کافی بڑے، یعنی معمول کے قد والے مردوں اورخواتین سےبھی شادیاں کرتے ہیں۔"

قریب تین عشروں تک کوتاہ قامت افراد کے ساتھ پیشہ وارانہ رابطوں کا حامل کوئی انسان آج کیا سوچتا ہوگا اورنفسیاتی سطح پر ایسے معذور افراد کی مجموعی شخصیت کیسی ہوتی ہے؟ گیزیلا ریڈل اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں:

"میرے لئے ایسے افراد کے ساتھ رابطہ، اور ان کے لئے کام کرنا، پیشہ وارانہ اورانسانی دونوں حوالوں سے بہت ہی سودمند ثابت ہوا۔ اس دوران مجھے بہت سے نئے تجربات بھی ہوئے۔ میں نےنفسیاتی مشاورت اور جسمانی تھیراپی کے دوران اتنے باہمت، حساس، باصبر اور پیار کرنے والے مریض بہت ہی کم دیکھے ہیں جتنے کہ چھوٹے قد والے افراد۔"

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں