جرمنی میں تارکین وطن کے لیے قوانین سخت تر
7 نومبر 2014
یہ فیصلہ کیا ہے گزشتہ روز مخلوط جرمن حکومت میں شامل جماعتوں کے پارلیمانی دھڑوں کے اراکین نے۔ اس بارے میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ آزاد نقل و حرکت کے بارے میں یورپی یونین کے موجودہ قانون میں تبدیلی لائی جائے گی۔
مستقبل میں جرمنی میں تارکین وطن کی حیثیت سے فراڈ کرنے والوں کو فوری طور پر جہاز میں بٹھا کر واپس بھیج دیا جائے گا۔ اسی طرح کے دیگر اقدامات کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جس پر وفاقی جرمن پارلیمان میں مخلوط حکومت میں شامل کرسچین ڈیموکریٹک یونین سی ڈی یو، کرسچین سوشل یونین سی ایس یو اور سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی ایس پی ڈی نے اکثریتی ووٹ کے ساتھ اتفاق کر لیا ہے۔ ان فیصلوں میں سے اہم ترین فیصلوں کی تفصیلات کچھ یوں ہیں۔
روزگار کی تلاش میں جرمنی آنے والے افراد کے اقامہ یا قیام کا حق محدود ہوگا۔ یعنی ایسے افراد جو روزگار کی تلاش کے دوران اقامہ حاصل کرنا چاہیں گے انہیں چھ مہینے کے لیے قیام کی اجازت دی جائے گی۔ اس حق کا غلط یا ناجائز استعمال کرنے والے کی آزاد نقل و حرکت پر تین سال تک کی قید کی سزا دی جائے گی یا اُسے جرمانے کی رقم ادا کرنا ہوگی۔
جرمنی میں دوبارہ داخلے پر پابندی ماضی کی طرح غیر محدود مدت کے لیے نہیں ہوگی بلکہ متعلقہ دفاتر کسی تارک وطن پر یہ پابندی ایک محدود مدت کے لیے عائد کر سکیں گے۔
چائلڈ بینیفٹ یا بچے کی پرورش کے لیے ملنے والا سرکاری الاؤنس محض اُن افراد کو دیا جائے گا جو جرمنی میں ٹیکس دیتے آئے ہوں اور جن کے پاس ٹیکس نمبر موجود ہو۔ اس طرح چائلڈ الاؤنس کی دُگنی ادائیگی کا احتمال باقی نہیں رہے گا۔
بچوں اور نوجوانوں کو لگنے والے ٹیکوں کے اخراجات ہیلتھ انشورنس کمپنیاں ادا کریں گی۔
غیر قانونی طور پر کام کرنے والوں کے کوائف کا تبادلہ متعلقہ دفاتر کے مابین موثر انداز میں کیا جائے گا تاکہ اس کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
وفاقی جرمن پارلیمان نے تاہم یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ جرمنی میں یورپی یونین کے کچھ ممبر ممالک کے شہریوں کے لیے امیگریشن کا کوٹہ مختص نہیں کیا جائے گا۔ اس قسم کی تجویز کچھ عرصے سے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی طرف سے پیش کی جاتی رہی ہے تاہم حال ہی میں برلن میں چانسلر دفتر کی طرف سے اس بارے میں کیمرون کی تجویز پر سخت سرزنش سامنے آئی۔ اس کے جواب میں کیمرون نے جرمن منصوبے سے مطابقت رکھنے والا ایک برطانوی منصوبہ کرسمس تک پیش کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
تارکین وطن سے متعلق قوانین میں تبدیلیاں دراصل سال رواں میں کرسچین سوشل یونین سی ایس یو کی طرف سے چھیڑی جانے والی اُس بحث کا نتیجہ ہے جس کا عنوان ’ مبینہ امیگریشن غربت‘ رکھا گیا تھا۔ اس میں مرکزی اہمیت مشرقی یورپ کے تارکین وطن کے جرمنی میں داخلے کو حاصل تھی۔