1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمنی میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والوں کی ریکارڈ تعداد

عدنان اسحاق11 جنوری 2014

جرمنی میں سیاسی پناہ کے حصول کے خواہشمند افراد کی تعداد گزشتہ چودہ برسوں کی اپنی اونچی ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ 2013ء میں سیاسی پناہ کی درخواستوں میں تقریباً 64 فیصد کا اضافہ ريکارڈ کيا گيا ہے۔

تصویر: Getty Images

سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے زیادہ تر افراد روس، شام، صومالیہ، سربیا، ایریٹیرا اور مقدونیا سے جرمنی کا رخ کر رہے ہیں۔ جرمن وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ برس 1,27,023 افراد نے جرمنی ميں سياسی پناہ لینے کی کوشش کی، جو 1999ء کے بعد سے اب تک کا ریکارڈ ہے۔ اس طرح یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک کے مقابلے میں جرمنی میں سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کی سب سے بڑی تعداد نے اپنی درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ پاکستان اور ایران سے بھی ایک بڑی تعداد جرمنی میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والوں کی فہرست ميں شامل ہے۔

جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزيئرتصویر: AP

جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزيئر کہتے ہیں کہ یہ اضافہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ان کے بقول جرمنی کا اصل چیلنج سماجی شعبے میں اپنی خدمات اور مجبور انسانوں کی مدد کے لیے کی جانے والی سرگرمیوں کو پہلے کی طرح جاری رکھنا ہے۔ جرمنی میں آج کل مشرقی یورپ کی غریب ریاستوں کے شہریوں کی آمد اور ملک کے سماجی نظام کا غلط فائدہ اٹھانے کے موضوع پر بحث جاری ہے۔ اس تناظر میں جرمن وزیر داخلہ کا کہنا ہے، ’’سیاسی پناہ اور محفوظ پناہ گاہوں کا حق سب کو حاصل ہے اور یہ ہماری بین الاقوامی ذمہ داریوں میں شامل ہے‘‘۔

ڈے میزیئر نے کہا کہ سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرانے اور پھر اس پر کارروائی ميں بہت زیادہ وقت لگتا ہے۔ اس سلسلے میں کسی بھی ایک کیس کو حل ہونے میں کم از کم آٹھ ماہ لگ جاتے ہیں۔ وزیر داخلہ چاہتے ہیں کہ یہ معاملات تیزی سے حل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا، ’’اس بارے میں جلد اور واضح فیصلہ ہونا چاہیے کہ کس شخص کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے اور کون اس کا مستحق نہیں ہے‘‘۔ وہ مزید کہتے ہیں سیاسی پناہ کی تقریباً چودہ فیصد درخواستوں کو تسلیم کر لیا جاتا ہے۔

ایک غیر سرکاری تنظیم پرو آزیول کا موقف ہے کہ جرمن وزیر داخلہ نصف سچائی بیان کر رہے ہیں۔ ڈے میزیئر اپنے بیان سے ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد جرمنی کے لیے بوجھ نہیں ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں