1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمنی میں شامی مہاجرین کی آمد

Ishaq / Bleiker, Carla11 ستمبر 2013

جرمن وزیر داخلہ ہنس پیٹر فریڈرش نے رواں برس مارچ میں پانچ ہزار شامی مہاجرین کو جلد از جلد جرمنی لانے کا اعلان کیا تھا۔ آج بدھ 11ستمبر کو شامی مہاجرین کا پہلا قافلہ جرمنی پہنچ گیا ہے۔

تصویر: UNICEF/NYHQ2012-0206/Romenzi

جرمن وزارت داخلہ کی ایک ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین UNHCR اور مختلف امدادی تنظیموں سے صلاح و مشورے کے بعد ہی برلن حکومت نے ان شامی مہاجرین کا انتخاب کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین UNHCR کے اسٹیفن ٹیلؤکن نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے ان مہاجرین کا اچھی طرح جانچ پڑتال کرنے کے بعد ہی انتخاب کیا ہے۔’’ اندراج کے رجسٹروں کا جائزہ لیا گیا اور مناسب معلومات حاصل کی گئیں۔ پھر متاثرہ افراد سے یہ بھی پوچھا گیا کہ آیا وہ جرمنی جانے پر آمادہ ہیں‘‘۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ یہ دوبارہ آبادکاری کا منصوبہ نہیں ہے۔ ان کے بقول شام میں سلامتی کی صورتحال بہتر ہونے پر ان افراد کو واپس جانا پڑے گا۔ بتایا گیا ہے کہ جرمنی لائے جانے کے لیے انتخاب ان شامی مہاجرین میں سے کیا گیا ہے، جنہوں نے لبنان میں پناہ لے رکھی ہے۔ امدادی تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق لبنان میں رجسٹرڈ شامی تارکین وطن کی تعداد قریب سات لاکھ بنتی ہے۔

ان میں شدید زخمی، بیواؤں اور اپنے بچوں تنہا پرورش کرنے والی خواتین کو فوقیت دی گئی ہےتصویر: Bulent Kilic/AFP/Getty Images

شامی مہاجرین کو منتخب کرنے کے لیے ایک خاص طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ جرمنی میں انہیں اس ملک کے رہن سہن کے بارے میں بتایا جائے گا اور اس سلسلے میں ہنگامی تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔ تاہم جرمنی میں ان کا قیام مستقل نہیں ہو گا۔

حکام کے مطابق ان شامی تارکین وطن کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں شدید زخمی، بیواؤں اور اپنے بچوں تنہا پرورش کرنے والی خواتین کو فوقیت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ان اعلیٰ تعلیم یافتہ مہاجرین کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جو خانہ جنگی کے بعد واپس اپنے وطن جا کر تعمیر نو کے کاموں میں کوئی نہ کوئی کردار ادا کر سکتے ہوں۔ ساتھ ہی ان افراد کو بھی ترجیح دی گئی ہے، جن کا جرمنی سے کوئی نہ کوئی تعلق بنتا ہے۔ مثال کے طور پر انہیں جرمن زبان آتی ہو یا ان کا کوئی رشتہ دار جرمنی میں موجود ہو۔

اطلاعات کے مطابق مختلف مراحل میں شام سے آنے والے پانچ ہزار افراد کو ابتدائی طورپر سرحد پر قائم عارضی کیمپوں میں رکھا جائے گا۔ جرمن شہر فریِڈلانڈ میں قائم ایک کیمپ کے سربراہ ہائنرش ہورنشیمائر نے ڈی ڈبلیوکو بتایا کہ ان افراد کو رضاکارانہ طورپر ایک ہفتے دورانیے کے ایک رہنما کورس میں شرکت کرنا ہو گی۔ ’’صبح کے وقت انہیں جرمن زبان سکھائی جائے گی اور کوشش کی جائے گی کہ کورس کے اختتام پر یہ لوگ جرمن زبان میں اپنا تعارف کرانے یا راستہ معلوم کرنے کے قابل ہوں۔ سہ پہر کے وقت تربیتی نشستوں میں انہیں جرمنی کے بارے میں بتایا جائے گا۔‘‘

انہوں نے مزید بتایا کہ کیمپوں میں دو ہفتوں کے قیام کے بعد ان تارکین وطن کو جرمنی کے 16 صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ آبادی کے لحاظ سے جرمنی کا سب سے بڑا صوبہ نارتھ رائن ویسٹ فیلیا سب سے زیادہ یعنی 1060شامی مہاجرین کا نیا گھر ہو گا۔ صوبائی حکومت نے مزید ایک ہزار مہاجرین کو پناہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ صوبے بریمن میں 50 شامی باشندوں کو رکھا جائے گا۔ حکام کے بقول بریمن میں زیادہ تر ان افراد کو رکھا جائے گا، جو شدید زخمی ہیں یا نفسیاتی مسائل سے دوچار ہیں۔

تصویر: DW/I. Chaloub

جرمنی میں مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ’پرو آزیُول‘ کے مطابق صرف پانچ ہزار افراد کو پناہ دینے کا فیصلہ حالات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس تنظیم کا موقف ہے کہ مشرق وسطیٰ میں مہاجرین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور جرمنی کو اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے مزید مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دینی چاہیے۔

گزشتہ دو برسوں سے شامی صدر بشارالاسد کے حامی دستوں اور ان کے مخالفین کے مابین جاری خونریز تصادم میں سب سے زیادہ عام شہری متاثر ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس دوران تقریباً بیس لاکھ افراد محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں شام سے دیگر ممالک کو ہجرت کر چکے ہیں۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں