1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمنی میں ملازمتوں کے مواقع ریکارڈ کم ترین سطح پر

شکور رحیم ڈی پی اے
26 دسمبر 2025

جرمن فیڈرل ایمپلائمنٹ ایجنسی کے مطابق اب کوئی بھی ملازم نوکری کھونے کے خطرے سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا۔ ایجنسی کی سربراہ نے کیریئر شروع کرنے والے افراد کو مشورہ دیا کہ وہ خود کو کسی ایک پیشے یا شہر تک محدود نہ کریں۔

جرمن حکام کے مطابق علیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کے پاس اب بھی نسبتاً بہتر مواقع موجود ہیں
جرمن حکام کے مطابق علیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کے پاس اب بھی نسبتاً بہتر مواقع موجود ہیںتصویر: Getty Images

جرمنی میں بے روزگار افراد کے لیے ملازمت حاصل کرنے کے امکانات ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ جرمن وفاقی ایجنسی برائے روزگار کی سربراہ آندریا ناہلس کے مطابق ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ روزگار کے امکانات کا جائزہ لینے والا اشاریہ 5.7 فیصد تک گر گیا ہے، جبکہ یہ عموماً سات کے قریب رہتا ہے۔

آندریا ناہلس نے کہا کہ لیبر مارکیٹ کئی مہینوں سے ایک ''جامد تختے‘‘ کی طرح ہے اور اس میں کسی قسم کی حرکت یا بہتری نظر نہیں آ رہی۔

بے روزگاری الاؤنس میں مجوزہ اصلاحات پر تنقید کرتے ہوئے ناہلس نے کہا کہ اگر ہر فرد کی پیشہ ورانہ مہارت اور قابلیت کو مدنظر نہ رکھا گیا، تو  بے روزگار افراد کے لیے دوبارہ متعارف کرائی جانے والی نام نہاد ''ترجیحی تعیناتی‘‘ کی پالیسی اس وقت مسئلہ بن سکتی ہے ۔ ان کے مطابق فلاحی نظام پر بحث میں لیبر مارکیٹ کی حقیقتوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

جرمن حکام کے مطابق علیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کے پاس اب بھی نسبتاً بہتر مواقع موجود ہیںتصویر: Thomas Peter/REUTERS

دسمبر کے وسط میں جرمن کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ تین سال بعد بے روزگاری الاؤنس کی جگہ بنیادی آمدن  کا نیا نظام نافذ کیا جائے گا، جس میں سخت قواعد اور کڑی سزائیں شامل ہوں گی۔

ناہلس کے مطابق اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کے پاس اب بھی نسبتاً بہتر مواقع موجود ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اب کوئی بھی ملازم اپنی نوکری کھونے کے خطرے سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا۔

روزگار کی منڈی میں داخل ہونے والے نوجوانوں کے لیے صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔ ناہلس نے بتایا کہ 2025 میں گزشتہ 25 برسوں کے مقابلے میں سب سے کم نوجوانوں کو اپرنٹس شپ دلائی گئی۔ کیریئر شروع کرنے والے نئے افراد کو انہوں نے مشورہ دیا کہ وہ خود کو کسی ایک پیشے یا شہر تک محدود نہ کریں۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

جرمنی کی معاشی قسمت کیسے بدلی؟

12:00

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں