1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
معاشرہجرمنی

جرمنی میں نسل پرستانہ توہین کے بعد طلبہ نے کیمپ ترک کر دیا

9 مئی 2023

پولیس کا کہنا ہے کہ طلبہ کے ایک گروہ نے ایک دوسرے گروپ کی نسل پرستانہ توہین کی اور انہیں دھمکیوں کا نشانہ بنایا، تو متاثرہ بچے ریاضی کے کیمپ سے رخصت ہو گئے۔

Deutschland | Kinder- und Jugenderholungszentrum KIEZ in Gräbendorf
تصویر: Bernd Settnik/ZB/picture alliance

جرمن پولیس نے آٹھ مئی پیر کے روز بتایا کہ مشرقی ریاست برانڈن برگ میں اسکول کے بچوں کے ایک گروپ کو عمومی دھمکی کے ساتھ ہی نسل پرستی کی بنیاد پر بھی دھمکی دی گئی، جس کے بعد طلبہ ریاضی سے متعلق یہ کیمپ چھوڑ کر کے وہاں سے چلے گئے۔

'جرمنی کے لوگ‘ اور روزمرہ زندگی میں نظر آنے والی نسل پرستی

جن طلبہ کو نشانہ بنایا گیا، ان میں سے بیشتر کا تعلق نسلی اقلیت سے ہے۔ پولیس نے بتایا کہ یہ طلبہ علاقے میں کسی کی اٹھارہویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے، جہاں طلبہ کے ایک دوسرے گروپ نے ان کے خلاف نسل پرستانہ باتیں کیں، جس کے بعد ان کے استاد انہیں لے کر وہاں سے روانہ ہو گئے۔

برلن میں مسلم مخالف تعصب سے کیسے نمٹا جائے؟

اس واقعے کے بعد پولیس افسر برلن کے جنوب مشرق میں واقع فراؤان زے کیمپ سے بچوں کو باہر لے گئے۔ پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اس واقعے کی تحقیقات ایک ایسا علاقائی پولیس یونٹ کر رہا ہے، جو سیاسی محرکات پر مبنی جرائم پر نگاہ رکھنے کا کام کرتا ہے۔

جرمنی، نسل پرستانہ حملے کے بعد فٹ بال میچ منسوخ

ایک معروف جرمن روزنامے نے یہ اطلاع دی ہے کہ پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں  28 افراد کے نام لیے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ جن کے نام لیے گئے ہیں، آیا وہ سب کے سب مشتبہ افراد ہیں۔

بائرن میونخ فٹبال اکیڈمی، نسل پرستی کے الزامات کی زد میں

اس کیمپ کی سربراہ نورا رن اَیک نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ''ہم کسی بھی قسم کی تفریق اور نسل پرستی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔‘‘

جرمن پولیس کے لیے انسداد نسل پرستی کی تربیت

حکام کا رد عمل کیا رہا؟

برلن کی وزیر تعلیم کاترینا گیونٹر ویُونش نے کہا کہ اسکول کے بچوں کے لیے ایک ماہر نفسیات کی مدد کی پیشکش کی جائے گی، تاکہ وہ اس واقعے سے اچھی طرح نمٹ سکیں۔ انہوں نے کہا، ''میں ایسے حملوں کو برداشت نہیں کروں گی، اور ہمیں ایسا کرنا بھی نہیں چاہیے۔‘‘

برانڈن برگ کی ریاستی پارلیمنٹ میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ لڈوِگ شیٹس نے کہا کہ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ 'نوجوانوں کو تربیت دینے‘ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، ''ہم دائیں بازو کی انتہا پسندانہ سرگرمیوں کو مزید نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘‘

برانڈن برگ کے اساتذہ نے گزشتہ ماہ ایک کھلا خط لکھا تھا، جس میں بچوں کی طرف سے نازی سیلوٹ سمیت اسکولوں میں نسل پرستانہ رویے کی مذمت کی گئی تھی۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق انتہائی دائیں بازو کی جماعت 'متبادل برائے جرمنی‘ یا اے ایف ڈی نے برانڈن برگ میں اپنی مقبولیت کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس جرمن صوبے میں اگلے برس ریاستی انتخابات ہونے والے ہیں۔

ص ز / ج ا، م م (اے ایف پی، ڈی پی اے)

’یہ ایک احساس ہے، قبول نہ کیے جانے کا‘

01:38

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں