1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمنی: سرکاری اداروں میں گہری ادارہ جاتی نسل پرستی، تحقیق

کشور مصطفیٰ روشنی مجمدار
22 فروری 2026

ایک نئی تحقیق کے مطابق جرمنی کے سرکاری اداروں میں نسل پرستی کی گہری جڑیں ادارہ جاتی معمولات اور ثقافت میں موجود ہیں۔

اس تصویر میں برلن منعقدہ ایک عوامی احتجاج میں شریک مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نظر آ رہے ہیں اور ایک شخص کے ہاتھ میں ’’نسل پرستی قاتل‘‘ کا پلےکارڈ ہے
2021 ء میں امریکہ سے شروع ہونے والی بلیک لائیوز میٹر تحریک کی بازگشت جرمنی میں بھی سنائی دیتصویر: Christian Mang/REUTERS

شہر لائبزش میں قائم سوشل کوہیژن ریسرچ انسٹیٹوٹ (FGZ) نے یہ نتائج تین سالہ جائزے کے بعد شائع کیے، جس میں جاب سینٹرز، امیگریشن دفاتر، پولیس اور کسٹمز، عدالتیں، صحت، نوجوانوں اور عوامی نظم کے محکمے، اور سوشل ورک ادارے شامل تھے۔

محققین نے بتایا ہے کہ جرمن سرکاری اداروں میں امتیاز اکثر کھلے تعصب کی بجائے روزمرہ کے  فیصلوں کی معمول کی کارروائیوں میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ اس انکشاف نے جرمنی میں اصلاحات کے مطالبات کو ایک بار پھر ہوا دی ہے۔

جرمنی میں اسلاموفوبیا، ایک سنگین مسئلہ

03:01

This browser does not support the video element.

سروے کے نتائج

مطالعے میںتمام اداروں میں فیصلوں میں صوابدیدی اختیار اور تنظیمی ڈھانچے کے حوالے سے نسلی امتیاز  کے شواہد ملے۔ رپورٹ کے مطابق یہ امتیاز مختلف شکلوں اور شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔

13,000 سے زائد ملازمین کے سروے سے یہ بھی پتہ چلا کہ سرکاری اداروں میں نسلی تعصب عام آبادی کے مقابلے میں یکساں طور پر زیادہ نہیں تھا۔

محققین نے بتایا ہے کہ جرمن سرکاری اداروں میں امتیاز اکثر کھلے تعصب کی بجائے روزمرہ کے فیصلوں کی معمول کی کارروائیوں میں پوشیدہ ہوتا ہےتصویر: REUTERS

محققین کا کہنا ہے کہ جرمن زبان سے نابلد ہونا ایک اہم خطرہ بن جاتا ہے کیونکہ کسی بھی جگہ درخواست دینے کے عمل کے دوران فراہم کی جانے والی معاونت کا بہت حد تک دار ومدار زبان سے آگاہی ہے۔

انہوں نے رپورٹ کیا کہ کچھ درخواست دہندگان کو پیشگی اور فعال مدد ملتی ہے، جبکہ  جرمن زبان کی محدود آگاہی رکھنے والے افراد کو کبھی کبھی واپس بھیج دیا جاتا ہے یا بتایا جاتا ہے کہ ان کی زبان دانی ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

جرمنی کے صحت کے نظام میں سیاہ فام ہونا کیسا تجربہ ہے؟

جرمنی کے صحت کے نظام میں سیاہ فام افراد کے تجربات سے  متعلق مباحث کے تناظر میں نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ عوامی رویّوں اور سماجی ماحول میں موجود علاقائی فرق سرکاری اداروں کی عملی کارکردگی میں بھی جھلکتا ہے۔

مطالعے کے مطابق ملک کے کچھ علاقوں میں انتظامی عمل زیادہ تعاون پر مبنی ہے، جبکہ دیگر مقامات پر رویّے زیادہ سخت اور اجنبیت پر مبنی دکھائی دیتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ باریک سطح پر موجود یہ تفاوت اکثر فیصلہ سازی، شہریوں کے ساتھ برتاؤ اور خدمات کی فراہمی پر اثرانداز ہوتا ہے۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق جرمنی میں امتیازی سلوک مختلف شکلوں اور شدت کے ساتھ تمام اداروں میں سامنے آتا ہےتصویر: DW

تحقیق میں سفارش کی گئی ہے کہ سرکاری سطح پر آزاد شکایتی دفاتر قائم کیے جائیں، تاکہ شہریوں کو تعصب یا امتیازی سلوک کی صورت میں باضابطہ اور محفوظ طریقے سے شکایات درج کرانے کا موقع مل سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماہرین نے نسل پرستی کے موضوع پر مزید تربیت، آگاہی اور ریفلیکشن پروگرامز کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

برلن میں نسلی تعصب اور امتیازی سلوک کے خلاف مظاہرہ

02:59

This browser does not support the video element.

محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن طبقات کو تعصب کا سامنا رہتا ہے، اُن کے افراد کو سول سروس کے مختلف شعبوں اور تمام سطحوں پر فعال طور پر بھرتی کیا جانا چاہیے، تاکہ اداروں کے اندر تنوع بڑھے اور فیصلوں میں زیادہ جامع نقطۂ نظر شامل ہو سکے۔

 

ادارت: جاوید اختر

 

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں