1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستجرمنی

جرمنی میں ویکسین نہ لگوانے والے افراد کو پابندیوں کا سامنا

2 دسمبر 2021

جرمنی میں ویکسین نہ لگوانے والے افراد اسٹورز، ثقافتی اور تفریحی مقامات میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔ اس کا فیصلہ جرمن ریاستوں اور وفاق کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں کیا گیا۔

Deutschland Coronavirus Schild Maskenpflicht
تصویر: Martin Meissner/AP Photo/picture alliance

جمعرات دو نومبر کو جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ تمام 16 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ ویکسین نہ لگوانے افراد کو مختلف پابندیوں کا سامنا کرنا ہو گا اور ایسے افراد اسٹورز، ثقافتی اورتفریحی مقامات میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔

کورونا: جرمنی میں دس میں ماہ میں سب سے زیادہ اموات

اس فیصلے کا اعلان جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اجلاس کے بعد کیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب جرمنی میں ایک دن میں 70 ہزار سے زائد افراد میں کورونا انفیکشنز کی تشخیص ہوئی ہے۔ رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ نے آج جمعرات دو دسمبر کو بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں نئی انفیکشنز کی تعداد 73,209 تھی۔

فیصلے کی ضرورت

چانسلر میرکل نے کہا کہ ملک ایک انتہائی پریشان کن صورت حال کا سامنا کر رہا ہے اور یہ اقدامات ملکی یک جہتی کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اسکولوں میں ماسک پہننا لازمی رہے گا۔

انگیلا میرکل نے اس متنازعہ تجویز کی تائید کی کہ ویکسین لگوانا لازمی قرار دیا جائےتصویر: Ying Tang/NurPhoto/picture alliance

اس کے علاوہ افراد کے جمع ہونے کی حد بھی کم کر دی گئی ہے۔ میرکل کا یہ بھی کہنا ہے کہ رواں برس کے اختتام تک 30 ملین کورونا ویکسین خوراکیں لگائی جائیں گی۔

کووڈ اقدامات آئینی ہیں، جرمن وفاقی آئینی عدالت

انگیلا میرکل نے اس متنازعہ تجویز کی تائید کی کہ ویکسین لگوانا لازمی قرار دیا جائے۔ ان کے مطابق اس تجویز پر پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لیے بحث کی جائے گی۔ اگر یہ قانون منظور ہو گیا تو اس کا نفاذ اگلے برس فروری سے ہو جائے گا۔ جرمنی کے آئندہ چانسلر اولاف شولس بھی اس تجویز کی حمایت کر چکے ہیں۔

نئے لاک ڈاؤن کا خطرہ، جرمن پرچون فروش خائف

اس وقت جرمنی میں مجموعی آبادی کے 68.4 فیصد کو کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لگ چکی ہیں اور کئی افراد کو بوسٹر شاٹ بھی لگایا جا چکا ہے۔

ع ح/ا ب ا (اے پی، ڈی پی اے)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں