1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمنی میں 2018ء کا استقبال نئی وفاقی حکومت کے بغیر ہی

مقبول ملک نینا وَیرک ہوئزر
26 دسمبر 2017

جدید جرمنی کی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کہ عام انتخابات کے تین ماہ بعد بھی ملک میں نئی وفاقی حکومت قائم نہ ہو سکی ہو۔ ماہرین اس بات پر حیران ہیں کہ انگیلا میرکل ابھی تک مخلوط حکومتی اتحادیوں کی تلاش میں ہیں۔

وفاقی جرمن صدر شٹائن مائر، دائیں، کرسچین سوشل یونین کے سربراہ زے ہوفر، بائیں، اور کرسچین ڈیموکریٹک یونین کی سربراہ انگیلا میرکل کے ساتھتصویر: picture-alliance/Bundesregierung/G. Bergmann

جرمنی میں چوبیس ستمبر کو ہونے والے وفاقی پارلیمانی انتخابات کے بعد چانسلر انگیلا میرکل نے نئی وفاقی حکومت کے قیام کے لیے قدامت پسند یونین جماعتوں سی ڈی یو اور سی ایس یو کی طرف سے ماحول پسندوں کی گرین پارٹی اور ترقی پسندوں کی فری ڈیموکریٹک پارٹی ایف ڈی پی کے ساتھ جو ابتدائی مذاکرات شروع کیے تھے، وہ انیس نومبر کو نصف شب کے قریب اس وقت حیران کن طور پر ناکام ہو گئے تھے جب ترقی پسندوں کی طرف سے غیر متوقع طور پر یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ نئی مخلوط حکومت کے قیام کے لیے میرکل کی پارٹی کرسچین ڈیموکریٹک یونین اور اس کی ہم خیال جماعت کرسچین سوشل یونین کے ساتھ کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ مارٹن شُلستصویر: picture alliance/AP Photo

نئے انتخابات کی ضرورت نہیں ہے، چانسلر میرکل

جرمنی اور یورپ جمود کے متحمل نہیں ہو سکتے

اس موقع پر ترقی پسندوں کی جماعت ایف ڈی پی کے سربراہ کرسٹیان لِنڈنر نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ان کی پارٹی محض حکومت میں آنے کے لیے ایسی پالیسیوں کی حمایت نہیں کر سکتی، جن پر اسے یقین ہی نہیں ہے۔ تب لِنڈنر نے کہا تھا، ’’برے طریقے سے حکومت کرنے سے بہتر ہے کہ حکومت کی ہی نہ جائے۔‘‘

اس طرح انگیلا میرکل 2017ء میں ایک بار پھر وہی کام کرنے میں ناکام رہیں، جو وہ اپنے سیاسی کیریئر میں پہلے تین مرتبہ کر چکی تھیں، یعنی عام انتخابات کے محض چند ہی ہفتوں بعد کسی نہ کسی اتحادی جماعت یا جماعتوں کے ساتھ مخلوط حکومتی معاہدے کو حتمی شکل دینا اور نئی ملکی کابینہ کی تشکیل۔

حکومت سازی کے عمل میں اس مرتبہ میرکل کے پاس امکانات بہت کم ہیں۔ نو منتخب وفاقی پارلیمان میں پہلی بار دائیں بازو کی عوامیت پسند جماعت ’متبادل برائے جرمنی‘ یا اے ایف ڈی بھی 12.6 فیصد ووٹ لے کر نمائندگی حاصل کر چکی ہے، اور اس کے ساتھ مل کر کوئی بھی جماعت حکومت سازی نہیں کرنا چاہتی۔

کرسچین ڈیموکریٹک یونین کی سربراہ انگیلا میرکلتصویر: Reuters/F. Bensch

سیاسی جماعتیں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، جرمن صدر

جرمنی : حکومت سازی کے لیے مذاکرات اچانک رک گئے

میرکل کی پارٹی سی ڈی یو اور اس کی ہم خیال صوبے باویریا کی جماعت سی ایس یو کی گرین پارٹی اور ترقی پسندوں کی جماعت ایف ڈی پی کے ساتھ مل کر نئی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کی ناکامی کے بعد اب صرف ایک ہی راستہ بچا ہے کہ دونوں یونین جماعتیں سوشل ڈیموکریٹس کی جماعت ایس پی ڈی کے ساتھ مل کر نئی حکومت بنائیں۔

لیکن ستمبر کے انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد ایس پی ڈی کے سربراہ اور اس پارٹی کی طرف سے چانسلر کے عہدے کے امیدوار مارٹن شُلس نے تو اسی وقت کہہ دیا تھا کہ ان کی پارٹی اپوزیشن میں بیٹھے گی اور کسی نئی وسیع تر مخلوط حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔

اب ملک میں نئے عام الیکشن کے انعقاد سے بچنے کے لیے میرکل ایس پی ڈی کے ساتھ مل کر ہی حکومت بنا سکتی ہیں اور اس جماعت نے یہ اشارہ بھی دے دیا ہے کہ اس صورت میں وہ قدامت پسندوں کی یونین جماعتوں کے ساتھ بات چیت کر تو سکتی ہے، لیکن اس کا فیصلہ سوشل ڈیموکریٹس کے سیاسی رہنما خود نہیں بلکہ اس پارٹی کے ایک وفاقی کنونشن میں کیا جائے گا۔

فری ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر کرسٹیان لِنڈنرتصویر: Reuters/H. Hanschke

میرکل کی مخلوط حکومت سازی کے مذاکراتی عمل کو دھچکا

’میرکل سن 2021 سے قبل چانسلر کا منصب چھوڑ دیں‘، عوامی رائے

میرکل کے اتحادی ان کی مہاجر دوست پالیسی کے خلاف

انگیلا میرکل ابھی تک اس لیے ایس پی ڈی کے ساتھ مل کر حکومت سازی کی امید لگائے ہوئے ہیں کہ وفاقی جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ موجودہ حالات میں محض چند ماہ بعد ہی ملک میں پھر سے نئے عام انتخابات کے انعقاد کے حق میں نہیں ہیں۔

اس حوالے سے صدر شٹائن مائر کا موقف یہ ہے کہ ایس پی ڈی، جو نومنتخب پارلیمان میں دوسری سب سے بڑی جماعت ہے، اسے بھی اپوزیشن میں بیٹھنے کے اپنے گزشتہ اعلان سے ہٹ کر اس بارے میں ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے کہ دوبارہ الیکشن کرائے بغیر نو منتخب پارلیمان میں سے ہی نئی وفاقی حکومت تشکیل پا سکے۔

جرمن سیاسی بحران، میرکل کے لیے کیا مسائل کھڑے کر سکتا ہے؟

03:18

This browser does not support the video element.

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جرمنی میں نئی حکومت سازی کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا۔ لیکن میرکل ممکنہ طور پر ایس پی ڈی کے ساتھ مل کر تیسری مرتبہ ایک وسیع تر مخلوط حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں، حالانکہ یہ وہ نتیجہ نہیں ہو گا جس کی جرمن رائے دہندگان کی اکثریت نے چوبیس ستمبر کو خواہش کی تھی۔

اب یونین جماعتوں اور ایس پی ڈی کے مابین مل کر ممکنہ حکومت سازی سے متعلق ابتدائی بات چیت سات جنوری کو شروع ہو گی اور وفاقی جمہوریہ جرمنی کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو گا کہ الیکشن کے ایک سہ ماہی بعد بھی ملک میں کوئی نئی حکومت قائم نہیں ہو سکی۔ ابھی تک گزشتہ الیکشن کے بعد بننے والی وسیع تر مخلوط حکومت ہی کام کر رہی ہے، جو قدامت پسند یونین جماعتوں اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ہی پر مشتمل ہے۔

یوں جرمنی اب کسی نئی وفاقی حکومت کے بغیر ہی نئے سال 2018ء میں داخل ہو گا اور ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی مخلوط حکومت کے قیام کی مذاکراتی کوششیں نئے سال میں بھی اتنی طویل ثابت ہوں گی کہ ستمبر میں کیے جانے والے عوامی فیصلے کے نتیجے میں نئی حکومت شاید اگلے برس موسم بہار میں ایسٹر کے مسیحی مذہبی تہوار کے قریب قریب وجود میں آ سکے۔

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں