1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
معاشرہجرمنی

جرمنی: چاقو زنی کے واقعے کے بعد افغانوں کی ملک بدری پر غور

5 جون 2024

وفاقی جرمنی کی وزیر داخلہ نینسی فیزر کا کہنا ہے کہ وہ مجرموں کو افغانستان اور شام جیسے ممالک میں واپس بھیجنے کے اقدامات دوبارہ شروع کرنے کی ''ہر ممکن" کوشش کررہی ہیں۔

وزیر داخلہ نینسی فیزر
وزیر داخلہ نینسی فیزر نے کہا کہ جرمنی کی سلامتی کے مفادات واضح طورپر متاثرہ افراد کے مفادات سے زیادہ اہم ہیںتصویر: Frederic Kern/Geisler-Fotopress/picture alliance

وفاقی جرمن وزیر داخلہ نینسی فیزر نے منگل کے روز کہا کہ جرمنی مجرموں کی افغانستان واپسی دوبارہ شروع کرنے پر غور کررہا ہے۔

سنہ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جرمنی نے افغان تارکین وطن کو افغانستان بھیجنا بند کردیا تھا کیونکہ وہ لوگوں کو ان ممالک میں دوبارہ واپس نہیں بھیجتا جہاں انہیں موت کا خطرہ ہو۔

افغانستان: طالبان کا دوبارہ اقتدار میں آنا اور وہاں کی مجموعی صورتحال جرمن پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت

لیکن ایک افغان پناہ گزین پر گزشتہ جمعے کو من ہائم میں ایک پولیس افسر پر اقو مارنے کا الزام عائد ہونے کے بعد حکام اب اس پالیسی پر نظر ثانی کررہے ہیں۔

وزیر داخلہ نینسی فیزر نے نامہ نگاروں کو بتایاکہ، "میرے لیے یہ بالکل واضح ہے کہ جو لوگ جرمنی کی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ ہیں، انہیں فوری طورپر ملک بدر کیا جانا چاہئے۔"

انہوں نے مزید کہا"میں اس بات پر بھی پوری طرح اٹل ہوں کہ جرمنی کی سلامتی کے مفادات واضح طورپر متاثرہ افراد کے مفادات سے زیادہ اہم ہیں۔"

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ " اسی لیے ہم مجرموں اور خطرناک لوگوں کو شام اور افغانستان دونوں میں ہی ڈی پورٹ کرنے کے طریقے تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔"

جمعے کے روز مین ہائم میں ایک اسلام مخالف ریلی کے دوران ایک پولیس افسر کو چاقو مارنے کا مہلک واقعہ پیش آیا تھاتصویر: Thomas Frey/dpa/picture alliance

پناہ کے متلاشیوں کی ملک بدری پر بحث پھر شروع

غیر محفوظ سمجھے جانے والے ممالک کے پناہ کے متلاشیوں کو ملک بدر کرنے کے متعلق ہونے والی بحث یورپی یونین کے انتخابات سے کچھ دن قبل ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہے۔ ان انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے بہتر کارکردگی کی توقع کی جارہی ہے۔

یورپی یونین کی ریاستیں کس طرح ہجرت کو روکنے کی کوشش کرتی ہیں

یورپی یونین میں سیاسی پناہ کے لیے ریکارڈ دس لاکھ درخواستیں

جمعے کے روز مین ہائم میں ایک اسلام مخالف ریلی کے دوران ایک پولیس افسر کو چاقو مارنے کا مہلک واقعہ پیش آیا تھا۔

میڈیا نے بعد میں مشتبہ شخص کی شناخت 25 سالہ شخص کے طورپر ہوئی جو مارچ 2013 میں سیاسی پناہ کے متلاشی کے طورپر جرمنی پہنچا تھا۔

جرمن اخبار بلڈ کے مطابق اگر چہ ابتدائی طور پر اسے پناہ دینے سے انکار کردیا گیا تھا لیکن اسے ملک بدر نہیں کیا گیا کیونکہ اس وقت اس کی عمر 14 سال تھی۔

جرمن اخبار اسپیگل کے مطابق مشتبہ شخص نے بعد میں ایک اسکول میں داخلہ لیا اور سنہ 2019میں ایک ترک نژاد جرمن خاتون سے شادی کی، جس سے اس کے دو بچے ہیں۔

حکام نے مشتبہ شخص کو کبھی بھی ممکنہ خطرے کے طورپر نہیں دیکھا اور اس کے پڑوسیوں کا بھی کہنا تھا وہ انتہاپسندانہ خیالات کا حامل دکھائی نہیں دیتا تھا۔

ج ا / ص ز(ڈی پی اے، اے ایف پی، روئٹرز، ای پی ڈی)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں