1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستجرمنی

جرمنی، چانسلر کے امیدوار سے فراڈ کی تحقیقات میں پوچھ گچھ

20 ستمبر 2021

جرمن اراکینِ پارلیمنٹ نے ایس پی ڈی کے اہم سیاستدان اور وزیر خزانہ اولاف شولس سے ممکنہ مالیاتی فراڈ کے حوالے سے پوچھ گچھ کی ہے۔ اولاف شولس اس وقت پارلیمانی انتخابات میں چانسلر کا منصب سنبھالنے کے مضبوط امیدوار ہیں۔

Olaf Scholz
تصویر: Kay Nietfeld/dpa/picture alliance

 سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے اہم سیاستدان اولاف شولس کو پیر بیس ستمبر کو ملکی پارلیمنٹ کی مالیاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑا۔ اس پارلیمانی انکوائری کا تعلق جرمن شہر کولون کے ایک ادارے فنانشل انٹیلیجنس یونٹ کے بارے میں جاری تفتیش سے ہے۔

جرمن الیکشن: ہزاروں معذور افراد بھی ووٹ ڈال سکیں گے

اس ادارے کے دفتر پر نو ستمبر کو جرمن وزراتِ مالیات اور انصاف کے اہلکاروں اور دفترِ استغاثہ کے اراکین نے مشترکہ طور پر چھاپا مارا تھا۔ اس ادارے پر ممکنہ طور پر منی لانڈرنگ کے ارتکاب کا الزام عائد ہو سکتا ہے۔

جرمن سیاسی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما اولاف شولستصویر: Daniel Lakomski/Jan Huebner/imago images

پارلیمانی کمیٹی کی پوچھ گچھ

اولاف شولس اس وقت جرمن پارلیمانی انتخابات کے نتیجے میں تشکیل پانے والی پارلیمان کی امکانی طور پر سب سے بڑی پارٹی ایس پی ڈی کی جانب سے چانسلر کے منصب کے امیدوار ہیں۔ اس پارٹی کی مقبولیت کی شرح چھبیس فیصد سے زائد ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اولاف سے کس نوعیت کی انکوائری کی گئی ہے۔

اس پارلیمانی پوچھ گچھ کے بعد اولاف شولس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں فنانس منسٹری نے ایسے اہم تادیبی اقدامات اٹھائے ہیں کہ کوئی بھی جرم کرنے والا کسی بھی طور پر بچ نہیں سکتا۔انتخابات میں مقابلہ سخت ہو گا، لاشیٹ

 

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق داخلی ذرائع نے بتایا ہے کہ کمیٹی کو جمع کرائے جانے والے بیان میں شولس نے یہ موقف بھی اپنایا کہ کوئی بھی وزیر کسی بھی مسئلے کو انگلی کے ایک اشارے سے حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

سی ڈی یو کی تنقید

انگیلا میرکل کی موجودہ حکمران سیاسی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) اور اس کی حلیف کرسچین سوشل یونین (سی ایس یو) نے اولاف شولس کے پارلیمانی کمیٹی میں شریک ہونے سے قبل جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزارتِ خزانہ کا قلمدان رکھنے والے وزیر اپنے دور میں منی لانڈرنگ کے حساس معاملے کے خلاف اپنی جد وجہد میں ناکام رہے ہیں۔

کرسچین سوشل یونین سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمان ہانس مشیل باخ کا کہنا ہے کہ اس سارے معاملے میں کئی ایسی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں، جن کا جواب اولاف شولس کو بطور وزیر خزانہ دینا ہے۔

جرمنی میں نئے چانسلر کے تین اہم امیدوار دائیں جانب سے: اولاف شولس (ایس پی ڈی)، انالینا بئربوک (گرین)، آرمین لاشیٹ (سی ڈی یو)تصویر: SvenSimon/dpa/picture alliance

انکوائری کا وقت اور الیکشن

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اولاف شولس کو چھبیس ستمبر کے پارلیمانی انتخابات سے محض پانچ دن قبل اس انکوائری کے منفی اثرات کا سامنا ہو سکتا ہے اور ان کی عوامی مقبولیت کا گراف گر سکتا ہے۔

ان مبصرین کے مطابق جرمن عوام مالی بے ضابطگیوں کے معاملات کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ایس پی ڈی کو اس مناسبت سے بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

04:07

This browser does not support the video element.

یہ بھی خیال کیا گیا ہے کہ اس کا فائدہ یقینی طور پر کرسچین ڈیموکریٹک یونین کو مل سکتا ہے۔ دوسری جانب موجودہ حکمران سیاسی جماعت سی ڈی یو کی مقبولیت کا گراف مسلسل نیچے کی جانب ہے۔

اتوار کی رات ہونے والے تیسرے الیکشن مباحثے میں بھی رائے عامہ کے جائزے میں شولس کو فاتح قرار دیا گیا تھا۔ سی ڈی یو کی عوامی مقبولیت اکیس فیصد کے لگ بھگ ہے جب کہ ایس پی ڈی کو پانچ پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔

ع ح/ ا ا (اے ایف پی)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں