جرمنی اپنی تین سرحدیں مکمل طور پر 15 جون کو کھول دے گا۔ تاہم دیگر ممالک کو فی الحال انتظار کرنا ہو گا۔ جرمن سرحدوں کو کھولے جانے سے متعلق کچھ اہم معلومات۔
تصویر: picture-alliance/dpa/A. Franke
اشتہار
جرمنی نے کورونا بحران کی وجہ سے بند کی گئی اپنی سرحدیں کھولنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ ان سرحدوں کو بتدریج مختلف ملکوں کے اعتبار سے کھولا جائے گا۔
سرحدیں کھولنے کے پہلے مرحلے کا آغاز ہفتہ 17 مئی سے ہو گا جبکہ دوسرا مرحلہ 15 جون سے شروع ہو گا۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ سرحدیں کھولنے کے اس منصوبے کو کورونا وائرس کی وبائی صورتحال کے حساب سے تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال کیا ہے؟
جرمنی نے اپنی تقریبا تمام ہی سرحدیں 16 مارچ کو بند کر دی تھیں اور صرف انہی لوگوں کو سرحد پار کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے جن کے پاس سفر کی لازمی وجہ موجود ہو۔ مثال کے طور پر ٹرک ڈرائیور، طبی عملہ اور سرحد پر کام یا کسی دوسری اہم ضرورت کے تحت آنے جانے والے۔ تاہم یہ صورتحال جلد تبدیل ہونے والی ہے۔ جرمنی نے تاہم غیر ممالک میں سیاحت کے حوالے سے انتباہ 14 جون تک کے لیے جاری کیا ہوا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/F. Kästle
ہفتے کے روز کیا ہو گا؟
ہفتہ 17 مئی کو ایک ہمسایہ ریاست لکسمبرگ کے ساتھ سرحد کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ لکسمبرگ سے آنے یا جانے کے حوالے سی کوئی سفری شرائط باقی نہیں رہیں گی۔
فرانس، آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر پابندیاں نسبتا کم کر دی جائیں گی۔ مسلسل اور ہر ایک کی جانچ پڑتال کی بجائے اس سلسلے میں کمی لائی جائے گی۔ سرحد پار آنے جانے کی اجازت رکھنے والوں کے لیے سفر میں آسانی پیدا کی جائے گی۔ اس کے علاوہ سرحدوں پر آنے جانے کے لیے دیگر مقامات کو بھی کھولا جائے گا اور کاروبار اور خاندان کے افراد سے ملنے کے لیے بھی سفر کی اجازت دے دی جائے گی۔
جون 15 کو کیا ہو گا؟
جرمن حکومت 'یورپ میں آزادانہ سفر‘ کی بحالی جون کے وسط سے چاہتی ہے۔ فرانس، آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ کے ساتھ سرحدیں مکمل طور پر کھول دی جائیں گی اور سفر کے لیے کسی طرح کی کوئی پابندی باقی نہیں رہے گی۔
یورپ بھر میں لاک ڈاؤن
نئے کورونا وائرس سے نمٹنے کی خاطر سماجی میل ملاپ سے اجتناب اور سفری پابندیوں کی وجہ سے یورپ میں سیاحت کے ليے مشہور بڑے بڑے شہر بھی سنسان ہو گئے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/T. Camus
پیرس میں لاک ڈاؤن
فرانسیسی حکومت کی طرف سے گزشتہ جمعرات کو ملکی سطح پر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں سیاحوں میں مشہور خوابوں کا شہر پیرس بھی بالکل خاموش ہو گیا ہے۔ پیرس کے مقامی باسیوں کو بھی کہہ دیا گیا ہے کہ وہ ضروری کام کے علاوہ گھروں سے نہ نکلیں۔ یہ وہ شہر ہے، جس کے کیفے جنگوں میں بھی کبھی بند نہیں ہوئے تھے۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/T. Camus
برلن میں خاموشی کا راج
جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اتوار کے دن سخت اقدامات متعارف کرائے۔ نئے کورونا وائرس پر قابو پانے کی خاطر نو نکاتی منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ دو سے زیادہ افراد عوامی مقامات پر اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ لوگوں کو کہا گیا ہے کہ وہ کووڈ انیس کے پھیلاؤ کو روکنے کی خاطر آپس میں ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ رکھیں۔ جرمن عوام اس عالمی وبا سے نمٹنے میں سنجیدہ نظر آ رہے ہیں، اس لیے دارالحکومت برلن بھی خاموش ہو گیا ہے۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/M. Schreiber
غیرملکیوں کے داخلے پر پابندی اور سرحدیں بند
اس عالمی وبا پر قابو پانے کے لیے برلن حکومت نے غیر ملکیوں کے جرمنی داخلے پر بھی کچھ پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس قدم کی وجہ سے یورپ کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہونے والے فرینکفرٹ ایئر پورٹ کی رونق کے علاوہ اس شہر کی سڑکوں پر ٹریفک میں بھی خاصی کمی واقع ہوئی ہے۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/M. Probst
باویرین گھروں میں
رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے جرمن صوبے باویریا میں گزشتہ ہفتے ہی لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ نئے کورونا وائرس سے نمٹنے کی خاطر اس صوبے میں ابتدائی طور پر دو ہفتوں تک یہ لاک ڈاؤن برقرار رہے گا۔ یوں اس صوبے کے دارالحکومت ميونخ میں بھی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
تصویر: Imago Images/Zuma/S. Babbar
برطانیہ میں بھی سخت اقدامات
برطانیہ میں بھی تمام ریستوراں، بارز، کلب اور سماجی رابطوں کے دیگر تمام مقامات بند کر دیے گئے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر اور سماجی رابطوں سے احتراز کریں۔ یوں لندن شہر کی طرح اس کی تاریخی میٹرو لائنز بھی سنسان ہو گئی ہیں۔
تصویر: AFP/T. Akmen
میلان شہر، عالمی وبا کے نشانے پر
یورپ میں کووڈ انیس نے سب سے زیادہ تباہی اٹلی میں مچائی ہے۔ اس ملک میں دس مارچ سے ہی لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ کوششوں کے باوجود اٹلی میں کووڈ انیس میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ پریشانی کا باعث ہے۔ میلان کی طرح کئی دیگر اطالوی شہر حفاظتی اقدمات کے باعث ویران ہو چکے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/L. Bruno
ویٹی کن عوام کے لیے بند
اٹلی کے شمالی علاقوں میں اس عالمی وبا کی شدت کے باعث روم کے ساتھ ساتھ ویٹی کن کو بھی کئی پابندیاں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ویٹی کن کا معروف مقام سینٹ پیٹرز اسکوائر عوام کے لیے بند کر دیا گیا ہے جبکہ اس مرتبہ مسیحیوں کے گڑھ ویٹی کن میں ایسٹر کی تقریبات بھی انتہائی سادگی سے منائی جائیں گی۔
تصویر: Imago Images/Zuma/E. Inetti
اسپین بھی شدید متاثر
یورپ میں نئے کورونا وائرس کی وجہ سے اٹلی کے بعد سب سے زیادہ مخدوش صورتحال کا سامنا اسپین کو ہے۔ ہسپانوی حکومت نے گیارہ اپریل تک ملک بھر ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ اسپین میں زیادہ تر متاثرہ شہروں مییں بارسلونا اور میڈرڈ شامل ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/X. Bonilla
آسٹریا میں بہتری کے آثار
آسڑیئن حکومت کے مطابق ویک اینڈ کے دوران نئے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والوں کی شرح پندرہ فیصد نوٹ کی گئی، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔ قبل ازیں یہ شرح چالیس فیصد تک بھی ریکارڈ کی گئی تھی۔ ویانا حکومت کی طرف سے سخت اقدامات کو اس عالمی وبا پر قابو پانے میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تصویر: AFP/H. Neubauer
9 تصاویر1 | 9
دیگر ممالک سے بھی جرمنی میں داخلے کی اجازت دی جائے گی مگر ابھی یہ طے ہونا باقی ہے۔
بیلجیم اور ہالینڈ کے حوالے سے کیا ہو گا؟
بیلجیم اور ہالینڈ کے ساتھ سرحدیں اس وقت بھی تقریبا کھلی ہوئی ہیں۔ صوبائی حکومتوں کے قوانین کے مطابق تاہم شہری علاقوں سے باہر کہیں کہیں جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس صورتحال میں کیا تبدیلی ہو گی۔
ڈنمارک کے بارے میں کیا ہو گا؟
ڈنمارک کے ساتھ سرحد کھولنے کے معاملے پر ابھی غور وخوض جاری ہے، مگر اس بات کا امکان موجود ہے کہ یہاں بھی لکسمبرگ کی طرح کی صورتحال ہو جائے۔ اس وقت ڈنمارک اپنے دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدیں کھولنے کے حوالے سے ایک معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پولینڈ اور چیک ری پبلک کی سرحد کا کیا ہو گا؟
پولینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی سرحد 12 جون تک بند ہی رکھے گا۔ جرمنی اس وقت پولینڈ اور چیک ری پبلک کے ساتھ سرحدی کنٹرول اور سفر کرنے والوں کے قرنطینہ میں رکھنے کے حوالے سے گفت و شنید کے مرحلے میں ہے اور ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔